مطالعے اور کتابوں کی دُنیا… !
23 جون 2020 (17:10) 2020-06-23

نامور بیوروکریٹ مرحوم الطاف گوہر کی تصنیف ’’ایوب خان ۔۔۔۔فوجی راج کے دس سال‘‘ کے بعض اہم مندرجات کاتذکرہ ہو رہا تھا۔ پہلے بھارت کی نیفا کے محاذ پر چینی فوجیوں کے ہاتھوں زبر دست پٹائی، شکست اور چینی فوجوں کے سرحد عبور کر کے بھارت کے کافی اندرآ جانے کے معاملے کو لیتے ہیں۔ بلاشبہ 1962ء میں نیفا (بھارت کے شمال مشرق میں بھارتی صوبہ آسام اور چین کا سرحدی علاقہ) کے محاذ پر بھارت کو عبرت ناک پسپائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چین اس موقع پر یہ بھی چاہتا تھا کہ پاکستان اپنی افواج کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروائے۔ راولپنڈی میں چین کے سفیر نے صدر پاکستان (فیلڈ مارشل ایوب خان ) کے پرنسپل سیکریٹری جناب قدرت اللہ شہاب مرحوم کو آدھی رات کے وقت جگا کرچواین لائی کی قیادت میں چینی حکومت کا اس بارے میں یعنی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوجوں کی پیش قدمی کا پیغام پہنچایا۔ جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنی تصنیف ’’شہاب نامہ‘‘ میں اس واقعے کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے بقول انہوں نے اسی وقت چینی سفیر کے پیغام کو صدر ایوب تک پہنچا دیا لیکن صدر ایوب خان نے بعض خدشات اور مضمرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر کسی مثبت ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جس سے قدرت اللہ شہاب مرحوم کو بھی مایوسی ہوئی۔ خیر بات دوسری طرف نکل گئی بھارت کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جو غیر جانبدار ملک کے طور پر بھارت کے خود ساختہ کردار کی بنا پر اپنے آپ کو غیر جانبدار ممالک کی تنظیم اور تیسری دنیا کے بڑے لیڈر کے طور پر منوائے ہوئے تھے اور اس میں کچھ اور عالمی لیڈر جن میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر، یوگو سلاویہ (مرحوم) کے صدر مارشل ٹیٹو ، انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو، کیوبا کے صدر فیدرل کا سترو اور تنظیم آزادی فلسطین کے رہنما یاسر عرفات وغیرہ شامل تھے۔ سبھی پنڈت نہرو کی طرف سے پاکستان کو امریکہ کا حاشیہ بردار ملک ہونے پر تنقید کا نشانہ بنانے کی تائید بھی کرتے رہتے تھے۔ اب چین کے ہاتھوں شکست کے بعد وہی پنڈت نہرو غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کے ایک اہم رہنما کے بھیس میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے فوجی امداد کے طلب گار ہی نہیں تھا بلکہ یہ بھی چاہتا تھا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے روائتی دشمن بھارت کے لئے کسی طرح کی مشکل کا باعث نہ بنے۔گویا پنڈت نہرو کی حکومت غیر جانبدار ممالک میں اپنی حیثیت کو قائم رکھنا چاہتی تھی تو دوسری طرف امریکی فوجی امداد کی بھی خواہش مند تھی ۔ جس کے لئے بھارتی حکومت کے بعض اہم عہدیداروں کے امریکی حکومت (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹا گون) سے خفیہ مذاکرات ہوئے اور بھارت کے لئے امریکی فوجی امداد اور اسلحہ کی فراہمی کے لئے معاہدے (یا کم از کم رضامندی) کے میمورینڈم پر دستخط ہوئے۔

