پنجاب ایگزامینیشن کمیشن:تعلیمی پستی کی ذمہ دار
23 مارچ 2018 2018-03-23

امتحانات ہم نے بھی دیئے (مگر کچھ ضرورت سے زیادہ ہی امتحانات میں پڑے رہے اور اب بھی شاید امتحانات میں ہی زندگی بسر ہو رہی ہے) پاس بھی ہوئے اور کئی طرح کی ڈگریوں کے حق دار بھی ٹھہرے۔ ان میں سے کئی ڈگریاں عملی زندگی میں کام آئیں اور ان کے بل بوتے پر ہم معاشرے میں پڑھے لکھے گردانے جانے لگے۔ اور کئی ڈگریاں طاق نسیاں ہو گئیں۔ جو مرنے کے بعد کل اثاثہ جانی جائیں گی۔ ہاں البتہ ان ڈگریوں کے ساتھ حسینوں کے خطوط نہیں نکلیں گے کیونکہ وہ ہم نے اپنی حیات ناتواں میں ہی سپرد آب کر دیئے ہیں۔ میری ایک قبیح عادت ہے کہ میں فارغ وقت میں بن بلائے کئی جگہوں پر پہنچ جاتا ہوں اور ساتھ ہی معائنہ بھی شروع کر دیتا ہوں۔ ان عادتوں میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ میں اپنے دوستوں (جو سکول میں بطور ٹیچرز اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں) کے پاس ہر سال کسی نہ کسی موسم میں
ضرور جاتا ہوں۔ گپ شپ اور چائے کے کپ کے ساتھ تعلیمی مسائل سے آگاہی ضرور ہوتی ہے۔ اصل میں تعلیمی ادارے بچوں کی تعلیمی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی نشوونما، مذہبی اور اخلاقی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ مگر ہمارے اداروں میں یہ انحطاط حد درجہ موجود ہے۔ اس دفعہ فارغ البالی کے مصرف کے لیے میں نے ایک ادارے کی طرف رخ کیا۔ میں یونہی اس ادارے میں داخل ہوا تو دنگ رہ گیا کہ بچوں کے علاوہ کچھ پرائیویٹ لوگ بھی سکول میں موجود تھے۔ خبر ملی کہ کلاس پنجم کے امتحانات اختتام پذیر ہو چکے ہیں اور آج کلاس ہشتم کے امتحانات کا پہلا دن ہے۔ اس لیے بچوں کے والدین انہیں سنٹر میں چھوڑنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ دونوں امتحانات پنجاب ایگزامینیشن کمیشن جسے PEC کہتے ہیں کنڈکٹ کرواتا ہے اور یہ ادارہ پورے پنجاب میں اپنی ’’اصلی اور نقلی‘‘ خدمات سرانجام دیتا ہے۔ ہم نے اپنے زمانے میں کلاس پنجم کا امتحان ’’سنٹر امتحان‘‘ دیا تھا اور اچھا خاصا ٹف امتحان تھا۔ ٹف سے مراد نقل سازی کا کوئی رجحان نہ تھا اور امتحانی قانون سازی اپنے عروج پر تھی۔ واضح رہے میں نے یہ امتحان ٹاپ کیا تھا۔ ہمارا زمانہ کوئی قرون اولیٰ کا زمانہ نہ تھا۔ فقط 1986 ء کی بات ہے۔ دوسرا اس دور میں کلاس ہشتم کا امتحان سکول بذات خود کنڈکٹ کرتا تھا۔ ہاں البتہ اچھے بچے وظیفہ کے لیے تیار کیے جاتے تھے اور یہ فریضہ جناب محمد رفیع چودھری جناب حاجی حبیب اللہ بھٹی مرحوم، جناب محمد انور عادل مرحوم اور جناب محمد ارشد چودھری بغیر معاوضے کے سر انجام دیا کرتے تھے۔ میرے یہ اساتذہ اکرام سکول لگنے سے ایک گھنٹہ پہلے اور ایک گھنٹہ چھٹی کے بعد پوری ایمانداری اور دل جمعی سے پڑھایا کرتے تھے۔ محمد انور عادل مرحوم تو اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ بقول غالب:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
