محکمہ صحت کی رپورٹ
23 مارچ 2018

صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیاکہ محکمہ صحت کی طرف ڈاکٹرز کی 22ہزار پوسٹوں کے تحلیق کا بھی دعویٰ کیا ہے یعنی 22ہزار ڈاکٹرز کی بھر تیاں کی گئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 7075کے قریب میڈیکل افسروں کو بھی بھرتی کیا گیا ہے ۔مزید بجٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت نے دو برسوں میں صحت کے بجٹ کو33ارب سے بڑھا کر66ارب تک پہنچایا گیا جس کی تفصیل بتائی گئی کہ محکمہ صحت کا بجٹ 2012-2013میں 30.2بلین روپے تھاجسے 2017-2018میں بڑھا کر66.49روپے کر دیا ہے یعنی بجٹ میں اضافہ کی رفتارآدھے سے بھی زیادہ ہے اس رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ہسپتالوں کے آلات و مشینری کی خریداری کے لیے 3ارب روپے مختص کئے گئے جب کہ پہلی بار ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کو متعارف کرایاجس میں مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیو نٹی مڈوائفر ،ای پی آئی کے لیے ڈیش بورڈ رکھے گئے صحت سہولیات پروگرام منصوبے میں 69فیصد آبادی کو مفت علاج فراہم کیاجا رہا ہے اسی طرح بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات 52.7فیصدسے بڑھا کر55.5فیصد ہو گیا محکمہ صحت کی جانب سے یہ رپورٹ دو سالہ کادرکردگی کی بنا پر کتابچے کی صورت میں کیا گیااس رپورٹ کے مطابق صوبے میں تربیت یافتہ عملے سے زچگیوں کی شرح 48فیصد سے بڑھ کر 72فیصد تک پہنچ گئی ہے ہاں ایک بات صوبے میں صحت کے متعلق 14 قانون سازی
کی گئیں ایک امریکی کہاوت ہے Most Important in the world is how to live alive ?(دنیا میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیسے زندہ رہا جائے ؟)کب تک زندہ رہنا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے کوشش کرے ۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبائی بجٹ بڑھا کر کارنامہ توسرانجام دیا ہو گااس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خیبرپختونخوا نے اعلاج معالجہ کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز حضرات کی تنخوائیں بڑھا کر پرائیویٹ کلینک بند کروا دیے گئے اس سے ایک تو ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں باقاعدگی سے آنا شروع کیااور لالچ کے بغیر مریض کو چیک بھی کرتے ہیں پشاور اور کسی حد تک صوبے کے دیگر اضلاع میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں مفت اعلاج کے دعوے بھی کسی حد تک درست ہیں ہم صوبائی حکومت کے اس رپورٹ کو درست قرار دیتے بھی ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے اور بجٹ بڑھانا اس بات کا عندیا دہتا ہے کہ صوبے میں بیماری بڑھنے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے کما ل یہ نہیں کہ صوبائی حکومت نے صحت کا بجٹ بڑھا دیا بلکہ دیکھنا ہے یہ کہ صوبے میں بیماری کی شرح بڑھی ہے کہ نہیں اس حوالے سے دیکھا جائے توبیماری کی شرح بڑھی ہے جیساء کہ ایک اندازے کے مطابق بلڈپریشرکے بڑھ جانے کے باعث 50فیصد لوگ امراض قلب33فیصد دماغ کی شریانوں کے پھٹے اور 10سے15فیصد لوگ گردوں کے ناکارہ ہو جانے سے زنددگی کی بازی ہار جاتے ہیں امراض قلب میں جس طرح آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ 2025تک افراض قلب کے مریضوں میں دوگنا اضافہ ہوتا جائے گا۔اسی طرح شوگر اور ہیپا ٹائٹس کے مرض میں جس طرح اضافہ ہوتا جا رہا ہے معاشرے میں ہر تیسرا بندہ یا تو شوگر کے مرض کا یا پر ہیپاٹائٹس کے مرض کا شگا ر ہے یعنی بیماریوں میں آئے دن اضافہ سے صحت مند معاشرہ کا قیام حکومت کے دعوؤں کے برعکس ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ان عوامل کے روک تھام کے لیے اقدامات کرے جو بیماریوں کے بڑھانے کا سبب بنتا ہے جیسا کہ صحت سے متعلق ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 80فیصد امراض آلودہ پانی کی وجہ سے لاحق ہو رہے ہیں ہیپا ٹائٹس کے
مرض بڑھنے کی وجہ بھی آلودہ پانی ہی بتایا جاتا ہے اور اس وقت ہیپاٹائٹس کا مرض بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی سڑکوں پر زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں صرف فضائی آلودگی کا باعث ہی نہیں بنتیں بلکہ طرح طرح بیماریوں کا موجب بھی بن رہی ہیں لیکن حکومت اس کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے اسی کھانے پینے کے غیر معیاری اشیاء سے بھی بیماریوں میں دن بندن اضا فہ ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر ڈبے کا دودھ جس کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی نوٹس لیا ہے کہ ڈبے کا دودھ مضحر صحت ہے لیکن حکومت نے اس کے روک تھام کے لیے بھی اقدامات نہیں کیے انسانی حقوق کی پامالی ،مادہ پرستی، بدعنوانی،بے روزگاری، ناانصافی، سماجی رویوں میں کمی، تعصب ،تشدداور غربت وغیرہ نے جن مسائل کے شدت میں اضافہ کیاوہ بالا آخر نفسیاتی امراض پر ختم ہورہے ہیں صوبائی حکومت نے بیماریوں کے روک تھا م کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے بیمار رہنا قابل تعریف نہیں بلکہ صحت رہنا کمال کی بات ہے صحت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ایک عظیم نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اس لیے صحت کے متعلق بجٹ بڑھانا قابل تعریف تو ہے مگر کمال تو ایک صحت مند معاشرہ کا قیام ہے جب تک صحت مند معاشرہ قائم نہیں ہو تا اور بیماریوں کے روک تھام کے لیے اقدامات نہیں ہوتے تب تک صحت کے متعلق صوبائی حکومت کے دعوے بے بنیاد نظر آتے ہیں ۔


ای پیپر