تقدیر… یا تدبیر…؟
23 جون 2020 (23:33) 2020-06-23

کوئٹہ سے اجمل کاسی کا ایک سوال تھا، سوچا کہ جواب کی بجائے افادِ عامہ کیلئے جوابی کالم ہی تحریر کر دیا جائے۔ تقدیر اور تدبیر کی بحث اتنی ہی قدیم ہے جتنا قدیم خود انسانی شعور۔ تدبیر اور تقدیر کے تقابل سے پہلے تقدیر کے بنیادی تصور سے آگاہی لازم ہے۔ دراصل تقدیر تخلیق کا ایک جزوِ لاینفک ہے۔ بساطِ تخلیق پر تقدیر کا نقشہ پہلے کھینچا جاتا ہے اور تخلیق کے مراحل اس کے بعد تشکیل پاتے ہیں۔ ایک کنکریٹ کی عمارت بھی تعمیر کرنا ہو تو وہاں کچھ نظر آنے سے پہلے میز پر اس کی تقدیر کا نقشہ کھینچ دیا جاتا ہے۔ کوئی عمارت الل ٹپ نہیں بنتی، اور نہ ہی یہ اِز خود بن پاتی ہے۔ مستری مزدو ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں کام دینے سے پہلے اِس کا خالق یعنی اس کی تقدیر کا مالک اپنے تخیل کے مطابق ایک نقشہ بنا کر اسے کسی کاغذ پر یا کم از کم اپنے حافظے کی لوح میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اِس کا ہر خشک و تر لکھ لیا جاتا ہے۔ اس میں کچھ اچنبھے کی بات نہیں کہ ہمارا مجمل ایمان مفصل نہیں ہو پاتا جب تک ہم تقدیر پر ایمان نہ لے آئیں۔ کسی خالق کے تصور کے بغیر زندگی بسر کرنے والوں کیلئے تصورِ تقدیر ایک دیومالائی داستان سے زیادہ کچھ نہیں۔ شخصی خدا کا تصور شاملِ شعور نہ ہو تو زندگی میں ایک بے رحم سبب اور نتیجے کے تسلسل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تقدیر کا تصور اِنسان کو بے عمل بنا دیتا ہے، وہ سب کچھ تقدیر پر چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھے کسی مستقبل کے حسین اور روشن ہونے کا انتظار کرتا رہتا ہے ، اِس کے برعکس جو افراد اور اقوام صرف سبب اور نیتجے کی سائینس پر یقین رکھتے ہیں وہاں تحقیق کا چلن ہے، جدید سائینس اور معروضی حقائق پر مبنی فلسفۂ حیات کا دور دورہ ہے۔ یہ نتائج وہ صرف گزشتہ تین سو برس کے یورپی industrialisationسے اخذ کرتے ہیں۔ انسان اگر صرف جسم ہوتا، یہ زندگی صرف جبلتوں کے اظہار کی ایک جولان گاہ ہوتی، انسان میں روح ، مذہب ، جذبات ، دل اور اخلاق کی کوئی جا ومنزل نہ ہوتی تو شاید کچھ حد تک اِس نتیجے سے اتفاق کیا سکتا تھا… لیکن طرفہ مصیبت یہ کہ آج کا ماڈرن اسکائی اسکریپرز میں پناہ گزین اور سبک رفتار طیاروں میں ایک بر اعظم سے دوسرے بر اعظم میں ایک ہی دن میں پھلانگنے والا انسان بھی دل اور جذبات کے ہاتھوں مجبور ہے، اسے بھی کسی ایسے سکون کی تلاش ہے ‘جس کا مسکن دل ہو۔ سبب اور نتیجے کے طلسم ہوشربا میں اپنے فکری حواس شل کر لینے والااِس اِشکال سے وقتی طور جان چھڑا سکتا ہے ‘ اگر وہ روح کو انسانی ذہن کا ایک تخیل، مذہب کومعاذاللہ ایک افیون یا کوئی معاشرتی انقلاب برپا کرنے کا طریقہ سمجھ لے، انسانی جذبات کو دماغ میں موجود کیمیکل نیوروٹرانسمٹر کی حرکت تصور کرے، دل کو دماغ ہی کا ایک مشتعل حصہ مان لے، اور اخلاق کو ایک معاشرتی رویہ اور social adaptation کے طور پر دیکھتا

