کیا عیسیٰ فائز ہو گئے؟
23 جون 2020 (17:09) 2020-06-23

سچ بہت بے دید، بے لحاظ، بے خوف ہوتا ہے۔ 1500 سال بعد بھی سڑکوں پر ماتم کرتا ہے کہ یزید تم باطل، شر، ظالم، غاصب اور حیوانیت تھے۔ یہ قیامت تک للکارے گا کہ حسینیت حق اور انسانیت ہے۔آتے ہیں وطن عزیز کی طرف سچ کئی دہائیوں بعد جسٹس منیر کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے کہ اگر تم نہ ڈھے جاتے تو قوم بھی کھڑی رہتی اور ایوب خان کے دس سال ترقی نہیں حق تلفی اور قومی تنزلی کے تھے جس میں ملک کو دو لخت کرنے کی بنیاد فراہم کی گئی۔ 45 سال بعد یہ سچ ہی ہے جس پر پوری قوم متفق ہے کہ بھٹو صاحب کا قتل عدالتی قتل تھا۔ یہ سچ پتہ نہیں اتنا بے دید کیوں ہوتا ہے کہ فائز عیسیٰ جیسے شائستہ، اعلیٰ خاندانی پس منظر رکھنے والے جج صاحب کو عدلیہ کا بھٹو بنا دیتا ہے۔ حکومت، حکومتی ذرائع فروغ نسیم کا بھیس بدل کر آنا، ٹوپی بدل کر آنا اور میڈیا پر مسٹر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بولنے کے لیے آزادانہ بلکہ سبقت لے جانے کے لیے ایک دوسرے کو روندتے ہوئے دکھائی دینا المیہ ہے۔ فائز عیسیٰ ہیں کہ عدالت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ سچ کی قوت ہی ہے جس نے جھوٹ کو سومنات کے تباہ شدہ مندر میں بدل دیا۔ ریفرنس، شوکاز نوٹس کالعدم، FBR ہومیو پیتھک ادارے کی پہلی کارروائی فارغ اور اب نئے سرے سے رپورٹ تیار کرنے کا حکم۔ یہ الگ بات ہے کہ 5 سال پرانے انکم ٹیکس کیس کو ایف بی آر نہیں کھول سکتا اور نہ ہی نان ریزیڈنٹ پاکستانی ایف بی آر کو گوشوارہ اور ویلیتھ سٹیٹمنٹ جمع کرانے کے پابند ہیں جبکہ جسٹس صاحب کے بیوی بچے نان ریزیڈنٹ پاکستانی ہیں۔ بنیادی قانون کے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ جس چیز کو ریفرنس کی بنیاد بنایا گیا وہ خود بخود ختم ہو گئی۔ 370روز میں 46 سماعتیں ہوئیں، بہت اتار چڑھاؤ آئے۔ ایک موقع پر عدالت نے فروغ نسیم سے پوچھا کہ صدر نے ریفرنس پڑھا ہے؟ سوچ سمجھ سے کام لیا ہے؟ یعنی اپنے دماغ کو استعمال کیا ہے یا وزیراعظم نے پڑھا ہے تو فروغ نسیم عدالت میں فرماتے ہیں کہ صدر دندان ساز ہیں اور وزیراعظم کرکٹر تھے۔ قانونی موشگافیوں سے واقف نہیں ہیں لہٰذا فائل جیسے آئی وہ

آگے چلی گئی۔ ویسے تو ریفرنس اس بات پر ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ اس اذیت کا ازالہ کون کرے گا۔ کسی بھی دیانت دار جج کا وقت اور ذمہ داریوں کا دورانیہ دراصل قوم کا وقت ہوتا ہے جتنی دیر جسٹس صاحب عدالت نہ کر سکے یا نہ کر پائیں گے کیا ریفرنس کے فارغ ہونے کے بعد وہ دورانیہ اُن کی ذمہ داریوں کے وقت میں توسیع کر کے قوم کو اُس کا وقت لوٹایا جا سکے گا۔ ویسے تو قوم کے 71 سے 77 کے علاوہ باقی سارے سال ضائع کر دیئے گئے یہاں کون ازالہ کرے گا کون مداوا بنے گا۔

