میں! طارق عزیز اور پروفیسر منور علی ملک
23 جون 2020 (17:09) 2020-06-23

انسان کو اپنی پہلی تخلیق پر انتہائی خوشی ہوتی ہے۔ وہ تخلیق اولاد کی صورت میں ہو جب کسی کتاب کی صورت میں… میرا یقین ہے کہ اچھی کتابیں بھی اولاد ہی ہوتی ہیں۔ میری شاعری بلکہ پنجابی شاعری کی کتاب ’’چانن لبھدیاں راتاں‘‘ 2012ء میں منصہ شہود پر آئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کتاب کو ’’صرف تین سو کاپیوں کی صورت چھپوایا تھا مگر یہ تین سو کاپیاں صرف تین مہینوں میں ہی پایۂ اختتام کو پہنچ گئی تھیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میں بہت خوبصورت اور لسانی و ہیاتی اعتبار سے کوئی بلند پایہ شاعر تھا۔ اس کی وجہ صرف دوستوں کی مجھ سے محبت تھی اور اس محبت میں آج تک اضافہ ہی ہوا ہے۔ کمی کسی طرف سے نہیں ہوئی۔ کتاب کا دیباچہ میرے اساتذہ اکرام اور دور حاضر کے جدید شاعر اور نقاد جناب سخنور نجمی اور بابائے الفت و موانست و محبت جانب پروفیسر رضا اللہ حیدر نے تحریر کیا تھا۔ رائے دینے والوں میں بین الاقوامی گلوکار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی معتبررائے شامل تھی جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ ہے۔ کتاب کا ٹائٹل اور نام سخنور نجمی صاحب نے تخلیق کیا تھا۔ جو اپنے عہد کا خوبصورت نام اور جدید ٹائٹل تھا۔ پہلی کتاب کے چار سال بعد جب دوسری کتاب کی باری آئی تو میری خواہش تھی کہ کسی خالص پنجابی لہجے کے شخص سے کتاب کا دیباچہ لکھوایا جائے۔ میری نظر سیدھی طارق عزیز صاحب پر پڑی۔ اس سے پیشتر میں اپنی پہلی کتاب طارق صاحب کو بھیج کر بھول بیٹھا تھا۔ میں نے وقت کو غنیمت جاتے ہوئے فون پر اپنی معصومانہ خواہش طارق صاحب کے گوش گزار کر دی۔ میرا پنجابی لہجہ سن کر بولے! ’’کاکا توں آرائیں تے نئیں‘‘ میں نے کہا جی میں آرائیں ہوں۔ پھر بولے! کاکا شکیل! ہن تے مینوں لکھنا ای پینا ایں اک تے توں میری برادری ایں دوجا میرے گوانڈھی شہر اوکاڑا تو ایں۔ چل فیر کتاب دا مسودہ بھیج دے۔ میں نے فوراً طارق صاحب کو کتاب کا مسودہ بھیج دیا۔ اس کے بعد طارق صاحب سے سلام و محبت کا ایسا سلسلہ چل نکلا کہ آخری دنوں تک قائم رہا۔ طارق صاحب کے اندر محبت، وفا، خلوص ، احترام، انسانیت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ ہر قبیل کے ہر فرد سے یکساں محبت اور خلوص سے بات کرتے تھے۔ اسے عزت و احترام دیتے تھے۔ ایک دن اچانک فون آیا کہنے لگے… شکیل یار (ان کا یار کہنا مجھے بہت اچھا لگا) اک درخواست کرنی اے ناراض تے نئیں ہویں گا۔ میں نے کہا سر آپ حکم کیجیے۔ کہنے لگے یار مصروفیت کافی آ گئی اے میں دیباچہ نئیں لکھ سکاں گا۔ پر میں وعدہ کرنا واں کہ تیریاں دونویں کتاباں پورے پروگرام وچ (بزم طارق عزیز میں) اپنے ڈائس اتے سجا کے رکھاں گا۔ میں نے کہا! سر کوئی بات نہیں۔ شاعری کونسا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اگلی کتاب کا دیبا چہ سہی۔ بولے! ایہہ گل ٹھیک اے… ایہہ کتاب چھپن توں بعد مینوں چھیتی بھیج دیویں… کتاب چھپ گئی میں نے بھیج دی… مگر بزم طارق عزیز ان دنوں آن ایئر نہیں تھا۔ دکھ کی بات کہ انہی دنوں میں اپنی تیسری کتاب ترتیب دے رہا ہوں۔ ایک د ن یاد آیا کہ طارق صاحب کو ان کا وعدہ یاد دلا دوں ۔ پھر سوچا پہلے کام مکمل کر لوں… کام تو مکمل ہو گیا مگر طارق صاحب اللہ کے وعدے کے مطابق ان سے جا ملے۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کی اگلی منزلوں کو آسان کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ تو قارئین میانوالی کے ادب کے درخشندہ ستارے جناب پروفیسر منور علی ملک کا طارق عزیز کو خراج تحسین ملاحظہ کیجیے…

