” سَتر سَال کَم نہیں ہُوتے “
23 مارچ 2018 2018-03-23

مُلکوں قُوموں اور اِنسانوں کی زندگی کے ستر سال کم نہیں ہوتے، مُجھے اُمید ہے کہ آپ میری اِس بات سے اتفاق کریں گے، کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ، چین سنگا پور ، تائیوان، ملیشیا، جاپان ، جنوبی کوریا، شمالی کوریا وغیرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے، اور ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعوے دار دُنیا میں ابھی تک خوار ہیں۔ محض اِس لئے کہ ستاروں کا حال بتانے والے اِس مُلک میں ہر اخبار اور ہر چینل پہ موجود ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ہر اخبار میں ” یہ ہفتہ کیسے گزرے گا“ کے موضوع پہ موقع شناس ، ستارہ شناس، ستارہ پرست بن کر اور سیاستدانوں اور حکمرانوں کی قسمتوں سے کھیل کر اپنی قسمت بنانے کیلئے اُن کی جیب میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔

ایک ایسے ہی مُلک کے ” مایہ ناز“ ستارہ شناس یہ جانتے بُوجھتے بھی کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ایک دفعہ دفتری اوقات میں اپنی اوقات کو بھول کر، اُوقات سے بھی زیادہ بلند بانگ دعوے کرنے میں مصروف تھے، کہ اُنہیں ہمارے مُلک کے ”نامی گرامی “ سیاستدان کا فون آگیا مُوصوف مچھلی کھانے اور کھِلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، جب فون آیا، تو وہ ہمارے ساتھ مچھلی تناول فرما رہے تھے، جو کہ وہ خود ہی لائے تھے،

ہماری طرف معنیٰ خیز نظروں سے دیکھا، اور کہا کہ میرا حصہ رکھ دینا، فلاںمشہور بلکہ معروف سیاستدان باہر گاڑی میں بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے، میں ذرا اُسے بے وقوف بنا کر آتا ہوں۔

ایک دفعہ ہم کسی تقریب میں مدعو تھے، واپسی پہ مجھے کہنے لگے، کہ میرا گھر آپ کے راستے میں ہے، آپ ذرا تکلیف کریں، مجھے راستے میں اُتار دینا، میں نے اثبات میں سر ہلایا، اور اُنہیں بیٹھنے کی دعوت دی، راستے میں ، میں نے ذرا اُنہیں کُریدنے کی کوشش کی ، اور اُن سے علم الاعداد کے بارے میں گفتگو شروع کر دی، علم الاعداد حضرت امام جعفر صادق ؒ سے منسوب کیا جاتا ہے، جس میں زیادہ زور اِس بات پر دیا جاتا ہے، کہ جس تاریخ کو انسان پیدا ہوا ہو اُس کے عَدد اور جو نام رکھا جائے، وہ اگر دونوں ایک ہوں تو انسانی زندگی پر اُس کے مثبت اثر ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح سے جس گھر میں انسان رہتا ہے، اس گھر کے عدد کا بھی انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

راقم بھی نسبتِ امام جعفر صادق ؒ کی بنا پر اِس علمِ پر یقین رکھتا ہے، عدد ایک سے لے کر دس تک ہوتے ہیں، اور ایک نمبر کے گھر میں رہنے والے لوگ دنیا بھر میں ایک ہی جیسے، مسائل یا خوش خالی کا سامنا کرتے ہیں، اِسی طرح باقی نمبروں والے بھی ایک ہی جیسی صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔

بہر کیف میں نے ”ستارہ شناس“ سے اُن کے گھر کا نمبر پُوچھا، اور اُنہیں یہ نہیں بتایا کہ میں کیوں پُوچھ رہا ہوں۔ بلکہ یہ ظاہر کیا کہ میرا کبھی ادھر سے گزر ہوگا، تو آپ کو ملنے کیلئے آ جاﺅنگا۔ اور پھر باتوں باتوں میں اِ س کے بعد میں نے اُنہیں بتایا کہ آپ کے پاس چاہے، لاکھوں روپیہ مبینہ آجائے ، تو آپ کی آمدن اور خرچ میں ہمیشہ بڑا فرق کیوں ہوتا ہے، اور یہ کہ آپ کے یوٹیلیٹی بل ضرورت اور استعمال سے زیادہ کیوں آتے ہیں نیز یہ کہ آپ کے گھر میں چوریاں کیوں ہوتی ہیں اور بیماریوں نے کیوں گھیرا ہوا ہے، وغیرہ وغیرہ، میرے اِن سوالات سے وہ چونک تو ضرور گئے مگر اعترافِ حقیقت کرنے سے کنی کترانے لگے، چونکہ اُس وقت بسنت پہ پابندی نہیں لگی تھی۔ لہٰذا میں بھی کنی دینے اور” کہنی مار“ کر چُپ کرانے میں مصروف ہوگیا۔

