کرکٹ ،ٹریفک اور ” نشانِ امتیاز “
23 مارچ 2018

پنجاب کے ” بیمار دل “ لاہور کا کوئی پُر سانِ حال نہیں،خاص طور پر ٹریفک کا برا حال ہے۔کوئی سڑک ایسی نہیں ہے جہاں ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔لاہور کی سڑکوں پر رش تو پہلے بھی تھا مگر اورنج ٹرین نے سڑکوں کو کھنڈر کر دیا ہے۔اب تو گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے۔اور ایسا کسی خاص شاہراہ پر نہیں ہوتا بلکہ آپ شہر کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ابتری کی یہی صورتحال دکھائی دے گی اور آپ کو دن میں تارے نظر آنے لگیں گے۔ہر طرف گاڑیاں قطاروں میں اور ٹریفک رینگ رینگ کر چلتا نظر آتا ہے۔ہیوی ٹر ک،سست رو گاڑیاں، ” انھے وا“ چلنے والے موٹر سائیکل اور چاند گاڑیاں مل کر ٹریفک کو مزید تباہ وبرباد کرتی ہیں یعنی چیونٹی کی چال میں ڈھال دیتی ہیں۔نہر والی سڑک پر تو تنکا بھی رکھ دیا جائے تو سارا ٹریفک سست ہوجاتا ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔پچھلے دو روز تو زندہ دلانِ لاہور کے لےے عذاب ثابت ہوئے۔وجہ یہ تھی کہ کرکٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا،شہر کے وسط میں قائم قذافی سٹیڈیم میں کرکٹ کا ہنگامہ برپا کرنے کے لےے ارد گرد کے علاقوں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔ سخت سکیورٹی ضروری تھی مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارے لاہور کا ٹریفک ذیلی سڑکوں میں ” سیلِ بیکراں “ کی طرح پھیل گیا۔لوگ پہروں اپنی اپنی گاڑیوں ،ویگنوں اور سواریوں پر ہجوم کی صورت بھٹکتے دکھائی دئےے۔یوں لگ رہا تھا جیسے شہر پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔کرکٹ اگرچہ خوشی کا نام ہے مگر لاہوریوں نے اس خوشی کی بھاری قیمت چکائی ۔اب تو لاہور کے باسی مسلسل ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں۔جس ٹریفک اشارے پر بھی نظارہ کیا جائے، ٹریفک بے قابو نظر آتا ہے۔اگر اشارہ آف کر دیا گیا ہو تو پھر تو کوئی کسی کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔یوں روانی معطل ہوجاتی ہے اور ٹریفک وارڈن ،منہ پر رومال رکھ کر ایک طرف کھسک جاتے ہیں۔ کہتے ہیںٹریفک پولیس کو روزانہ چالانوں کی ایک مخصوص تعداد کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے اور ذمہ دار ٹریفک وارڈن اپنی اپنی ڈیوٹی بیٹ پر اپنا اپنا ٹارگٹ مکمل ہوتے ہی ایک طرف بے نیاز کھڑے ہوجاتے ہیںیعنی اگر ایک وقت میں پانچ سو چالان کرنے ہیں اور ٹارگٹ مکمل ہو گیاہے تو سمجھو وارڈن آزاد۔طویل اشاروں پر ٹریفک پولیس کے لوگ اسی تا ک میں رہتے ہیں کہ کب کوئی اشارہ بند ہونے پر قانون کی خلاف ورزی کرے اور اسے جھٹ دبوچ لیا جائے حالانکہ ٹریفک وارڈن کی اولین ذمہ داری ٹریفک کی روانی بحال رکھنا ہے۔ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے والوں میں رنگ رنگ کے بھکاری پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں معذور وں کے ساتھ بیشتر جعلی گداگربھی ہوتے ہیں۔کسی نے خواجہ سرا کا روپ دھار رکھا ہے تو کسی کے ہاتھ میں اشیاءبرائے فروخت ہوتی ہےں۔اگر بتیوں کے پیکٹ،رومال ،کتابیں بیچنے والے بھی دراصل بھیک ہی طلب کرتے ہیں۔بعض اوقات تو ٹریفک اشارے پر بھکاریوں کا سارا خاندان نظر آتا ہے۔یہ لوگ ٹریفک اشارہ بند ہوتے ہی گاڑیو ں کی طرف لپکتے ہیں اوراشارہ کھل بھی جائے تو بھی آگے سے نہیں ہٹتے ۔جس سے اشارہ دوبارہ بند ہوجاتاہے۔ٹریفک کنٹرول کرنے والوں کو اشاروں سے ایسے بھکاری دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہےے تاکہ ٹریفک میںخلل نہ پڑے مگر وارڈن حضرات تو اِن بھکاریوں کو اف تک نہیں کرتے۔