جناب الطاف گوہر نے اپنی کتاب میں اُس وقت (1965ء) کی پاکستان کی فوجی قیادت کے بعض با اثر افراد جنہیں صدر ایوب خان کی حکومت میں شامل کچھ سویلین افراد جن میں انتہائی طوقتور حیثیت اور بھارت دُشمنی میں مضبوط مئوقف کے حامل سمجھے جانے والے وزیرِ خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو سرِ فہرست تھے کی مکمل حمایت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی تائید سے قائم حکومت اور قابض بھارتی فوجوں کے خلاف گوریلا کاروائیوں پر مشتمل شروع کیے جانے والے خفیہ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور واقعات و شواہد سے یہ واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کی بنیاد ، نفاذ اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار میں کئی بنیادی خامیاں تھیں۔ دوسری طرف اس آپریشن کے خالق ، اس کے موید، اس کی پبلسٹی سے وابستہ افراد اور ادارے اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے اور اس کو Over all Operate کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز فوجی افسران اور متعلقہ ادارے اس کے بارے میں انتہائی پُر جوش ہی نہیں بلکہ اس سے متوقع نتائج کے حصول کے بارے میں بھی انتہائی پُر اُمید تھے ۔ خیر یہ’’ آپریشن جبرالٹر‘‘جسے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجوں کے خلاف کشمیری مجاہدین اور حریت پسندوں کے اُٹھ کھڑے ہونے (بغاوت کرنے) کا نام دیا گیا ، جس کی پبلسٹی کے لیے وفاقی وزارتِ اطلاعات (الطاف گوہر جس کے سیکریٹری تھے) کی زیرِ نگرانی ایک خصوصی شعبہ اور ریڈیو

نشریات کا ایک خصوصی چینل بھی قائم کیا گیا ۔ یہ آپریشن شروع میں کسی حد تک کامیاب رہا اور بھارتی مقبوضہ افواج کے کیمپوں اور مراکز کو گوریلا کاروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے بھاری جانی ، مادی اور مالی نقصانات پہنچائے گئے۔ بھارت نے شروع سے یہ مئوقف اختیار کیا کہ یہ مجاہدین یا حریت پسند نہیں بلکہ’’ گھس بیٹھیے‘‘ (زبردستی گھس کر آنے والے) شر پسند عناصر ہیں جنہیں پاکستان کی مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے کمانڈوز اور گوریلا کاروائیوں کے ماہر فوجیوں کی حمایت ، امداد اور ساتھ حاصل ہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ کشمیری حریت پسند اور مجاہدین ہیں جو بھارتی غاصب افواج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے طور رپ مسلح گوریلا کاروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت ہردو ممالک اپنے اپنے مئوقف کے حق میں پبلسٹی اور تشہیر پر پورا زور لگائے ہوئے تھے پھر ایسا ہوا کہ بھارت مسلح گوریلا کاروائیوں میں ملوث ایک دو افراد کو پکڑ کر میڈیا کے سامنے لے کر آ گیا جنہوں نے تسلیم کیا کہ اُن کا تعلق پاکستان کی مسلح افواج کے فلاں یونٹ یا رجمنٹ سے ہے۔ اس طرح بھارت کو اپنے حق میں عالمی رائے عامہ کی تائید اور حمایت حاصل ہو گئی جو بعد میں اُس کے لیے بڑی معاون اور مدد گار ثابت ہوئی۔

