افلاطون کی اکادمی اور اقتدارکی غلام گردشیں
23 جون 2020 (23:35) 2020-06-23

ایتھنزکے قلب شہر’’ آغورا‘‘کے بازاروں میں زہرہ کا اساطیری مجمسہ ہی نہیں یہاں وہاں اوربھی بہت سے اصنام تھے۔یہ اصنام خیالی ان حقیقی اصنام سے جداتھے جن کے باعث میرصاحب کودلی کے کوچے اوراقِ مصوراور ان میں نظرآنے والی ہرشکل تصویردکھائی دیاکرتی تھی ۔میں بازارسے گزرنے والوں میں تھا۔گلی کوچوں میں پھرتے اصنام سے تومجھے کیالیناتھا،ان اصنام خیالی نے بھی متاثرنہیں کیا۔یوں بھی مجھے معلوم تھاکہ انسانیت ان جھوٹے خدائوں کو ٹھکراچکی ہے۔ میںنے یہاں سے کسی کامجسمہ نہیں خریدا بلکہ اس بازارسے سوائے ایک کتاب کے کچھ بھی نہیں خریدا Acropolis۔Athensنامی یہ کتاب یہاں بہت سی زبانوں میں دستیاب تھی۔ میں نے اس کا انگریزی ایڈیشن منتخب کیا۔سیاحتی مقامات پر فروخت ہونے والی کتابیں دنیاکی اکثرزبانوں میں شائع کی جاتی ہیں، افسوس کہ ان میں اردوشامل نہیں ہوتی ۔کاش ہم اتنی محنت کریں کہ دنیا اپنی کتابوں کے اردوتراجم شائع کرنے پر مجبورہو…دکاندار کی نمائندہ، تیزطراریونانی خاتون ،نے جو بہ ہر حال مجھے خریدار بناناچاہتی تھی، میرے انتخاب پر خوشی کا اظہارکیا۔ میںنے اس سے کتاب کی قیمت پوچھی تو اس نے کہا سات یورو۔ میں نے کتاب کھول کر دیکھاتو اس میں کتاب کی قیمت پانچ یورو طبع کی گئی تھی۔یونان میں کتابوں کی قیمت زیادہ نہیں رکھی جاتی۔ اس کا خیال تھا کہ ایک غیرملکی کی حیثیت سے شاید میں کتاب کھول کر دیکھنے کا ترددکیے بغیر اسے سات یورو اداکردوں گا۔ جب میں نے کتاب کھول کر اس کی اصل قیمت دیکھ لی تو وہ چونکی اور اپنی خفت چھپانے کے لیے کہنے لگی اصل میں یہ اس کتاب کی پرانی قیمت ہے جب کہ کتاب پرانی نہیں بالکل نئی تھی۔ مجھے اردوبازارلاہور کے کتاب فروش اور پبلشریادآئے جو بلاجواز پرانی کتابوں کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اور اس اضافے کی دلیل یہ دیتے ہیںکہ کاغذاور دیگر طباعتی اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں حالانکہ جب وہ کتاب چھپی جس پر پرانی قیمت درج ہے اس کی قیمت اس وقت کے طباعتی اخراجات کے مطابق اس میں نفع شامل کرکے رکھی جاچکی ہے۔ طباعتی اخراجات میں نئے اضافوں کا اثر ان اضافوں کے بعد چھپنے والی کتب کی قیمتوں میں ہوناچاہیے نئے اضافوں کو موثر بہ ماضی تو نہیں ہونا چاہیے لیکن شاید تجارت ان خلاقیات سے بے نیازہوچکی ہے ۔اس یونانی خاتون نے میری ہوش مندی دیکھی تو میرے لیے خصوصی رعایت کرتے ہوئے کہنے لگی چلیے آپ چھ یورو دے دیں …لیکن کیوں؟جب کہ کتاب کی قیمت پانچ یورو ہے …میںنے کہا ۔اس پر وہ مان گئی اورمجھے یہ کتاب بہ آسانی پانچ یورو میں دے دی ۔اب جو میں نے اس کی جانب دیکھا تو مجھے اس کے یونانی خدوخال میں ہمارے سابق صوبہ سرحدسے آنے والے خوانچہ فروشوں کا عکس دکھائی دینے لگا۔