اگر وہ اپنی موت کا اعلان ٹی وی سے خود کرتا تو حسب معمول اپنی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ اپنی دبنگ آواز میں یوں کہتا…

ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے

دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو، طارق عزیز کا…آخری سلام

پاکستان… پائندہ باد

کیا شخص تھا … ہمہ جہت شخصیت… صداکار، اداکار، شاعر ، میزبان … اس کا پروگرام نیلام گھر پی ٹی وی کا مقبول ترین پروگرام تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج دلوں کو گرماتی تھی۔ بہت جان دار قہقہہ لگاتا تھا کسی مہمان کا دلچسپ سوال یا جواب سن کر… بچوں سے بچوں کے لہجے میں ، خواتین سے خواتین کے انداز میں بات کرنا اس کا خاص کمال تھا…

بلاکی کشش تھی اس کی شخصیت میں بھی، آواز میں بھی… وہ سکرین پر چھا جاتا تھا ، ناظرین اس شعر جیسی کیفیت محسوس کرتے تھے …

تم مخاطب بھی ہو ، قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں ، کہ تم سے بات کریں؟

بہت صاحب علم اور وسیع المطالعہ شخص تھا۔ مطالعے کا کمرہ کتابوں کی دکان کی طرح رنگا رنگ کتابوں سے آراستہ رہتا تھا۔ الماریوں اور ریکس کے علاوہ میز پر بھی درجنوں کتابیں نہایت سلیقے سے سجی نظرآتی تھیں …

طارق عزیز خالص، سچا پاکستانی تھا۔ہر پروگرام کے آخر میں دل کی گہرائیوں سے یہ نعرہ لگاتا تھا …

پاکستان… پائندہ باد

پاکستان کے تین سب سے بڑے مرثیہ خوانوں میں طارق عزیز بھی شامل تھا۔ دوسرے دو… ضیاء محی الدین اور معروف اداکار شجاعت ہاشمی… مرثیہ خوانی ایک فن ہے جس کا آغاز برصغیر میں لکھنؤ سے ہوا ، میرانیس اور میرزا دبیر فن مرثیہ گوئی کے امام تھے ، مرثیہ خوانی کے بھی… مرثیہ ترنم کی بجائے تحت اللفظ ( نثرکے لہجے میں) پڑھا جاتا ہے۔ سانحہ کربلا کی جنگ کا منظر ہو تو آواز کی گھن گرج سے دل دہل جاتے ہیں ، اہل بیت کی مظلومیت کا ذکر ہو تو لفظ کبھی آہ ، کبھی سسکی بن جاتے ہیں ، پورا منظر نامہ ایک مووی کی طرح رواں دواں محسوس ہوتا ہے۔ مرثیہ خوانی کا یہ انداز بھی رب جلیل کی خاص عطا ہے ، مرثیہ خوانی ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ یوٹیوب سے یا کہیں سے سی ڈی مل جائے تو طارق عزیز کی مرثیہ خوانی دیکھیں ، موضوع کے عین مطابق آواز کا زیروبم ، چہرے کے تاثرات ، ہاتھوں کی حرکات ، یوں لگتا ہے یہ شخص سانحہء کربلا کا عینی شاہد تھا … جوانی میں طارق عزیز نے اداکاری بھی کی مگر ہر سچے انسان کی طرح اداکاری اس کے بس کا روگ نہ تھا۔ اس لیے فلمی دنیا سے وہ بہت جلد الگ ہو گیا …لیجنڈ اور آئیکون جیسے الفاظ تو آج کل ہر شخص کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، طارق عزیز بس طارق عزیز تھا ، اس جیسا نہ کوئی اور تھا، نہ ہے۔ کل صبح اس کی وفات کی خبر سن کرناصر کاظمی کا شعر یاد آگیا :

وہ ہجر کی رات کا ستارا، وہ ہم نفس، ہم سخن ہمارا

سدا رہے اس کا نام پیارا، سنا ہے کل رات مر گیا وہ

پاکستان… پائندہ باد


ای پیپر