جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے:چیف جسٹس ثاقب نثار
23 مارچ 2018 (16:02) 2018-03-23

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ، نہ مارشل لا باہر سے ہے اور نہ مارشل لا اندر سے ہے، پاکستان میں جمہوریت کوڈی ریل ہونے نہیں دیں گے ،پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی،ملک کی ترقی کا اہم جز قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور لوگوں کو بلاتفریق انصاف فراہم کرنا ہے ۔ جمعہ کو یوم پاکستان کے موقع پر لاہور کے کیتھڈرل چرچ میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کوڈی ریل ہونے نہیں دیں گے ۔

چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے، پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی اور آئین سے ماورا کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ملک کی ترقی کے لیے اہم ترین عنصر لیڈر شپ ہے اور ملک کی ترقی کا اہم جز قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور لوگوں کو بلاتفریق انصاف فراہم کرنا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے، یہ ملک ہمارے لیے ایک نعمت ہے اور بحیثیت قوم ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادی کے احترام کے ساتھ اس کا تحفظ بھی کرنا ہے، جو صرف الفاظ یا دکھاوے سے نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک قوم بن کر آزادی کا تحفظ ہوسکتا ہے اور ہمیں ایک قوم بن کردکھانا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے اپنے خطاب کے دوران تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ 'ہمیں نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے کیونکہ یہی قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں اپنی زندگی میں انسانیت کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔


ای پیپر