اب میڈیا کا کردار کیا ہے
23 مارچ 2018 2018-03-23



صحافت اور صحافیوں پر کئی کالم لکھ چکا ہوں ،قارئین کی دلچسپی اور صحافت کے معیار کی گرتی ہوئی ساکھ کے باعث آج کا کالم لکھنے پر مجبورہوا ۔گزشتہ دنوں محکمہ مال کے ایک اہلکار اور ایک دوست نے شکایت کی کہ فلاں صحافی مجھ سے پیسے مانگتا ہے ۔جواباًکہا کہ آپ اگر ایماندار ہیں تو آپ بلیک میل کیوں ہوتے ہو چلتا کریں ،ہاں اگر آپ میں گڑ بڑ ہے تو آپ کو بلیک میل ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں چل یہی کچھ رہا ہے ۔بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ۔حکمران اور ان کے وزراء قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین عوام کی رقم سے حاصل شدہ سرمائے کو فرضی سکیموں ،نوکریوں کی بندر بانٹ اور فروخت کرکے کھانے میں مصروف ہیں ۔ڈاکٹر ،وکیل ،تاجر ،پٹواری ،پولیس اہلکار ،ٹرانسپورٹر ،تعلیمی ادارے وبورڈ اپنے طریقوں سے غریب کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں ۔جس کو دیکھو اپنے سے نیچے والے کی جیب کترنے میں لگاہوا ہے ۔ کسی کو خیال نہیں کہ ہم نے ایک دن مرنابھی ہے اور ایک ایک پائی کا حساب بھی دینا ہوگا۔ایسے ناگفتہ بہ حالات جب بیورو کریسی ،سیاست دانوں ،جاگیرداروں ،وڈیرے ،تاجران ،صنعت کار ،وکیل ،ڈاکٹر ،اساتذہ ،حکمران میں سے ایک یا دو فیصد کو چھوڑ کر سب نے لوٹ مار کا لامتناہی سلسلہ شروع کررکھا ہے تو صحافی کس باغ کی مولی ہے وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع کیوں کر گنوائے ۔معاشرے میں رشوت ،زنا ،چوری ،ڈکیتی ،کمیشن خوری ،ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی ،بھتہ خوری ،سمگلنگ ،منشیات فروشی ،جسم فروشی ،عورتوں اور بچوں کی بیرون ملک فروخت ،جواء دیگر معاشرتی برائیاں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ اب ہمیں دیگر اقوام کے لوگ ناکام ریاست کہنے لگ گئے ہیں، کوئی ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے ۔حالات جب اتنے دگر گوں ہوں تو ایک مقامی صحافی جسے نہ تو اسلام آباد ،کراچی ،لاہور ،پشاور ودیگر بڑے شہروں کے صحافیوں کی
طرح پلاٹ ملتا ہے اور نہ ہی اسے غیر ملکی دوروں میں موقع ،اپنی پیٹ پوجا کے لئے وہ کچھ ہاتھ پاؤں تو مارے ہی گا۔ حلا ل حرام کی تمیز تو اب اسے ہے اور نہ ہی کسی دوسرے طبقے کے لوگوں کو ، اب تو ایک دوڑ لگی ہوئی ہے کہ بنگلہ ہو ،گاڑی ہو۔کیسے ہو اس کے لئے سفارش ،دھونس ،دھمکی ،چوری ،ڈکیتی ،رشوت ،بلیک میلنگ کچھ بھی کرنا پڑے تو کرو، اس کے بغیر معاشرے میں مقام نہیں ملتا ،اللہ تعالیٰ کے آگے جب کھڑے کیے جائیں گے تو کیا مقام ہوگا ۔اس کی ہمیں پروا نہیں ہے ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
میرا مقصد موجودہ کالم میں زرد صحافت کا دفاع کرنا نہیں ہے کیونکہ کسی غلط کام کا دفاع کوئی مسلمان نہیں کرسکتا غلط کام غلط ہے ۔اگر تمام معاشرہ کرپشن ،لوٹ مار ،اقرباء پروری کا شکار ہے تو بھی یہ جواز نہیں بنتا کہ قلم کی حرمت کا سودا کرتے ہوئے ہم بھی سرکاری خزانے اورکرپٹ لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کریں ۔ اب تمام اہل قلم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کا سدباب کریں کیونکہ جب ہم کسی بھی ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کا ذکر اپنے تجزیوں ،خبروں ،مضامین ،وڈیوز میں کرتے ہیں تو ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اندر موجود ایسے عناصر کے خاتمے کے لئے بھی کام کریں جنہوں نے اس معزز پیشے کو گھاؤ لگا رکھا ہے جن کے باعث آج ہر کوئی منہ اٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ صحافی بلیک میلر ہوتے ہیں ۔آپ کو پیسے نہیں ملے ہوں گے اس لئے آپ ہمارے پیچھے پڑ گئے ۔