چائلڈ لیبر… ذمہ دار کون؟
23 جون 2020 (17:08) 2020-06-23

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جس رفتار کیساتھ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار کے ساتھ غربت، بے روزگاری، مہنگائی کے ساتھ سماجی ومعاشی اور مالی مسائل بھی بـڑھتے جارہے ہیں اور ان گھمبیر مسائل کی وجہ سے چائلڈ لیبر کی شرح میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث سرحد پار ممالک میں پاکستان کا تشخص بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دیگر ممالک کی نسبت چائلڈ لیبر کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ ہے چائلڈ لیبر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے باعث بچے اپنے بچپن کی امنگوں اور پروقار طرز زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا بھر میں بچوں پر جبری مشقت کے خلاف رواں ماہ چائلڈ لیبر کا عالمی دن 12جون کو منایا گیا اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات، لیکچرز اور واکس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے لیکن کورونا وبا کے پیش نظرچائلڈ لیبر کا یہ دن صرف علامتی طور پر منایا گیا ۔یہ دن منانے کا مقصد محنت کش بچوں کے مسائل کو حکومت اور ذمہ داران تک ہم آواز ہو کر پہنچانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے حکومت ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے لیکن یہ دن ہمیشہ کی طرح حسب روایت سورج ڈھلتے ہی اپنے اغراض و مقاصد سمیت دفن ہو جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کے باوجود چائلڈ لیبر قوانین پر عمل نہیں کیا جاتادیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر کی ممانعت سے متعلق قوانین موجود ہیں آئین کے آرٹیکل 11کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے، کان یا دیگر پر خطرملازمت پر نہیں رکھا جا سکتا ۔ آئین کے آرٹیکل 25کے تحت ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام پانچ سال سے لیکر16سال تک کی عمر کے بچوں کیلئے لازمی اور مفت تعلیم کا انتظام کرے۔ ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ1991ء کے حصہ سوئم اور سیکشن سات کے تحت کسی بھی بچے یا نابالغ سے ایکدن میں سات گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کروایا جا سکتا جبکہ ان سات گھنٹوں میں ایک گھنٹہ آرام کا بھی شامل ہے۔ اسی ایکٹ کا سیکشن چودہ وضاحت کرتا ہے کہ جو بھی شخص بچوں کو خطرناک پیشوں اور پیداواری عمل میں ملازمت پر رکھتا ہے اسے20ہزار روپے جرمانہ یا قید کی سزا جسکی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز ایکٹ 1995کے علاوہ بھی دیگر قوانین موجود ہیں جو کام کرنے والے بچوں کے حالات کا رکو ضابطے میں لاتے ہیں۔ المیہ ہے کہ ایک رپورٹ کے

