کمزوری دکھانے کا کیا جواز؟
23 جون 2020 (23:35) 2020-06-23

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا آئندہ دوسال کے لیے بلامقابلہ ممبر بننا بھارت کے عالمی رسوخ کا مظہر ہے مستقل ممبران امریکہ ،برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے ہمیشہ بھارت کی سرپرستی کی ہے میزائل کلب کا ممبر بنانے میں بھی امریکی کوششوں کا عمل دخل ہے التفات کی وجہ اسلحہ کا بڑا خریدار ہونا ہے اسی طرح اسرائیل ایک اور بھارت پر فدا ملک بن کر سامنے آیا ہے مگر مذکورہ ممالک کی طرف سے سرپرستی اور اسلحے کی فروخت کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن غیر متوازن ہورہا ہے امریکہ کی تو سمجھ آتی ہے کہ اُسے چین کے توڑ کے لئے ایسے ملک کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف چین کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن سکے بلکہ فوجی طاقت کا بھی مقابلہ کر نے کی پوزیشن میںہو لیکن ڈوکلام سے لیکرلداخ میں ہونے والی جھڑپوں سے نقصان اُٹھانے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ چین کے حوالے سے امریکی توقعات کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں اور امریکہ کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھارت کے علاوہ کسی اور طرف دیکھنا پڑے گا لداخ کی پٹائی سے بھارتی طاقت کی اصل حقیقت سے دنیا آگاہ ہو گئی ہے مگر بڑی منڈی ہونے کی بنا پر ممکن ہے ابھی کوئی ہاتھ دھونے کو تیار نہ ہو کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میںمنافع کو اولیت دی جاتی ہے اورفائدے کے عوض کسی سے دستکش ہونا کوئی گوارہ نہیں کرتا حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسلحہ کے انبار کے باوجود جو ملک پتھروں ،لاٹھیوںاور مکوں و گھونسوں سے فوجی مروا لیتا ہے وہ علاقے کی بالادست طاقت کیسے بن سکتا ہے ؟

بات کہاں سے کہاں چلی گئی بات ہورہی تھی بھارت کا سلامتی کونسل کے بلامقابلہ ممبر بننے کی، پاک بھارت مراسم میںبہت کمزور سطح پر ہیں اور کشیدگی عروج پر ہے دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی بہت اچھے نہیں تھے لیکن کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد نہ صرف سفارتی مراسم محدود ہوئے ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی عملاََ ختم ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے الرٹ کھڑی ہیں مگر حیران کُن امریہ ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کا بلامقابلہ ممبر بن گیا ہے اور پاکستان نے کسی قسم کی رکاوٹ بننے کی کوشش نہیں کی کمزوری دکھانے کا کیا جواز ہے ممکن ہے کسی کے پاس دلیل ہو لیکن پاکستانی قوم صدمے کی کیفیت میں ہے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کرتی پھررہی ہیں کہ پاکستان نے بھارت کو بلامقابلہ منتخب کیوں ہونے دیا؟ یہ سادگی ہے یا لاعلمی کہیں کچھ سمجھ نہیں آتا مگر شیریں مزاری سے پوچھا جا سکتا ہے کہ محترمہ آپ کی حکومت ہے تو عوام سے سوال کرنے کی بجائے یہی سوال اپنی حکومت سے

کیوں نہیں پوچھتیں جس نے مجرمانہ کمزوری کا مظاہرہ کیا اگر اپنی حکومت سے پوچھنے کی جرات نہیں تو لائق و فائق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ہی معلوم کر لیں جو فرماتے ہیں کہ بھارت کے انتخاب سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور یہ کہ اگر رکاوٹ ڈالتے تو 2026میں پاکستان کے ممبر منتخب ہونے کا امکان ختم ہوجاتا ارے بھئی دشمن کے راستے کی رکاوٹ نہ بننے سے کیا بھلائی ہو سکتی ہے؟اور دشمن پر اعتبار کرنے جیسی حماقت بھلا کوئی دانشمند کر سکتا ہے؟ دشمن بھی وہ جس نے اول روز سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشیں شروع کر رکھی ہیں جس نے باربار جنگ تھوپی اورپھر 1971 میںبنگلہ دیش کوالگ ملک بنادیا ایسے ازلی دشمن کو فائدہ پہنچا کرحکمران کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملکی مفاد کی نگہبانی پر مامور سیاسی قیادت میں اغیارکے طرفدار ہیں؟۔