رہے… لیکن تنہائی ، بڑھاپے اور احساس کا کیا کریں کہ یہ تینوں چیزیں مل کر ایک بار پھربقول غالب

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے

تقدیر کا تصور صرف ایمان والوں کیلئے ہے،یہ صرف اہلِ ایمان کو ایک اضافی تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس تصور کا اس کی عملی زندگی میں فاید ہ یہ ہوتا ہے کہ تقدیر ماننے والا اپنی کامیابی کو اپنے زورِ بازو کا نتیجہ سمجھ کر مغرور نہیں ہوتا، اور کسی مقصد میں ناکامی پر مایوس نہیں ہوتا۔ وہ اپنے حاصل کوخالق و مالک کی ایک عطا مان کر عجز و انکسار اور اخلاق کے دائرے میں رہتا ہے… اور اپنی کسی محرومی کا سبب دوسروں کو سمجھ کر انہیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا، اور اُن کے خلاف غصہ، حسد اور نفرت کے الاؤ نہیں بھڑکاتا۔ غصے کے الاؤ میں انسان سب سے پہلے خود جھلستا ہے۔ اس تخلیق کو ایک خالق کا عمل ماننے والے اس کی حکمت کو بھی ماننے ہیں، وہ اسے الخالق بھی ماننے اور الحکیم بھی۔یوں تصورِ خدا کی طرح تصورِ تقدیر بھی الہامی نعمتوں میں شامل ہے۔

کیا تصورِ تقدیر انسان کے بے عمل بنا دیتا ہے؟ تقدیر انسان کیلئے ایک دائرہ عمل معین کرتی ہے،اس کے آغاز اور انجام کو متعین کرتی ہے، وگرنہ اتفاقاً کوئی انسان ایسا بھی پیدا ہو جاتا جس کی عمر پانچ سو برس ہوتی، کوئی خاندان ہزاروں برس سے حکمران ہی چلاآتا… لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ تقدیر ہمارے لیئے وہ رینج مہیا کرتی ہے، جس رینج میں ہم اپنا عمل کے جوہر دکھا سکتے ہیں۔ کوشش بہت کچھ کر سکتی ہے ، لیکن سب کچھ نہیں کر سکتی۔ میں لاکھ کوشش کروں‘ْ امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا، کیونکہ مجھے پاکستان میں پیدا کر دیا گیا ہے۔ میں بچوں کا باپ تو بن سکتا ہوں، ماں نہیں بن سکتا ہے، کیونکہ مجھے مرد پیدا کیا گیا ہے۔ میری تقدیر اگر میری کوشش کا رخ متعین کرتی ہے تو اس میں میرا ہی بھلا ہے ، میرا وقت ضائع نہیں ہوتا، میں کسی لاحاصل مقصد کیلئے زندگی نہیں کھپاتا۔

اگر کوئی شخص تقدیر کو اپنی بے عملی کا جواز قرار دے تو اس کی کم فہمی بلکہ کج فہمی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس دین نے انسان کو تقدیر کا تصور دیا ہے‘ اسی نے بتایا ہے کہ اے انسان تجھے محنت کیلئے بنایا گیا ہے، اسی نے انسان پر سعی فرض کی ہے، اسی نے بتایا کہ انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی، محنت کرنے والے کو اللہ کو دوست اسی نے بتایا، اسی نے نجات کیلئے ایمان کے ساتھ عملِ صالح کی شرط بھی عاید کر رکھی ہے، اسی نے اپنے ماننے والوں کو گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا ہے، مجاہدہ اور جہاد ایک کٹھن اور پیہم عمل کا نام ہے، اسی قرآن نے بتایا کہ جو قوم خود کو نہیں بدلتی ‘اسے خدا نہیں بدلتا۔ تصورِ تقدیر کوکسی کٹ حجتی ، بے عملی بلکہ بدعملی کیلئے استعمال کرنا‘ ملائیت اور ملوکیت کا گٹھ جوڑ ہے۔ دَورِ ملوکیت میں حریتِ فکر کو دبانے کیلیے تقدیر کے ایسے تصور پر زور دیا گیا کہ عوام الناس روکھی سوکھی کھا کر’’قانع‘‘ رہیں، وہ اپنے حقوق کی آواز نہ اٹھائیں بلکہ موروثی بادشاہ کو خلیفتہ اللہ اور ظلِ الٰہی جانتے ہوئے اسے ہی اولی الامر تسلیم کر لیں کہ بادشاہ اور رعایا کی تقدیر یونہی’’ لکھی ہوئی‘‘ ہے۔ اپنے حقوق کیلئے جو اٹھتے ہیں وہ اس’’لکھے ہوئے‘‘ کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں اوراپنے لیے تقدیرِ نَو تحریر کرتے ہیں۔ اگر تقدیر کا ایسا جامد تصور راسخ ہو جائے تو سئیات اور حسنات میں فرق بھی ختم ہو جائے، جزا اورسزا کا جواز ختم ہو جائے۔ آخر قاتل کو آپ لوگ پھانسی کیوں لگاتے ہیں؟ چور کو جیل کیوں بھیجتے ہیں؟ ناجائز قبضہ کرنے والے کے خلاف عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتے ہیں؟ اپنے بچوں کو اچھا کام کرنے پر انعام اور برے پر سرزنش کیوں کرتے ہیں؟