کچھ بعید نہیں کہ انہی بھکاریوں سے نذرانہ بھی وصول کیا جاتا ہو۔ یہاںسڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیںہر جگہ اورینج ٹرین کا کام ہورہا ہے۔گڑھے کھدے ہوئے ہیں،متبادل راستہ بنائے بغیر ٹریفک ”شتر ِبے مہار“کی طرح اپنا راستہ خود بناتا ہے۔جس سے لوگ دوہرے عذاب کا شکار ہیں۔کرکٹ کے نام پر شہر کا نظام مزید چوپٹ ہواگویاراحت مصیبت میں بدل گئی ۔جس ایونٹ کو بندوقوں کے سائے میں منعقد کیا جائے اس کا فائدہ کیا ہے۔سارا دن لوگ شہر کی ذیلی سڑکوں پر میچ شروع ہونے سے بہت پہلے ہی ذلیل ہوتے رہے لیکن ہم نے میچ کرا کے دم لیا۔تفریحات ،میلے ٹھیلے،ثقافتی پروگرام پر امن اور خوشحال معاشروں میں اس لئے جچتے ہیں کہ وہاں قانون کی پاسداری ہے۔ وہاں ایسے پروگراموں کے لےے شہر بھر کی سڑکیں بند کرکے لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جاتا۔ہماری سڑکیں تو پہلے ہی ادھڑی ہوئی ہیں،جگہ جگہ ٹریفک جام ہے،ایسے میں اگر شہر کے عین درمیان میں ،چند سڑکیں بند کر دی جائیں تو اندزہ لگائیں عوام کا کیا حال ہوگا۔ہم آج ایک اور موضوع پر لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر ٹریفک میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد ضروری تھا کہ لوگوں کی مشکلات کو موضوع بنا یا جائے۔کاش ہمارے حکمران بھی عوام الناس کے ساتھ ٹریفک جام میں چند گھڑیاں گزاریں تو انہیں احساس ہو کہ لوگ کس کرب سے گزررہے ہیں مگر وہ تو ٹریفک روک کرجہاں چاہیں چلے جاتے ہیں اور عوام کو سڑکوں پر دن بھر مارا مارا پھرنا پڑتا ہے۔چلتے چلتے نگران وزیر اعظم کی بات ہو جائے اس کے لےے کئی نام سامنے آرہے ہیں۔سب سے پہلے جماعت اسلامی کے سراج الحق نے ایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام نگران وزیر اعظم کے لےے تجویز کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹر خان کی پاکستان کے لےے بے پناہ خدمات ہیں ، انہوں نے قوم کو ایٹمی طاقت بنایا۔انہیں نگران وزیر اعظم بنایا جائے۔جس پر ڈاکٹر قدیر خان نے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی خراب صحت کسی ذمہ داری کی متحمل نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی انہیں کوئی عہدہ دینے کے لےے حکومت کو امریکہ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔لہٰذ ا انہیں معاف رکھا جائے۔محسن پاکستان کے حوالے سے حال ہی میں ہمارے نڈر صحافی اور دبنگ کالم نگار ،یارو ں کے یار جناب جبار مرزا کی کتاب شائع ہوئی ہے۔”نشان امتیاز“ کے نام سے شائع ہونے والی یہ کتاب دراصل ڈاکٹر قدیر خان سے متعلق جبار مرزا کی چونتیس برسوں کی یادو ںکا مجموعہ ہے۔جس میں کئی تاریخی چشم کشاواقعات شامل ہیں۔جبار مرزا نے نہایت بے باکانہ انداز میں ڈاکٹر خان کے خلاف ہونے والی سازشوں یا نا انصافیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔قارئین کے لےے یہ ایک خوش کن اطلاع ہے کہ ” نشان امتیاز “ جیسی تاریخی دستاویز پڑھیں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ کس طرح ہیرو کو زیرو بنایا جاتا ہے۔بھارت نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو صدر بنا یا تھا۔ہم نے اپنے ایٹمی ہیرو پر پابندیاں لگائیں۔جبار مرزا نے ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے ساری تفصیلات اس کتاب میں بلا خوف و خطر بیان کر دی ہیں۔جباز مرزا کا نظریہ حق و صداقت ہے۔ان پر ایسا شعرہی جچتا ہے :
میں قتل گاہ میں جا کر بھی سچ ہی بولوں گا
میں وہ زبان نہیں ہوں جو کیل دی جائے


ای پیپر