نواز شریف پر تو یہ الزام تھا کہ اُن کے اٹل بہاری واجپائی اور نریندرمودی سے قریبی دوستانہ مراسم ہیں اسی لیے دعوتوں پر بلاتے اور استقبال کرتے رہے اسی دوستی کی وجہ سے کلبھوشن جیسے دہشت گردکمانڈر کے خلاف بات کرنے سے گریزاں رہے اب تو نواز شریف اقتدار سے باہر ہونے کے ساتھ ملک سے بھی باہر ہیں مگر ہمارے وزیرِ اعظم عمران خان کِس مقصد کے لیے مودی کو ٹیلی فون کرتے رہے ؟ حالانکہ باربار رابطہ کرنے کے باوجود مودی نے بات کرنا اورجواب دینا بھی پسند نہیں کیا اگر کلبھوشن کے خلاف نواز شریف نے کبھی بات نہیں کی تو اب موجودہ حکمران کیا بھارتی سرگرمیوںکو بے نقاب کرنے کے لیے گرفتار جاسوس اور دہشت گرد کو بطور ثبوت کہیں پیش کر رہے ہیں؟حالانکہ پاکستان کے پاس بھارت کو بدنام کرنے کے لیے یہ بہت اچھا موقع ہے اور بھارت کا داغدار چہرہ دنیا کو دکھاکر پاکستان عاملی سطح پر لگنے والے الزامات کے داغ دھو سکتا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری قیادت نے بلاجواز کمزوری دکھائی ہے اور بھارت کو بدنام کرنے کا دستیاب موقع اپنی سُستی و کاہلی سے ضائع کررہی ہے اسی لیے دشمن اِتنا شیر ہوگیا ہے کہ وہ اُلٹا ہمیں بدنام کرنے کی کوششو ں میں ہے دنیا بھی ہماری سُننے کی بجائے اُس کی جھوٹی باتیں توجہ سے سُن رہی ہے جس کا ثبوت سلامتی کونسل میں بلا مقابلہ غیر مستقل ممبر منتخب ہونا ہے مجھے تو خدشہ ہے کہ ہم اسی طرح خاموش رہے توبھارت سلامتی کو نسل کا مستقل ممبر ہی نہ بن جائے آئر لینڈ،ناروے،اور میکسیکو سے بھارت کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرتے ہیں اوردنیا کو جنگ و جدل کا میدان بنانے کی کوششوں میں حصہ دار نہیں لیکن بھارت ایسا ملک ہے جو انتہا پسندی کا مرکز بن چکا ہے جس میں بسنے والی اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں تسلیم کرنے کے باوجودآج بھی کشمیریوں کو حقِ خوداِرادیت دینے سے انکاری ہے اُسے ممبر بنانا اقوامِ متحدہ کے منشور،مقصد اوراصولوں کی نفی ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت کے ممبر بننے سے مسئلہ کشمیر پر اثر نہیں پڑے گا خود فریبی کے بدلے کیا ملا اور پسِ پردہ مقاصد کیا ہیں قوم جاننا چاہتی ہے۔

بھارت ایک ایسا ملک ہے جس نے تمام ہمسایوں سے چھیڑ خانی شروع کر رکھی ہے نہ تو کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے پر رضا مند ہے بلکہ دیگر ممالک میں افراتفری پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہے چین سے رسوا ہونے کے باوجود توسیع پسندانہ عزائم پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں نیپال ،بھوٹان بھی پریشان ہیں جنوبی ایشیا کا کوئی ملک اُس کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں لیکن وہ بھی یو این او کا ممبر بن گیا ہے اور کسی ملک نے مقابلے پر آنے کی کوشش تک نہیں کی یہ پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کا حکومت کو نئے سرے سے جائزہ لینا چاہیے دشمن کو عالمی فورم پرعزت دراصل پاکستان کی ہزیمت ہے جس کے ذمہ دار حکمران ہیں ہزیمت کی بابت سوال پوچھنے سے قوم کو کوئی روک نہیں سکتا ۔


ای پیپر