بازارکی سیر کے دوران افضل صاحب کی توجہ اس جانب رہی کہ میں یورپ کی سم( Sim)بھی خریدناچاہتاہوں چنانچہ وہ ہمیں بہتے ہوئے ایک نالے کے کنارے کنارے قائم کھوکھانماچائے خانوں کی قطار کے سامنے لے گئے جہاںمختلف خوانچہ فروش جن میں اکثریت جوانوں کی تھی گھوم پھر کریانالے کے کنارے میز سجائے سمیں فروخت کررہے تھے۔ ہر شخص اپنی سم کی خصوصیات اور ودسری سموں پر اس کی فوقیت بیان کررہاتھا۔ ان کے بیان کردہ فضائل کی روشنی میں افضل نے ووڈافون انٹرنیشنل کی سم خریدنے کی سفارش کی۔ ساٹھ یورومیں ملنے والی اس سم کی خصوصیت یہ بتائی گئی تھی کہ یہ صرف یونان ہی میں نہیں بلکہ پورے یورپ میں کام دے گی اور ہمیں ایسی ہی سم کی ضرورت تھی، میںنے پوچھاکہ یہ فروشندہ جو فضائل بیان کررہاہے کیا یہ سب درست ہیں اور واقعی اس سم میں یہ سب خوبیاں پائی جاتی ہیں ؟افضل کا کہناتھا کہ ہاں ایساہی ہوگا چنانچہ ہم نے سم خریدلی جسے فروشندہ نے خوش خلقی کے ساتھ

میرے موبائل میں نصب بھی کردیا ۔وہ جب سم کو موبائل میں نصب کررہاتھاتو اسی دوران میں اکے نشیب میں ایک رنگارنگ عوامی ٹرین سیٹی بجاتی ہوئی گزرگئی۔ٹرین کی بوگیاں اتنی رنگین تھیں کہ اس پر ٹرین کاکم ،بچوں کے کھلونے کا زیادہ گما ن ہوتاتھا۔

اب ہم آغوراکے تاریخی آثار کی سیر کے لیے تیارتھے۔ ہم ان آثار کی جانب بڑھ رہے تھے کہ ایک بڑاگروپ کوئی خاص بینڈ بجاتاہوا وہاں آن پہنچااور ہم نے یونانی بے فکروں کے اس جلوس میں بھی شرکت کرلی ۔آغوراکے آثار کو ایک وسیع وعریض احاطے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ اس احاطے میں داخلے کے لیے ٹکٹ خریدنا ہوتا ہے یہ ٹکٹ لے کر ہم داخل ہوئے توسامنے افلاطون کی’’ اکادیمیہ‘‘ کے آثار تھے۔ جسے افلاطون نے ۳۸۷ ق م میں قائم کیا۔ افلاطون کے لیے سقراط کی وہی حیثیت تھی جو زمانہ بعدمیں اقبال کے لیے رومی کی یا رومی کے لیے شمس تبریز کی …سقراط نے جس روز زہرکاپیالہ پیا اس روز بھی اس نے افلاطون کو یادکیا اوراس کی صحت یابی کے لیے صدقہ دینے کی تلقین کی تھی ۔سقراط کو سزائے موت دیے جانے کے بعد اس کے شاگردوں کے لیے بھی ایتھنزمیں رہنا دشوارہوگیاتھا چنانچہ افلاطون کو بھی ترک وطن کے تجربے سے گزرناپڑا۔اس مہاجرت کے دوران مختلف ممالک کا سفر کرتاہوا وہ سسلی اور جنوبی اٹلی جا پہنچا یہاں اس نے سیاسی معاملات میں حصہ لینا شروع کردیا۔بادشاہ اس کی قابلیت سے متاثرہوالیکن جلد ہی درباریوں کے حسداور سازشوںنے اسے گھیرلیااور نتیجتاً اسے گرفتارکرلیاگیا اور ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کردیاگیا ۔وہ تو بھلاہواس قیروانی فلسفی دوست کا جس نے موقع ملنے پر اسے خرید کر غلامی کی لعنت سے رہائی دلوائی ۔جان بچی سولاکھوں پائے۔ وہ ۳۸۸ قبل مسیح میں وطن واپس پہنچااور اب وہ اس نتیجے پر پہنچ چکاتھا کہ عملی سیاست کی بجائے اسے علمی و تحقیقی کام کرناچاہیے اور اقتدارکی غلام گرشوں میں معمولی لوگوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے تدریس اورتصنیف و تحقیق زیادہ بامعنی سرگرمیاں دکھائی دیں(حیرت ہے کہ ان سطور کا راقم طویل عرصے کے بعد جس نتیجے پر پہنچا افلاطون کوڈھائی ہزارسال پہلے اس کی خبرکیسے ہوگئی تھی) چنانچہ اس نے ایتھنزپہنچنے کے بعد اگلے ہی برس ۳۸۷ قبل مسیح میںاپنامدرسہ قائم کیا۔اکادیموس (Academus)قدیم یونان کا ایک داستانی جنگجوتھابعض لوگوں کے نزدیک وہ نیم دیوتا (demi god) بھی تھا۔ افلاطون نے اس ہیرو کی بہادری کی نسبت سے اپنے ادارے کا نام Akademeia رکھا جو بعدازاں انگریزی میں Academy بن گیاآج دنیامیں جتنی بھی اکیڈمیاں قائم ہیں وہ سب اسی نام کی مرہون احسان ہیں۔

