مذہبی آزادی،امریکی تھپکی اورنئے مطالبات
23 جون 2020 (17:10) 2020-06-23

امریکہ نے پی ٹی آئی حکومت کو شاباش دی ہے کیوں کہ اس حکومت نے مذہبی آزادی کے حوالے سے وہ اقدامات کیے ہیں جوامریکہ کومطلوب تھے مگراس تھپکی کے بعد امریکہ نے نئے مطالبات کی جوفہرست رکھی ہے وہ نہایت خوفناک ہے یہ مطالبات اوراقدامات ملک میں انارکی پھیلانے کی سازش ہیں ،پی ٹی آئی حکومت سے کوئی بعیدنہیں کہ وہ ان مطالبات کی حامی بھرلے بلکہ بعض لوگوں کاکہناہے کہ عمران خان توان مطالبات کوپورے کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہی برسراقتدارآئے ہیں یالائے گئے ہیں اسی لیے موجودہ حکومت مذہبی اعتبارسے مسلسل ایسے معاملات کوچھیڑرہی ہے جوطے شدہ ہیں ۔

تبدیلی سرکارنے گزشتہ دوسالوں میںریاست مدینہ کے مقدس نعرے کی آڑمیں مذہبی اعتبارسے جواقدامات کیے ہیں اس سے اہل پاکستان پہلے ہی تشویش میں مبتلا ہیں اس سے یہ ثابت ہواہے کہ حکومت امریکی آقائوں کے اشاروں پریہ سب کچھ کررہی ہے اقتصادی کونسل میں قادیانی مشیرمیاں عاطف کی تقرری ،توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ مسیح سمیت دیگرملزمان کی رہائی ،پہلے سودنوں میں ہی ناموس رسالت قانون میں ترمیم کی کوشش ،حج فارم سے ختم نبوت کاحلف نامہ ختم کرنااورقومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کوشامل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں اورامریکہ نے ان اقدامات پرشاباش دے کرمہرتصدیق بھی ثبت کردی ہے ۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آرایف)نے بدھ کو واشنگٹن میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اسے ان ممالک کی فہرست سے نکال دے جہاں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے تو پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت پاکستان ملک میں توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اگرچہ اس نے اپنی اس سال کی رپورٹ میں پاکستان کوان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے واشنگٹن کو خاص تشویش ہے، تاہم کمیشن نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے اس دوران مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے کئی مثبت اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔جس کے بعد پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں کیا کمیشن نے حکومت کوشاباش دی ہے اورکہاہے کہ پاکستانی حکومت نے جواقدامات اٹھائے ہیں خاص طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی، وجیہہ الحسن کیس، سیالکوٹ میں شوالہ تیجا سنگھ مندر کو ہندوں اور کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے کھولنے اور سپریم کورٹ کی حمایت یافتہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو سراہا۔

امریکہ کی طرف سے ان اقدامات کوسراہاہی نہیں گیابلکہ انعام بھی دیاہے ،سال 2002 سے کمیشن ہر سال پاکستان کو Country of Particular Concern یا سی پی سی کی لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کرتا آ رہا ہے تاہم امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ

ڈیپارٹمنٹ) نے پہلی بار پاکستان کو 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا۔پاکستان سے امریکہ کی قومی سلامتی سے جڑے مفادات کے پیش نظر واشنگٹن نے دو سالوں تک پاکستان کو سی پی سی سے مستثنی قراردے دیاہے۔ سعودی عرب اور تاجکستان کے بعد پاکستان وہ تیسرا ملک تھا جسے امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر 2019 میں استثنیٰ دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: 'خارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات کی روشنی میں کمیشن یہ سفارش کرتا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ (ایفرا)کے تحت پاکستان اور امریکہ ایک ایسا معاہدہ کریں جس کے تحت حکومت پاکستان کو ایسے معنی خیز اقدامات اٹھانے کو کہا جائے جس سے مذہبی اقلیتوں کی حالت بہتر ہو۔ اس دوطرفہ معاہدے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حالات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خود پاکستان کو سی پی سی سے نکلنے کا راستہ واضح طور پرمعلوم ہو گا۔ کمیشن نے پاکستان سے سی پی سی سے نکلنے کے لیے کئی قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ صرف مطالبات ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں امریکی گماشتے اوردیسی گورے کئی سالوں سے سوشل میڈیاپراس حوالے سے مہم چلارہے ہیں ،توہین رسالت قانون ان کاخاص ٹارگٹ ہے ،توہین رسالت کے ملزمان کی رہائی کے لیے وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں ،اقلیتوں کے حقوق کے نام پردوکانداری چمکارہے ہیںاگرچہ وہ یہ کام ڈالرخوری کے لیے کررہے ہیں مگرانہیں اندازہ نہیں کہ اس سے ان کی پیٹ کی آگ توبجھ جائے گی مگرجہنم کی آگ وہ کیسے ہضم کریں گے؟

