طارق عزیز: اِک عہد کا خاتمہ!
23 جون 2020 (23:32) 2020-06-23

خشک پتوں کی طرح لوگ اڑے جاتے ہیں

شہر بھی اب تو نظر آتا ہے جنگل کی طرح

ابتدا رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ اوردیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو ہر ہفتہ اپنے منفرد انداز میں سلام پہنچانے والے طارق عزیز بھی لاکھوں دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو خدا حافظ کہہ گئے۔ اداکار، صداکار، شاعر، کمپیئر، انقلابی طالب علم رہنما، سیاستدان اور نہ جانے کیا کیا۔ زندگی کے 84 سال انہوں نے اس طرح گزارے کہ گزارنے کا حق ادا کر دیا۔ ہر دم متحرک، ہر لمحہ سر گرم رہنے والے طارق عزیز منفرد انداز کے کمپیئر اور جوشیلے مقرر تو تھے ہی مگر کمپیئرنگ اور خطابت کو انہوں نے ایک ایسی باڈی لینگوئج دے دی تھی کہ اداکاری، صداکاری اور کمپیئرنگ کی اکیڈیمی بن گئے تھے۔ نیلام گھر میں ان کی پھرتیوں ، بھاگ دوڑ اور سوال کرنے کے اچھوتے انداز نے انہیں ملک گیر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ 1936ء میں جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز نے مردم خیز شہر ساہیوال (تب منٹگمری)میں اپنا بچپن اور جوانی گزاری۔ اس شہر کو آج بھی ان پر فخر ہے اور وہ خود بھی اس شہر کا تذکرہ فخر اور محبت کے ساتھ کرتے تھے۔ ان کے والد عبدالعزیز نے پاکستان بننے سے کئی سال قبل ہی اپنے نام کے ساتھ پاکستانی کا لاحقہ لگا لیا تھا۔ طارق عزیز بتاتے تھے کہ اسی جوشیلے پن کے باعث ان کی سرکاری ملازمت چلی گئی جس کے بعد انہوں نے ساہیوال سے ایک اخبار نکال لیا۔ وہ پکے مسلم لیگی تھے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ لیاقت علی خان ایک بار منٹگمری آئے تو ان کے جلسے سے ننھے طارق عزیز نے بھی خطاب کیا۔ نوجوان طارق عزیز نے گورنمنٹ کالج ساہیوال کی ہنگامہ خیز سیات سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ کالج سٹوڈنٹس یونین کی انقلابی سیاست کے بعد وہ لاہور آ گئے اور بہت مشکل حالات کے بعد اس مقام تک پہنچے جہاں پہنچنا کسی کم ہمت کے بس کا روگ نہیں۔

میرا ان سے پہلا تعارف اس ملک کے لاکھوں دوسرے افراد کی طرح نیلام گھر کے ذریعے ہوا۔ جس کا ہمیں ہفتہ بھر انتظار رہتا تھا۔ اس پروگرام میں ادب، معلومات عامہ، شاعری، انٹرویوز اور دنیا جہان کی دوسری ورائٹی ملتی تھی۔ اتفاق سے نیلام گھر کے ابتدائی پروگراموں میں میرے ایک کزن نے تمام سوالات کے جوابات دے کر کار جیت لی تھی۔ اس طرح طارق عزیز