مطابق پاکستان میں دو کروڑ دس لاکھ سے زائد بچے جبری مشقت کی گرہ سے بندھے ہیں ملک میں غربت وبیروزگاری اور مہنگائی کے باعث یہ ننھے پھول اسکول کے درودیوار سے دور ہو گئے زیور تعلیم سے آراستہ ہونا انکی آنکھوںمیں خواب بن کر تیرنے لگا ہے غربت کدوں کے یہ نونہال ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں، چھوٹی فیکٹریوں، گاڑیوں کی کنڈیکٹری، بھٹہ خشتوں، پٹرول پمپ پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے سمیت جبری مشقت پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں بڑھتے تعلیمی اخراجات ، مہنگائی، غربت وبیروزگاری کے نتیجہ میں چائلڈ لیبر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے یہ وہ گھمبیر مسائل ہیں جو اس مسئلہ میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں آج تک کسی بھی حکومت نے اس مسئلہ کے تدارک کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اُٹھا کر حکمت عملی مرتب نہیں کی اور اس سے بھی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک میں موجود جتنی بھی عوامی نمائندگی کی دعویدار سیاسی جماعتیں ہیں انہوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کو اپنے منشور کا حصہ نہیں بنایا۔ یہ حالات اس بات کے غماز ہیں کہ جیسے ہم نے چائلڈ لیبر کو اپنے اوپر لازم قرار دیدیا کروڑوں بچے جو موجودہ حالات میں مشقت کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں یہ ملک وملت کا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں چھوٹی چھوٹی خواہشوں میں گرفتار یہ معصوم چہرے جنکی چہکاروں سے گھروں کے درودیوار آباد ہیں جن کے بغیر آنگن میں اواسی ڈیرہ جما لیتی ہے روشن مستقبل کے ضامن ان بچوں کے گلے میں غلامی کا طوق پہنایا جارہا ہے۔ بچپن کا زمانہ انسان کی وہ قیمتی متاع ہے جو کھو جائے تو اس کا غم ہمیشہ سائے کی طرح ہمرکاب رہتا ہے انگریزی کے مشہور شاعر (جان ملٹن) نے تو بچپن کو جنت گمشدہ یعنی کھوئی ہوئی جنت کہا ہے بچپن کے ان چار لفظوں میں ایک دنیا آباد ہے ۔اپنے بچپن کو بھول جانا ممکن نہیں انسان کا بچپن خوبصورت دنوں اور سنہری یادوں سے لبریز ہوتا ہے بچپن کی سفاہت و نادانی اور اس میں سرزد ہونیوالی ہر تکلیف و نقصان کا بار والدین اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں لیکن کیا کیا جائے المیہ دیکھیں کہ ہمارے ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔80فیصد بچے ایسے ہیں جو گھروں اور کھیتوں میں کام کرتے ہیں جن کا سروے تک دستیاب نہیں ہے حکومتی عدم دلچسپی اور ذمہ داران کی چشم پوشی کے باعث چائلڈ لیبر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے قانون حرکت میں آنے کی بجائے خاموش ہے چائلڈ لیبر کے باعث کروڑوں گھروں کے مستقبل تباہ ہو رہے ہیں حکمران، سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں ان بچوں کے حقوق کی جنگ لڑنے میں کیا کردار ادا کررہی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی انجمنیں، میڈیا، حکومت، سماجی تنظیمیں،مذا کرے، واکس اور تقریبات کا اہتمام کرکے سال بھر میں ایک دن آواز بلند کرکے اپنے آپکو اس مسئلہ سے بری الذمہ سمجھتے ہیں اگر یہ دن اس مسئلہ کے تدارک میں معاون ثابت نہیں ہوتا تو پھر اسکو منانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کروڑوں گھروں کے یہ ننھے چراغ مناسب تعلیم اور خوراک نہ ملنے پر جبری مشقت سے دو چار ہیں غربت وافلاس کے سائے میں جنم لینے والے یہ گلاب چہرے اپنے بچپن کو پس پشت ڈال کر اپنے گھروں کی کفالت کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ اس طرح ممکن ہے کہ اسکی بنیادی وجوہات کا تعین کرکے انکا خاتمہ کیا جائے بدقسمتی دیکھئے کہ چائلڈ لیبر ایک سماجی ضرورت کا روپ دھار چکی ہے حکومت، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو اس مسئلہ کے تدارک کیلئے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا چائلڈ لیبر ایک معاشرتی ناسور کی طرح پھن پھیلاتا جارہا ہے اس مسئلہ کا شکار میرا اور آپکا بچہ بھی ہو سکتا ہے۔ غور کیجئے، آٹھ دس افراد پر مشتمل کنبہ جب اخراجات پورے نہ ہونے پر اپنے بچوں اور بچیوں کو مشقت کیلئے گھر کی دہلیز پار کروانا ہے تو ان والدین کے دلوں پر کیا بیتتی ہوگی اگر ہم ان معصوموں کو پہنائی گئی مشقت کی بیڑیاںتوڑ کر انکی تقدیربدل سکے تو پھر اس مسئلہ میں اضافہ کے اسباب ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تعلیم ہر بچے کا پیدائشی حق ہے معاشرہ کا المیہ دیکھیں جن اسکولوں کے درودیوار کے بیج بچے تعلیم جیسی نعمت سے بہرہ مند ہو رہے ہوتے ہیں انہی تعلیمی اداروں کے باہر تعلیم سے بے پہرہ معصوم بچے فکر معاش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے اس مسئلہ کے تدارک کیلئے حکومت کو چاہئے ٹھوس اقدامات اُٹھا کر حکمت عملی مرتب کی جائے غربت وبیروزگاری کے اندھیرے تبھی چھٹ سکتے ہیں جب نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر توجہ مرکوز ہو گی۔ ہم اسی وقت ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں جب نسل نو کو تعلیم وتربیت سے آراستہ کرکے قومی دھارے میں شامل کرینگے بحرحال حکومت وقت، سماجی تنظیموں، سیاسی جماعتوں کے در پر چائلڈ لیبر کامسئلہ چیلنج بن کر دستک دے رہا ہے مستقبل قریب میں اس کے نتائج خطرناک صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔


ای پیپر