میں ذرا جذبات کی رو میں بہہ گیا تھا۔ کلاس ہشتم کا پرچہ اپنے وقت کے مطابق شروع ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد دو، دو چار، چار اساتذہ پر مشتمل ٹولیاں تشکیل پانے لگی اور آپس میں کھسر پھسر ہونے لگی۔ میں اپنی کرسی پر اکیلا ہی کے بعد دو دو چار چار اساتذہ پر مشتمل ٹولیاں تشکیل پانے لگیں اور آپس میں کھسر پھسر ہونے لگی، میں اپنی کرسی پر اکیلا ہی ہواؤں سے باتیں کرنے لگا۔ تمام احباب اپنے کارِ سرکار میں مصروف ہو گئے۔ میں ہکا بکا رہ گیا کہ ان کے میں ہاتھ میں سوالیہ پرچہ جات ہیں اور امدادی کتب سے سوال تلاش کیے جانے کا عمل جاری ہے۔ جس استاد کو سوال مل جاتا وہ اس کو علیحدہ کاغذ پر حل کرنے میں جت جاتا، جو حل کر لیتا وہ کمرہ امتحان میں اس سوال کو پہنچانے کے لیے تگ و دو کرنے لگ جاتا۔ ایک استاد نے تو ’’کاربن پیپرز‘‘ کا استعمال کیا تا کہ وہ خدمت خلق کا فریضہ ایک ہی بار کرے۔ میرے لیے یہ تمام مناظر حیران کن تھے اور میں محو حیرت بھی تھا کہ یہ ایسا کیونکر کر رہے ہیں۔۔۔؟ جب تمام احباب اپنے ممکنہ فرائض سے سبکدوش ہو گئے تو میں نے از راہ تلطف
پوچھا! بتانے لگے کہ ہماری C.E.O(چیف ایگزیکٹو آفیسر) کا حکم ہے کہ میرے ضلع کا رزلٹ سوفیصد ہونا چاہیے، خواہ آپ کو جتنے بھی پاپڑ بیلنے پڑیں۔ انہوں نے یہ ہدایت امتحانی عملہ کے ساتھ ساتھ پیپر مارکنگ عملہ کو بھی جاری کی ہے کہ آپ کے پاس ایک اضافہ پن، پنسل ہونی چاہیے تا کہ آپ بچے کے غلط سوال کو درست کر سکیں۔ مزید برآں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کام پورے پنجاب میں ہوتا ہے۔ حکومت خود بھی کسی بچے کو فیل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اور نہ ہی فیل کرنے کے حق میں ہے۔ بقول شاعر
خرچ لمحوں میں تیرے دست کشادہ سے ہوئے
کتنی صدیوں کی مشقت سے کمائے ہوئے لوگ
تھوڑی سی تحقیق کے بعد پتا چلا کہ یہ تمام عمل سچ ہے اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اساتذہ کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کا رزلٹ سوفیصد بن جاتا ہے۔ ECO صاحبان کا ضلع ٹاپ ٹن میں آجاتا ہے۔ حکومت کا لٹریسی ریٹ اوپر آجاتا ہے۔ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن فنڈز میں گھپلے کرنے کا ایماندار موقع ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ECO (زمانہ) کا ضلع تعلیمی میدان میں تین مرتبہ پہلے نمبر آیا۔ اس خوشی اور ایماندارانہ محنت پر ایک (ن) لیگی ایم پی اے نے ایک عدد پن گفٹ کیا۔ جس کی قیمت اس کے بقول پنتالیس ہزار روپیہ سکہ رائج الوقت تھی۔ یہ تعلیمی کرپشن اور بے اایمانی اپنی جگہ ایک مستند حقیقت کی حامل ہے۔ مگر اس عمل سے نوخیز ذہنی صلاحیت کے بچوں میں کرپشن، بے ایمانی، محنت سے جی چرانے کی عادات پختگی کی طرف رواں دواں ہیں۔ یہی بچے جب اگلی کلاس یعنی کلاس نہم میں آتے ہیں تو وہ یہی توقع لے کر امتحانی سنٹر میں داخل ہوتے ہیں کہ یہاں بھی بوٹی اور نقل سازی جیسے مال و اسباب میسر ہوں گے۔ مگر اس امتحان کا ماحول یکسر مختلف ہوتا ہے اور تقاضے بھی الگ ہوتے ہیں۔ یہی بچے جب فیل ہوتے ہیں تو تعلیم کو خیرباد کہہ کر مختلف جرائم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نشہ، چوری، ڈاکہ زنی، حتیٰ کہ قتل و غارت جیسی وارت ان کا مقدر بن جاتی ہیں اور یہ عوامل معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ صاحب کبھی نقل سازی کے حد درجہ خلاف تھے۔ شاید آج کل ان کی نظر نقل مکانی پر ہے۔ شاید اس لیے یہ عمل ان کی نظر سے اوجھل ہے۔ اگر یہ عمل ایسے ہی نظروں سے اوجھل رہا تو وہ وقت نزدیک ہے کہ نوجوان نسل نقل سازی اور کرپشن میں ماہر ہو جائے گی اور گناہوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دے گی۔ لہٰذا پنجاب ایگزامینیشن کمیشن جیسا ادارہ ختم کر کے ملکی سرمایہ بچایا جائے اور درجہ وائز امتحان سکولوں میں ہی لیے جائیں کیونکہ سب کو پاس کرنے کا مقصد سکولز لیول پر بھی پورا ہو سکتا ہے۔


ای پیپر