کسی شناسائی کے بغیر ہماری عام گفتگو کا حصہ بن گئے ۔ میں پنجاب یونیورسٹی پہنچا تو پروفیسرمہدی حسن صاحب کلاس روم اور عام محفلوں میں ان کا خاصا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ دونوں ابتدائی جوانی ا ور ساہیوال لاہور کے اچھے برے دنوں کے ساتھی تھے۔ میراان سے براہ راست تعلق 1980ء کی دہائی کے وسط میں ہواجب ہمارے انتہائی محنتی اور مخلص دوست رضا سہیل مرحوم نے ایک فنانس کمپنی کے تعاون سے نیشنل ٹائمز نامی انتہائی معیاری اور اعلیٰ رسالہ نکالا۔ اس میگزین کے چیف ایڈیٹر طارق عزیزاور پبلشر سابق سیکرٹری اطلاعات اور معروف شاعر جناب شعیب بن عزیز تھے۔ جناب رضا سہیل کی خواہش پر میں اس میگزین کے لیے ہر ماہ طلال سید زادہ کے قلمی نام سے ایک سیاسی انٹرویو کرتا تھا جو عام طور پر ٹائٹل کی زینت بنتا تھا۔ اس طرح جناب طارق عزیز سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب کبھی بنک سکوائر میں واقع نیشنل ٹائمز کے دفتر جانا ہوتا ۔ طارق عزیز صاحب بڑی محبت سے ملتے۔ چائے پر گپ شپ ہوتی۔ وہ حوصلہ افزائی تو خاصی کرتے مگر کسی کمی کوتاہی کی نشان دہی سے ہمیشہ گریز کرتے۔ یہ میگزین کچھ عرصہ بعد بند ہو گیا تویہ ملاقاتیں بھی تقریبات تک محدود ہو گئیں۔ کچھ عرصہ بعد طارق عزیز ہمارے حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار ہو گئے وہ اپنی انتخابی مہم پر نکلے تو تجدید تعلقات کی ایک صورت پیدا ہو گئی۔ اورہم اس مہم میں شریک ہوگئے ۔وہ انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ سرپرستی کرتے۔ یہ پیپلزپارٹی کا ایسا مضبوط حلقہ تھا جہاںسے خود ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو انتخاب جیت چکی تھیں لیکن طارق عزیز نے پیپلز پارٹی کے امیدوار جناب مصباح الرحمان کے علاوہ موجود وزیراعظم عمران خان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ انتخابات جیتنے کے بعد انہوں نے ہمارے علاقے میں بہت سے ترقیاتی کام کروائے۔ اس دوران بلدیاتی انتخابات آئے تو طارق عزیز صاحب نے بڑی محنت کر کے ہماری بستی سے ہمارے امیدواروں کو کامیابی دلوائی۔ ان دنوں ان سے روزانہ ملاقاتیں ہوتیں۔ پھر یہ سلسلہ آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا گیا لیکن جہاں کہیں ملاقات ہوتی وہ پرانے تعلق کا حوالہ دیتے۔ وہ نچلے بیٹھنے والے فرد نہیں تھے۔ ان کے جسم میں پارہ اور زبان میں شعلے بھرے تھے۔ 1970ء کی انتخابی مہم میں وہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ ضیاء دور میں آرٹسٹس ایکوٹٹی کے پلیٹ فارم سے متحرک رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے انہیں قومی اسمبلی میں پہنچایا تو سپریم کورٹ حملہ کیس کا ایک کردار بن گئے ۔ بعد میں وہ مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے اور اب آخری دنوں میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں متحرک ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ موت کا بلاواآ گیا۔ یوں ایک متحرک اورہمہ جہت صفات کا حامل شخص اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گیا۔

جس روزطارق عزیز اپنے آخری سفر پر روانہ ہوئے اسی روز لاہور کی صحافتی برادری ایک مخلص، دیانتدار اور ہمدرد ساتھی سے محروم ہو گئی۔ حافظ عبدالودود ایک عرصہ سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کی طویل بیماری کی وجہ سے ہر وقت دھڑکالگا رہتا تھا۔ سوشل میڈیا پر ان کی اپنی پوسٹوں سے بھی مایوسی بڑھ جاتی مگر علاج اور دوستوں کی دعائوں اور ہمت دلانے سے وہ پھر کھڑے ہو جاتے تھے تاہم یہ سارا عرصہ بیماری سے لڑائی ہی میں گزر رہا تھا کہ موت کا علاج تو کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ حافظ عبدالودو انتہائی پروفیشنل صحافی، مخلص ٹریڈ یونین ورکر اور صحافیوں کے حقوق کے علاوہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی ہر جدوجہد کے عملی شریک کار تھے۔ ہم دونوں اسلامیہ کالج کی طلبہ سیاست میں متحارب گروپوں میںتھے۔ وہ سیف اللہ سیف مرحوم کی قیادت میں لبرل اور ترقی پسند طلبہ کے گروہ میں تھے اور ہم حافظ شفیق الرحمن کے ساتھی۔سٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں پہلی بار کامیابی ہمارے حصہ میں آئی اور اگلے سال حافظ و دود کے گروپ نے میدان مار لیا۔ کالج میں بھی ہمارے باہمی تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں تھی۔ میدان صحافت میں آنے کے بعد تو حافظ صاحب اور خود سیف اللہ سیف مرحوم کے ساتھ محبت اور اپنائیت کا ایساتعلق قائم ہوا جس پر ہم دونوں کو فخر رہے گا۔ چند سال قبل حافظ صاحب کا جواں سال بیٹا اچانک وفات پا گیا جس نے حافظ صاحب کو ہلا کر رکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ بظاہر تو سنبھل گئے لیکن یہ دکھ ان کی روح تک کو گھائل کرچکا تھا۔ وہ ہمت کر کے صحافت کے پیشے میں رزق حلال کماتے رہے ترقی پسند دوستوں کی سیاسی و صحافتی مدد بھی کرتے رہے لیکن جواں بیٹے کی موت نے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ چنانچہ ایک کے بعد ایک بیماری حملہ کرتی رہی۔ کبھی ڈائلسز پر آگئے کبھی سانس کی تکلیف بڑھ گئی۔ اس دوران وہ سوشل میڈیا پر متحرک رہے اور بالآخر17 جون کو اس ابدی سفر پر روانہ ہو گئے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔


ای پیپر