افلاطون ، خاندانی طورپر خاصا خوش حال شخص تھا۔ اس اکادیمی کے لیے زمین اوراس کی تعمیرات کے اخراجات اس نے خود اداکیے۔صرف یہی نہیں دنیاکی اس پہلی یونی ورسٹی میں تعلیم دینے کاکوئی معاوضہ نہیں لیاجاتاتھا،یہ تعلیم دینے کی سقراطی روش تھی۔ ابتداتو افلاطون نے اپنے وسائل سے کی لیکن بعدازاں اسے ایک وقف کی حیثیت دی دی گئی اور مختلف اصحاب خیر مل کر اس کی ضروریات پوری کرتے رہے ۔ہم اسی اکادیمی کے کھنڈرات پر کھڑے تھے اور میں سوچ رہاتھا کہ ؎

دنیا میں جو اہل دل رہے ہیں

آزردہ وہ مستقل رہے ہیں

دنیاکو’’ مکالمات افلاطون ‘‘ جیسی کتاب کا تحفہ دینے والے کے ساتھ اس کے معاصرین نے کیاکیا ۔وہی جو غزالی کے ساتھ اس کے معاصرین نے کیاتھا یاابن رشدکے ساتھ اس کے حاسدوںنے یا فردوسی کے ساتھ محمود کے درباریوں نے۔غنیمت ہے کہ یہ لوگ دل برداشتہ نہیں ہوئے اور انھوں نے اپنے اوقات کا بہترمصرف تلاش کیا۔ اگرافلاطون بھی ایتھنزوالوں یا اٹلی والوں کے رویوں سے دل برداشتہ ہوگیاہوتا تو آج دنیااس کی فکر، نئے دستور حیات اورشعری و ادبی صفات اور سقراط تک کے کارنامے سے بے خبر ہوتی ۔

افلاطون کابنیادی مسئلہ یہ تھاکہ فرد،معاشرے کا ایک اچھا رکن کیسے بنے ۔اس کی ساری فلراسی سوال کے گردگھومتی ہے ۔وہ فرد کی اجتماعی حیثیت پرزوردیتاہے اس لیے اس میں خاص اخلاقی صفات یعنی ضبط نفس اور اجتماعیت کے شعورکی موجودگی پر زوردیتاہے اس کا خیال ہے کہ اچھی ریاست اچھا آدمی پیداکرتی ہے اس لیے وہ انفرادی اصلاح سے فلسفہ اجتماع کی طرف آتاہے اور ایک مثالی ریاست کا تصورپیش کرتاہے ۔اس موضوع پر اس کی عظیم الشان کتاب کا ایک نام تو’’ ریاست‘‘ ہے ،اسی کتاب کا دوسرا نام’’ تحقیق عدل ‘‘ہے ۔

یہ کتاب لکھنے میں اس نے دس برس صرف کیے جو بہ قول روسو’’ فن تعلیم پر آج تک جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان سب سے بہترہے‘‘وہ اسی اکادیمی میں مصروف تدریس وتحقیق رہایہاں تک کہ ۳۴۷قبل مسیح میں اپنے شاگردوں ہی کے حلقے میں جان اپنے جان آفرین کے سپردکردی ۔اقبال کو اس سے اختلاف ہے ۔یہ اس کے افکارکی ایک اورجہت ہے جس پر قیام یونان کے زمانے ہی میں مجھ سے بہ طور خاص سوال بھی کیاگیا۔یہ سوال اور اس کا جواب کسی اور مقام پر سہی یہاں کھڑاتومیں یہ سوچ رہاتھاکہ یہ اس کے خلوص کا نتیجہ سمجھناچاہیے کہ اس اکادیمی کی صورت میں افلاطون نے اپنے استاد کی جلائی ہوئی جس شمع کو جلا بخشی تھی وہ اگلے نو سو سال تک روشن رہی، یہاں تک کہ یونان میں عیسائیت کاظہورہوا جس کے بعد ۵۲۹ عیسوی میں کلیساکے حکم پریہ اکادیمی بندکردی گئی اور آج میں اس کے کھنڈرات پر کھڑا چشم تخیل سے اس ایکادیمی کی زندگی کے نوسوبرس کا مشاہدہ کر رہا تھا۔


ای پیپر