امن واستحکام کو دائو پر لگانے والے بھارت کو پاکستان کا خاص پیغام
23 جون 2020 (22:54) 2020-06-23

اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروفی نے کہا کہ پاکستان وزارت خارجہ کیلئے بھارت کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتاہے اورقطعی مسترد کرتے ہوئے یہ بھارت کا محض ایک بہانہ ہے تاکہ اس آڑ میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشنکے عملے کی تعداد میں 50 فیصد کمی کرے، پاکستان نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کی جانب سے سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کی کسی بھی خلاف ورزی کے بھارتی الزام کو دوٹوک طورپر مسترد کرتے ہوئے اعادہ کرتا ہے کہ پاکستانی عملے نے ہمیشہ عالمی قانونی اور سفارتی آداب کی حدودقیود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دئیے ہیں۔

منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کو ڈرانے دھمکانے کے بھونڈے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم بھارتی ہائی کیکمیشن کے ملوث پائے جانیوالے اہلکاروں کی غیرقانونی سرگرمیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی، بھارت کی وزارت خارجہ کا بیان بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کے جرائم چھپانے اور حقائق کو ایک بار پھر مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

بھارت کی تازہ کارروائی بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور قابض بھارتی افواج کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے توجہ ہٹانے کی مایوسی پرمبنی ایک اورکوشش ہے۔ بھارت کے لئے بہتر ہوگا کہ جنوبی ایشیاء میں امن واستحکام کو داو پر لگاتے ہوئے نئے مسائل پیدا کرنے کے بجائے داخلی اور خارجی امور پر توجہ دے۔

پاکستان عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کرتا آرہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ طلب کیاگیا اور بے بنیادبھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔ بھارتی ناظم الامور کو پاکستان کے اس فیصلے سے آگاہ کیاگیا کہ جوابی اقدام کے طورپر بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد50 فیصد کم کی جارہی ہے۔ بھارتی ناظم الامور سے کہاگیا کہ اس فیصلے پر سات روز میں عمل درآمد کریں۔


ای پیپر