قارئین اس طرح کے واقعات کا بیان کرنا یا ان کا حوالہ دینا شاید بہت سارے لوگوں بالخصوص نئی نسل کے لیے کوئی زیادہ دلچسپی کا باعث نہیں ہو سکتا۔ سچی بات ہے میرے لیے بھی ان کو جیسے میں نے یہ پڑھے ہیں یاسمجھے ہیں یا ان کے بارے میں دیگر ذرائع سے میرے پاس جو معلومات ہوتی ہیں اُن کو سامنے رکھ کر بعینہٖ ا س طرح بیان کرنا یا اُن کی تفہیم کرنا آسان نہیں ہے۔ پھر حالات و واقعات کا ایک خاص پس منظر، پیش منظر اور سیاق و سباق ہوتا ہے۔ ایک خاص دور میں یہ تمام جزئیات اہمیت کی حامل ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اہمیت کم ہوجاتی ہے یا پھر کسی جدید لکھنے والے کو اتنی فرصت یا لگن کہاں کہ وہ عرق ریزی کرے اور پورے سیاق وسباق اور معروضی پس منظر اور پیش منظر کو سامنے رکھ کر اس طرح کے تاریخی حالات و واقعات کو جنہوں نے پاکستان کی تاریخ ہی نہیں بلکہ جغرافیے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے اُن کو بیان کرے۔ اُس کے لیے آسان ہے کہ وہ بر سرِ زمین حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر ایک سطحی سی رائے دے دے کہ فلاں نے یہ کیا یا فلاں ڈکٹیٹر تھا یا فوجی آمر تھا وغیرہ ۔

قارئین! واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ’’آپریشن جبرالٹر ‘‘ اور اُس کے بعد ستمبر 1965ء پاک بھارت کی 17 روزہ جنگ کا آپس میں ایک گہرا تعلق بنتا ہے۔ جیسے میں نے اوپر کچھ اشارہ دیا کہ صدر ایوب خان اور شاید کسی حد تک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ’’ آپریشن جبرالٹر ‘‘کے حق میں نہیں تھے البتہ بعض فوجی جرنیل جن میں فوج کے بارہویں ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC ) میجر جنرل اختر حسین ملک جن کا تعلق میرے آبائی گائوں چونترہ سے کچھ فاصلے پر واقع معروف گائوں پنڈوڑی جہاں OGDCL کے تیل اور گیس کے کنوئیں بھی ہیں سے تھا۔ اُن کے والد ملک غلام نبی جن کا تعلق شاید محکمہ تعلیم سے تھانے اپنی منفعت پسندی اور انگریزی حکومت کے عہدیداروں کی ایما پر مرزئیت کو قبول کر کے اپنے بیٹوں کو فوج میں کمیشن دلانے میں کامیاب رہے تھے۔ میجر جنرل اختر حسین جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل بنے اُن کے بڑے بیٹے تھے جو’’ آپریشن جبرالٹر‘‘کو Over all Operate کر رہے تھے۔ آپریشن جبرالٹر سے جب مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو یکم ستمبر 1965ء کو پاکستانی افواج نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں سیز فائر لائن (موجودہ لائن آف کنٹرول) کو عبور کر کے پیش قدمی شروع کر دی اور اگلے تین چار دنوں میں دریائے توی کو عبور کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اس طرح پیش قدمی جاری رکھی کہ بھارتی افواج کے اسلحہ اور گولہ بارود کے وسیع ذخائر ہی پاکستانی فوجیوں کے قبضے میں نہیں آئے بلکہ بھارتی فوجوں کو سیالکوٹ کے شمال مشرق میں اکھنور کے اہم مقام جہاں سے پٹھان کوٹ سے جموں کو سڑک جاتی ہے وہاں تک دھکیلنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس طرح بھارت کیلئے یہ شدید خطرہ پید اہو گیا کہ کہیں مقبوضہ کشمیر اُس کے ہاتھ نکل نہ جائے تو اُس نے 6 ستمبر کی رات کو واہگہ کی بین الااقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ 17 روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے کیا کچھ حاصل کیا اور کیا کھویا اور بھارت کے حصے میں کیا کچھ آیا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے ۔ جس کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں البتہ کبھی موقع ملا تو جنرل اختر حسین ملک اور اُن کے چھوٹے بھائی جنرل عبدالعلی ملک جو مرزائی اور میرے ایمان اور یقین کے مطابق حلقہ اسلام سے خارج اور کفر کے راستے پر چلنے والے تھے مگر 1965ء کی جنگ میں بہادری میں بے مثال ثابت ہوئے کا تذکرہ ضرور کیا جائے گا۔


ای پیپر