امریکی کمیشن نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے نادرا سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ فارم میں شہریوں سے ان کے مذہب کے بارے میں سوال ختم کرے کیونکہ اس سے کمیشن کے مطابق تمام مذہبی گروہوں اور خاص کر احمدی(قادیانی) فرقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ احمدی (قادیانیوں ) کی مذہبی کتب و دیگر مواد کی اشاعت پر پابندی ہٹا دے اور توہین رسالت سے متعلق تمام قوانین کا ازسرنو جائزہ لے کیونکہ یہ قوانین مبینہ طور پر غیرمسلموں کے خلاف ذاتی مفادات کی خاطر استعمال ہوتے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ امریکہ کس طرح پاکستان میں نئی آگ کوہوادیناچاہارہاہے ؟

اسی طرح کمیشن نے درمیانی مدت کے اقدامات اٹھانے کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات میں انصاف کا تقاضہ پورا کیا جائے کیونکہ یہ قوانین خود پاکستان کے قانون میں دیے گئے شہری حقوق کے خلاف ہیں جو برابر حقوق کا وعدہ کرتے ہیں۔ نیز توہین رسالت کے مقدمات کی تجربہ کار پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں تحقیق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمات کئی سالوں تک چلتے رہتے ہیں اور عدلیہ کو چاہیے کہ ان مقدمات کا تیزی سے فیصلہ کرے۔ مزیدکہاہے کہ جن افراد پر توہین رسالت کے مقدمات ہیں انہیں یہ حق دیا جائے کہ ان کی ضمانت ہوسکے اور جو لوگ اس طرح کے مقدمات میں غلط بیانی کرتے ہیں ان کے لیے سزا مقرر کی جائے۔ حالانکہ پاکستان میںتوہین رسالت کے مقدمات اس وقت تک درج نہیں ہوتے جب تک ایس پی لیول کاافسرمکمل تحقیق نہ کرلے اورجھوٹے مقدمے پرتعزیرات پاکستان کی ایک شق 182 پہلے سے موجودہے۔

کمیشن نے طویل مدتی اقدامات کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان پینل کوڈ کے آرٹیکل 295اور298 اے کا خاتمہ کرے جس کے تحت توہین رسالت کو جرم قراردیا گیا ہے یوں یہاں آکرامریکی بلی مکمل تھیلے سے باہرآجاتی ہے اورواضح ہوجاتاہے کہ ان کاایجنڈہ کیاہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے: 'توہین رسالت کے قوانین عالمی انسانی حقوق کے معیار سے متصادم ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہرکسی کو حق حاصل ہے کہ توہین کرنے والے کے خلاف آوازاٹھائے لیکن اگر ایسے قوانین بنتے ہیں جو توہین پر سزائیں مقرر کرتے ہیں تو ایک طرح سے یہ مذہبی آزادی اور متعلقہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اس سے پہلے اقوام متحدہ بھی پاکستان سے ICERD اور ICPRC کنونشنز کی آڑ میںقانون توہین رسالت ختم کرنے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں ۔

اس رپورٹ سے واضح ہوگیاہے کہ ہماراملک نظریاتی طورپرکس طرف جارہاہے ؟حکومت مستقبل میں ان اقدامات پرعمل درآمدکرنے کے لیے کیامنصوبے بنارہی ہے اورآنے والے حالات کیاپیغام دے رہے ہیں اس حوالے سے قوم کوبیداری کامظاہرہ کرناہوگا۔


ای پیپر