اسباب ونتائج سنت ِ الٰہیہ ہیں۔ سنتِ الٰہیہ میں تبدیلی نہیں۔ انفرادی طور پر دعا کام کرے گی، کرامت بھی انفرادی چیز ہے… اجتماعی فیصلے سنتِ الٰہیہ کے مطابق ہوتے ہیں۔ جو قوم سنتِ الٰہیہ سے انحراف اور مسلسل انحراف کرے گی، اُس کی مہلت ختم ہو جائے گی اور قافلۂ زیست کی پرچم برداری کسی اورسونپ دی جائے گی۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے اپنے ایک خط میں فلسفہ خودی کے بارے میں لکھا کہ تقدیر کے جامد تصور نے میری قوم میں بے عملی کی فضا پیدا کر رکھی ہے، اور میں نے اِس تصور کی اصلاح کیلئے خودی کا تصور پیش کیا ہے۔

جسے اختیار دیا جاتا ہے‘ اس کیلئے تقدیر کی بحث ختم ہو جاتی ہے… کیونکہ اختیار اور حکم دے کراُس کام کی تقدیر کو اِس کے حوالے کیا گیا ے۔ اس میں بگاڑ اور اصلاح کا اب وہ ذمہ دار ہے۔ ایک ڈرائیور یا پائیلٹ کے ہاتھ میں مسافروں کی تقدیر دی جاتی ہے، ان کی تقدیر سے کھیلنے والوں کا حساب اور احتساب ہوگا۔ مقدمہ لاپرواہ ڈرائیور پر درج ہوگا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ دیکھو! کہیں اس نااہل ڈاکٹر کی طرح نہ ہو جانا جو کہے کہ ہم نے دوا دے دی ہے ‘ باقی مریض کی قسمت۔ یاد رکھو! قوم کی ذمہ داری لی جاتی ہے۔ آپؒ فرماتے کہ اپنی نااہلی کو تقدیر کا نام نہ دو۔تقدیر اور تدبیر کی بحث کو نمٹاتے ہوئے آپؒ فرماتے کہ تم تقدیر بنانے والے کے ساتھ ہو جاؤ ۔ جو خود کو اپنے مالک کے اَمر کے تابع کردے ‘ وہ تقدیر کی قید سے نکل جائے گا۔ اگر نباتات اور جمادات کی سطح پر زندگی بسر کرنی ہے تو تقدیر کی پابندی روا ہے، اگر مومنانہ روش پیش ِ نظر ہے تو مومن تقدیر کا نہیں بلکہ فقط احکامِ الٰہی کا پابند ہوتا ہے۔ بحرِظلمات میں گھوڑے دوڑانے والے آخر کس مٹی کے بنے ہوں گے۔

تقدیر کا میدان کتنا وسیع ہے ‘ اِس کا اندازہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کوشش کا گھوڑا سرپٹ دوڑا نہ لیا جائے۔ تدبیر کے ترکش میں موجود تیر جب تک چلائیںنہیں جائیں گے ‘ہم پراپنے امکانات کے اُفق کی وسعت آشکار نہ ہوگی۔ تدبیر ٹوٹے گی تو… عملی تقدیر کھلے گی۔ وگرنہ گھر بیٹھے تقدیر کے موضوع پر فلسفیانہ تیر تکے چلانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا… درست تصورِ تقدیر بھی نہیں!!


ای پیپر