میاں صاحب آپ بھی صلح کر لیں
23 مارچ 2018

دوسری جنگ عظیم میں ملکہ برطانیہ کو فوج کی قلت کا سامنا تھا۔ ملکہ نے بر صغیر پاک و ہند سے جوانوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرگودھا کے نوجوان قد کاٹھ، جسامت اور بہادری میں باقی علاقوں سے بہتر سمجھے جاتے تھے۔ لہٰذا سرگودھا کے نوجوانوں کو ملکہ برطانیہ کی خاطر لڑنے کے لئے چن لیا گیا۔ مکھیا کو بلاکر ملکہ کا پیغام دیا گیا۔ مکھیا نے سرگودھا کے نوجوانوں کو روداد سنائی تو نوجوانوں نے شرط رکھی کہ وائسرائے خود سرگودھا آئے اور ہم سے ملے۔وائسرائے مجبوراً سرگودھا پہنچ گیا۔وائسرائے نے نوجوانوں سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ملکہ برطانیہ نے آپ پر آج تک لاتعداد احسانات کیے ہیں۔ ملکہ نے آپ کے لیے ریلوے ، ٹیلی گراف، سکولز، کارخانے اور نہری نظام جیسے منصوبے لگائے ہیں۔اب ملکہ کے ان گنت احسانات کا بدلہ چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ ملکہ کو دوسری جنگ عظیم جیتنے کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے اورآپ لوگوں کی سپورٹ کے بغیر ملکہ جنگ نہیں جیت سکے گی۔ نوجوان خاموشی سے وائسرائے کی تقریر سنتے رہے۔ وائسرائے خاموش ہوا تو نوجوانوں کا نمائندہ کھڑا ہوا اور وائسرائے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جے گل ساڈے تے آ گئی اے تے ملکہ نوں کہہ دیو کہ او دشمناں نل صلح کر لوے‘‘ (اگر بات ہمارے اوپر آ گئی ہے تو ملکہ سے کہہ دو کہ وہ جنگ ختم کر کے دشمنوں سے صلح کر لے۔ ہم ملکہ کو بچانے کے لیے نہیں لڑیں گے)۔ وائسرائے کو اس دن اندازہ ہوا کہ انہوں نے غلط گھوڑوں پر پیسہ لگایا ہے۔ جن لوگوں کو فرنگی ملکہ برطانیہ کی طاقت سمجھتے تھے وہ حقیقت میں ملکہ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ وہ ملکہ برطانیہ کے بر صغیر کے ترقیاتی کاموں کو ملکہ برطانیہ کا ذاتی فائدہ سمجھتے ہیں اور برطانوی سامراج نے ان پر بھروسہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔
آپ یقیناًسوچ رہے ہوں گے کہ میں آپ کو تاریخ
کایہ واقعہ کیوں بتا رہا ہوں؟ دراصل برطانوی سامراج کا یہ واقعہ میاں نواز شریف کی موجودہ عدلیہ مخالف تحریک سے مماثلت رکھتا ہے۔
28جولائی 2017ء کو جب نواز شریف کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے نا اہل قرار دیا تو انہوں نے عدلیہ مخالف تحریک چلانے کا آغاز کیا۔ وہ اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ جلسے کرتے ہوئے پہنچے اور ان تمام جلسوں میں انہوں نے عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان تمام تقریروں میں وہ عوام کو اپنے کیے گئے ترقیاتی کاموں، بجلی کے منصوبوں، سی پیک،سڑکوں اور پلوں کے لاتعداد منصوبے یاد دلاتے رہے۔ جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ان کاموں کے بدلے وہ عوام سے امید کر رہے ہیں کہ جس دن سپریم کورٹ ان کو پانامہ کیس میں سزا سنائے گی پاکستانی عوام سپریم کورٹ کے خلاف نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور عدلیہ کے فیصلوں کو مسترد کر کے انہیں سزا سے بچا لیں گے۔ لیکن میاں نواز شریف اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پارہے کہ پاکستانی قوم کی اکثریت انہیں پانامہ میں مجرم سمجھتی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اگر نواز شریف یہ حساب نہیں دے پارہے کہ انہوں نے یہ جائیدادیں کہاں سے بنائی ہیں تو یقیناًانہوں نے پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر یہ جائیدادیں بنائی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو ترقیاتی کام نواز شریف گنوا رہے ہیں ان میں بھی ان کا ذاتی فائدہ پوشیدہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ریکارڈ قرضے لے کر نواز شریف نے پاکستانی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور نواز شریف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی اکانومی اس وقت آئی سی یو میں داخل ہو چکی ہے۔ میاں صاحب سمجھ رہے ہیں کہ جلسے میں عوام کا جم غفیر اکٹھا کر لینا کامیابی ہے۔ لیکن میاں صاحب اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتے کہ یہ جم غفیر تمام سرکاری اور حکومتی وسائل استعمال کر کے لایا جاتا ہے۔ یہ جم غفیر کسی نظریے کے خلاف یا حق میں جلسوں میں نہیں آ رہا بلکہ بریانی کی پلیٹوں اور پیسوں کے عوض لایا جاتا ہے۔ میاں صاحب عوام آپ کے عدلیہ مخالف نظریے کے ساتھ ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ اس وقت ہو گا جب آپ کی پارٹی حکومت میں نہیں ہو گی۔ جب آپ کے پاس سرکاری وسائل نہیں ہوں گے اس دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
میاں صاحب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ جب آپ پر برا وقت آئے گا اور آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو عوام آپ کو بچانے کیلیے پیچھے کھڑے ہوں گے تو آپ یقیناًغلط فہمی کا شکار ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے عوامی رد عمل کے نتیجے میں بدلے نہیں جا سکتے۔ پانامہ کیس میں اگر آپ کو سزا ہو گئی تو آپ کو وہ سزا بھگتنا ہو گی۔ آپ جن لوگوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں وہ لوگ اس جنگ کے لیے کبھی تیار ہی نہیں کیے گئے جس جنگ میں آپ انہیں دھکیل رہے ہیں۔ آپ غلط گھوڑوں پر پیسہ لگا رہے ہیں اور وقت آنے پر آپ کو یہ
احساس ہو جائے گا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ نہیں ہیں۔ جب آپ انہیں اپنی مدد کے لیے پکاریں گے تو یہ بھی وہی جواب دیں گے کہ ’’جے گل ساڈے تے آ گئی اے تے میاں نوں کہہ دیو کہ او دشمناں نل صلح کر لوے‘‘ (اگر بات ہمارے اوپر آ گئی ہے تو میاں صاحب سے کہہ دو کہ وہ لڑائی ختم کر کے دشمنوں سے صلح کر لے۔ ہم میاں صاحب کو بچانے کے لیے نہیں لڑیں گے)۔
میاں صاحب آپ اپنے ماضی کو یاد کریں تو آپ بھی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ جب جب آپ پر مشکل وقت آیا ہے نہ تو عوام آپ کے ساتھ کھڑے رہے اور نہ ہی آپ کے ساتھیوں نے آپ کا ساتھ دیا ہے۔ میاں صاحب 1999ء میں جب مشرف نے آپ کی دو تہائی اکثریت والی حکومت کا تختہ الٹا تو اس دن چند گھنٹوں میں مٹھائی کی دکانوں پر مٹھائی ختم ہو گئی تھی اور جن لوگوں نے آپ کو دو تہائی اکثریت سے کامیاب کروایا تھا وہ خوشیاں منا رہے تھے،مبارکبادیں دے رہے تھے اور مٹھائیاں کھا رہے تھے۔ میاں صاحب آج جو لوگ آپ کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں،جو آپ کی کچن کابینہ کا حصہ ہیں اور جن پر آپ بھروسہ کر رہے ہیں ان میں سے اکثرپرویز مشرف کے ساتھی رہ چکے ہیں جو آپ کے خلاف مشرف کی حکومت کے ساتھ مل گئے تھے اور جب آپ حکومت میں آئے تو مشرف کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ میاں صاحب آپ کے ساتھی آپ کے نظریے کی سپورٹ میں آپ کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں بلکہ یہ نظریۂ ضرورت کے تحت آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جس دن آپ کی پارٹی حکومت میں نہ رہی یہ لوگ اسی نظریۂ ضرورت کے تحت آپ کا گھونسلہ چھوڑ کر حکومتی گھونسلے میں بیٹھ جائیں گے اور جب آپ انہیں اپنی مدد کے لیے پکاریں گے تو یہ بھی یہی کہیں گے کہ میاں صاحب آپ بھی مخالفین سے صلح کر لیں ۔


ای پیپر