دراصل فروغ نسیم جب کابینہ میں ہوتے ہیں تو حکومت ان کو قانون دان سمجھ کر رائے لیتی ہے نتیجہ آدمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن ہی باسکٹ بال کی گیند بنا دی گئی۔ موصوف عدالت میں وزیر سا رویہ اور سیاست دانوں جیسا بیان دے دیتے ہیں کہ صدر دندان ساز ہے اور وزیراعظم کرکٹر ہیں۔ فائل جیسے کسی محکمہ سے چلی ہوئی آئی اورآگے سپریم جودیشل کمیشن کو پہنچ گئی۔ مجھے اس بات پر وطن عزیز کے ضرب المثل جج جناب رستم خان کیانی کی بات یاد آتی ہے۔

سورۃ رحمن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: و لسمآء رفعھا ووضع المیزان لکھ کر انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس آیت میں میزان کا ذکر تین مرتبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ انسان کو توازن کے اصول کی اہمیت کا خاطر خواہ اندازہ ہو جائے اور پھر اس بات پر افسوس کیا ہے کہ ہمارے نظام عدل میں صرف قانون کے کورانہ نفاذ پر ساری توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ قانون کے پیچھے جو انصاف کا تصور ہوتا ہے اس سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں ہمارے جج صاحبان اور وکلاء صاحبان قانون میں بہہ جاتے ہیں اور قانون کا اصل مقصد نہیں دیکھتے کہ عدل اور توازن ہے‘‘۔

اسی سلسلے میں مزید کہتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ جب میں سینئر جج تھا تو ایک شخص کا مقدمہ زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے خارج ہوا تو اس نے کہا یہ عدالت تو نہ ہوئی میں نے تلخی سے جواب دیا کون کہتا ہے کہ یہ عدل و انصاف کی جگہ ہے، یہ تو کچہری ہے اور آپ یقین جانیے کہ میری ساری عدالتی زندگی اسی عدالت اور کچہری میں توازن قائم کرنے میں صرف ہوئی ہے‘‘۔

آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے دفاع کے سلسلے میں اپنی تقریروں کا جواز پیش کرتے ہوئے کیانی صاحب نے ایک بڑے نکتے کی بات کہی ہے ’’انصاف کامجسمہ بینائی سے تو محروم ہوتا ہے لیکن گویائی سے محروم نہیں ہوتا۔ یہ کبھی دیکھنے میں آیا کہ اس کے ہونٹوں پر مہر ہو یا وہ سلے ہوئے ہوں‘‘ اور پھر آگے چل کر انہوں نے یہ وضاحت کر دی کہ اگر وہ جج ہوتے ہوئے کچھ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو گویا وہ لوگوں کے دلوں سے اٹھتی ہوئی فریاد کا جواب دیتے ہیں جو انصاف کے مجسمے سے حرف حق کی توقع رکھتے ہیں ’’جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ بت کی طرح کیوں کھڑے ہو تو ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ منہ میں زبان رکھتے ہو، دل میں تڑپ رکھتے ہو،سر میں سمجھ رکھتے ہو کچھ تو بولو‘‘ کیانی صاحب نے بڑے وزنی استدلال سے اپنی حق گوئی کا جواز نکالا ہے۔ ایک طرف تو خدا نے انسان کو قوت گویائی عطا کرکے اس کام پر مامور کیا کہ جو کچھ اس کے دل پر گزرتی ہے اس کا اظہار کرے اور دوسری طرف لوگ ججوں کو انصاف کے مجسمے کا نمائندہ سمجھ کر ان سے یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ انصاف کے ہونٹوں پر کوئی مہر نہیں ہے تو وہ تو کم از کم حرف حق کہنے سے گریز نہ کریں۔

اب قوم کی نظریں ایف بی آر جیسے ہومیو پیتھک ادارے کی طرف ہیں جس کی زیادہ تر تعداد تو پرکشش جگہ پر تعیناتی کے لیے اخلاقی حدیں بھی پار کر جایا کرتی ہے۔ 20 سکیل کا آفیسر عصر حاضر کے رستم خان کیانی اور ضرب المثل جج کے بیوی بچوں کے معاملات کی پڑتال کرے گا اور اس پر فیصلہ پھر سپریم جودیشل کونسل دے گی۔ عدالت عظمیٰ، سپریم جوڈیشل کونسل ، اعلیٰ اقدار و کردار کے حامل جج کی درخواست منظور ہونے کے معاملہ، نواز شریف کے پانامہ سے مماثلت نہ پا جائے مگر ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وطن عزیز کے عوام اور وکلاء، مؤرخ اور حق جسٹس فائز عیسیٰ کے ساتھ ہے۔ تو پھر خیال آتا ہے کہ کیا عیسیٰ فائز ہو گئے؟ یا عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ اَج آکھاں جسٹس کیانی نوں کِتوں قبراں وچوں بول…


ای پیپر