اگر کوئی برائی کے خاتمے اور اصلاح کے نقطہ نظر سے کچھ لکھ یا کہہ رہا ہے تو اسے بھی گندے انڈوں کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے جو یقیناًقابل افسوس پہلو ہے ۔صحافیوں کا زرد صحافت کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ ہمارے کرپٹ سیاست دان اور افسر شاہی بھی ہے ۔ان دونوں کا میڈیا کے بغیر گزارہ نہیں۔ دونوں کو اپنی بروجیکشن کے لئے میڈیا کا سہارا چاہئے ہوتا ہے ۔کرپشن ان دونوں طبقوں میں جس طرح سرایت کر چکی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ اب تو بڑے بڑے انتظامی عہدوں کی باقاعدہ بولی لگتی ہے ۔ کرپٹ سے کرپٹ افسران جو باقاعدگی سے ماہانہ اوپر تک پہنچائے منظور نظرہوتے ہیں ۔ایماندار افسران کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ عرصہ سے جاری ہے ۔سیاست دانوں کی کرپشن نے تو اب ملک کو دنیا کے کرپٹ ترین ملکوں میں شامل کردیاہے ۔انہیں ترقیاتی کاموں کو اپنے منظور نظر ٹھیکیداروں کودے کر بھاری کمیشن حاصل کرنے کے لئے ٹینڈرز کا اشتہار دینا پڑتا ہے جس کے لئے ڈمی اخبار یا اخبارات کی کاپیاں غائب کرنے کے لئے صحافی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تبادلہ رکوانا ہو یا کروانا ہو ،تعیناتی ہو یا کوئی منافع بخش سیٹ حاصل کرنی ہوزرد صحافت کا کردار اپنی جگہ موجود ہوتا ہے ۔آج کل تو زرد صحافت کے علمبردار صحافی بھرتیاں کرواکر بھی بھاری رقم بنالیتے ہیں۔ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں ،بھائیوں کو بھرتی کروانا اس کے علاوہ ہے ۔ٹینڈروں کے دوران رنگ سسٹم میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں ۔مشرف دور سے ملک میں این جی اوز کا عمل دخل بڑھتا جارہا ہے ۔ غیر ملکی سرمائے کی بنیاد پر کام کرنے
والی اکثر این جی اوز کے اپنے مقاصد ہیں۔ نوجوان ،خوبصورت لڑکیوں کو بھرتی کرنا ،ہرپروگرا م میں مخلوط طرز شمولیت کوفروغ دینا اسلامی معاشرے کو ختم کرکے مادر پدر آزاد معاشرے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔آج ہم جس بے راہ روی کا شکار ہیں اس میں میڈیا ،موبائل فون ،کیبل کے ساتھ ساتھ این جی اوز کا بھی کردار شامل ہے ۔این جی اوز کو اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے اور اپنی پبلسٹی کے لئے میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے ۔الیکٹرانکس میڈیا کے ذریعے ملک بھر کے ہسپتالوں ،پولیس سٹیشنوں ،پلازوں ،واپڈا ،گیس ،جعلی پیروں ،فقیروں ،کالجوں ،سکولوں ،یونیورسٹی ،ہائی ویز ،محکمہ تعلیم ،محکمہ فوڈ ،محکمہ زراعت ،موٹر وہیکل ایگزامنر ،اسلحہ لائسنسوں کے دفاتر،پٹرول پمپوں ،ہوٹلون وغیرہ میں جو کرپشن وبے قاعدگی ہورہی ہے اس کے خلاف چینلز پر پروگرام دکھائے جارہے ہیں۔ اگر تمام نمائندے معاشرے کے ان ناسوروں اورکرپٹ اداروں کے خلاف کوریج کریں تو جرائم وکرپشن میں خاصی کمی ہوسکتی ہے لیکن یہاں بھی ہمارے اپنے مفادات ،تعلقات غالب آجاتے ہیں ۔ رہے بے چارے عوام وہ جائیں بھاڑ میں ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں واپڈا ،گیس ،پولیس ،ہسپتا ل ایسے ادارے ہیں جو شدید کرپشن اور تنقید کی زد میں ہیں، مقابلے کی اس دوڑ میں صحافت کا شعبہ بھی اب کچھ پیچھے نہیں رہا ۔گو کہ ابھی بھی میڈیا ملک کی ترقی ،کرپشن کو بے نقاب کرنے اور سیاست دانوں کو ان کا اصل چہرہ دکھانے میں صحافت کا ایک اہم رول ہے لیکن ملک جس طرح تنزلی کی طرف جارہا ہے اس میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ۔اس شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑوں کو چاہیے کہ وہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کو قائم کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں ۔اگر وہ اپنے نمائندوں کے کرتوتوں سے جان بوجھ کر چشم پوشی کررہے ہیں تووہ اس معزز پیشے کو بدنام کرنے اور ملک کو مزید تباہی وبربادی اور کرپشن کی لعنت میں گرفتار کرنے میں برابر کے شریک ہیں ۔


ای پیپر