میری آپ سے اِس ڈیلنگ کو اہمیت دینے کی التجا ہے، کیونکہ ہماری ، ہاتھ دیکھنے والوں، اور دکھانے والوں اور ہمارے ملک کی قسمتوں سے کھیلنے والوں کا حال بھی محکمہ موسمیات جیسا ہے، لاہور میں شادمان میں محکمہ موسمیات کی رَصد گاہ ، جسے انگریزوں نے بنایا تھا،جبکہ جس سے قریبی مکانوں کی چھتیں کہیں زیادہ بلند ہیں، ہمارے محکمہ موسمیات کے افسر بھی عوام کی طرح بارش اور آندھی کا اندازہ لگاتے ہیں، اور ان ستر سالوں کا حساب اُن سے کوئی پوچھے ، تو اُنہیں ذرا شرم نہیں آتی، کیونکہ اکثر ان کی پیشین گوئیاں غلط نکلتی ہیں، جبکہ باہر کے مُلکوں میں تو اگر موسمی پیشین گوئی غلط نکل آئے، تو وہاں کے محکمہ موسمیات پہ ہرجانے کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر سَتر سالوں میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ سعودی عرب جس کی روایات اور ثقافت اور عدلِ اسلامی پہ اُمتِ مُسلمہ کو ناز تھا، آج عالمی طاقت کی استعمار کی زد میں ہے ، جس کا وہ تاوان طلب کرتا رہتا ہے۔ اور اس طرح سے خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے منصوبہ ساز، اور آل سعود کے سہولت کار، اور ماضی کے مرد ِبیمار آج کُھل کر عیاں ہوگئے ہیں، اور دورہ ¿امریکہ میں سعودی حکمرانوں سے کروڑوں ڈالر شام کے مسئلہ کیلئے ٹرمپ نے مانگ لیے جب ہم نے ہوش سنبھالنے کا اعلان کیا، تو اُس وقت ڈالر 30 روپے کا تھا۔ اور صدر جنرل ایوب خان نے اعلان کیا تھا، کہ روپے کی قیمت کسی صورت بھارت کے مقابلے میں کم نہیں کی جائے گی، مگر آج ڈالر کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے اسحاق ڈار کے اعلان کے باوجود متواتر گھٹتی گھٹتی 118.50 تک آپہنچی ہے۔ اس حوالے سے اسحاق ڈار پہ الزامات بھی لگے، اور مقدمے بھی چلے، مگر چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے، کے مروجہ قانون کے تحت اُنہیں سینیٹر بنا دیا گیا، آج پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہوتا جا رہا ہے، اور نوزائیدہ بچے بھی پیدا ہوتے ہی ”عالمی ساہو کاروں “ اور سُود خوروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں، میں نے جس موضوع کا انتخاب کر لیا ہے، اس کو سمیٹنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ یہ خواجہ نظام الدین ، ملک فیروز خان نون سے ن لیگ تک ہی نہیں، بلکہ ایوب خان ، یحیٰ خان ، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق، بے نظیر بھٹو، آصف زرداری کے دور تک محیط ہے۔ اِن ستر سالوں میں سوائے ڈالر پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے اور دھیلے کا کام نہیں ہوا، بلکہ تنزلی کے شکار رہتے ہیں، اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہے ، تو میرے اِس سوال کا جواب دے کہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں کس نے اور کیوں بدل دیا ، آج پاکستان کی وہ حالت ہے ، جو 1946 اور 1948 میں چین کی تھی، پاکستان کی بیشتر آبادی نشے میں دُھت ہے، بلکہ منشیات دَرس گاہوںمیں بھی دستیاب ہے، چین نے نشئیوں کو سمندر میں پھینکنے کا نعرہ لگا کر اور اُن کی روح کو قفسِ عنصری سے پرواز کا پروانہ دے کر ترقی حاصل کر لی ہے، جبکہ ہماری ” باکمال لوگ لاجواب پرواز“ بلال گنج مین بدلتی جا رہی ہے،

بدعنوانی اور اقربا پروی ہماری رگ رگ میں سرایت کر گئی ہے، جسٹس جاوید اقبال اللہ اِن کا بھی اقبال بلند رکھے، اِن کے بالوں کے کچھ حصوں کی سفیدی اِس بات کی غمازی کرتی نظر آرہی ہے ، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو انسانوں کے بالوں کی سفیدی اتنی پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، کہ مجھے سفیدی سے یعنی بُوڑھوں سے شرم آتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اِس سرسے پاﺅں تک ڈوبی ہوئی بدعنوان قوم کی تطہیر کی تدبیر کر سکیں گے؟

صرف کراچی کے اہلِ زبان کراچی جیسے شہر جس کو عروس البلاد کہا جاتا تھا، آج اُس سے ایتھوپیا، تنزانیہ ، کینیا زیادہ صاف سُتھرا ہے، حد تو یہ ہے ، اکابرین اور حکمرانِ کراچی کے تو خیالات بھی صاف نہیں، جبکہ خلیل جبران کا کہنا ہے کہ” میں ہی آگ ہوں،میں ہی کوڑا کرکٹ ہوں، میری آگ میرے کوڑے کرکٹ کو جلا کر بھسم کر دے گی۔ تو میں اَچھی زندگی گزار سکوں گا“

میری سمجھ میں تو صرف ایک ہی بات آتی ہے کہ اِنفرادی طور پر پاک وطن کا ہر پاک شخص بے باک ہو کر کلمہِ حق بھی ادا کرے اور اپنے آپ کو بھی اور اپنی تقدیر کو بھی خود ہی بدل ڈالے، بقول شاعر

کرنا پڑے گا اپنے ہی سائے میں اب قیام

چاروں طرف ہے دھوپ کا صحرا بچھا ہوا !!

(جاری ہے )


ای پیپر