مرشد بحراللہ ہزاروی مرحوم …!
23 جون 2020 (17:07) 2020-06-23

سعودی عرب میں ممتاز پاکستانی سفارت کار ، مصنف اور سابقہ ڈائریکٹر حج بحراللہ ہزاروی 68 سال کی عمر میں اسلام آباد میں COVID-19 سے متاثر ہونے کے بعد جمعرات کے روز11 جون کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔دلوں پر حکمرانی کرنے والے میرے بڑے بھائی،میرے مرشد،میرے اپنے اور بہت ہی اپنے ایسا خلوص کا رشتہ کہ جس رشتے کو لفظی نام دینے کی محتاجگی نہ ہو جہاں بے لوث خلوص چاہت اور شفقت و محبت کا ایسا بے مثل انداز کہ جسکی کوئی مثال ہی نہیں۔وہ بحر اللہ ہزاروی مرحوم جنہوں نے متعدد سفارتی عہدوں پر سعودی عرب میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک کام کیا اور سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کی زندگی پر ایک نایاب اور منفرد کتاب لکھی جو 1997 میں انگریزی میں شائع ہوئی تھی۔ جسے بعد ازاں عربی اور اردو میں بھی شائع کیا گیا۔ اس کتاب کو نہ صرف عرب میں بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی بلکہ پورے عالم اسلام میں اس کتاب کو ریاست سعودیہ کی تاریخ کے حوالے سے دیکھا گیا۔ مرشد ہزاروی مرحوم کے 30 سالہ بیٹے محمد فواد ہزاروی نے عرب نیوز کو بتایا کہ قبلہ بحر اللہ مرحوم آٹھ سے دس دن تک کوویڈ 19 کی علامات جیسے فلو ، کھانسی اور بخار کی وجہ سے بیمار رہے اور جمعرات کی شام کو آخری سانس لیا۔ وارثان میں بیوہ چھ بیٹیاں اور تین بیٹے عاطف ،قاسم اور فواد بحر اللہ شامل ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ راقم کو بحر اللہ ہزاروی مرحوم فرمانے لگے ہمارے درمیان کسی قسم کوئی پروٹوکول نہیں ہے جس پر میں نے انہیں مرشد( جس کے معنی راستہ دکھانے والے) کے نام سے مخاطب کیا بس پھر وہ مجھے مرشد اور میں انہیں مرشد کے پر خلوص تخلص سے مخاطب کرتے تھے ۔آپکی وفات کی دلخراش اور درناک خبر دینے کیلئے مرشد ہزاروی مرحوم کے ہمدم رفیق اور مخلص باعتماد دوست الحافظ گروپ مکہ کے چیئرمین فیاض ابن عبد اللہ صاحب جو کہ قبلہ ہزاروی مرحوم کی وساطت سے ناچیز پر بھی مہربان ہیں ان کی طرف سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہزاروی مرحوم کی رحلت کی خبر دینے کیلئے کال کیا آئی ایک دفعہ تو ایسا لگا جیسے کسی نے پاؤں سے زمین ہی کھینچ لی ہو یقین ہی نہیں آتا دلوں پر حکمرانی کرنے والے مرشد ہزاروی مرحوم جن کی دوستی اور بھائی چارے میں اس قدر اخلاص تھا کہ فی زمانہ خونی رشتوں میں بھی نہ ملے۔ مرشد ہزاروی مرحوم کی یکم جون 1977 ء کو سعودیہ میں پہلی پوسٹنگ جدہ پاکستان کے قونصل خانے میں ایک نوجوان رابطہ افسر کی حیثیت

سے تھی۔ انہوں نے 2010 ء میں ریٹائر ہونے تک 33 سال تک سعودیہ میں پاکستانی سفارت خانہ میں کام کیا اس وقت تک وہ ڈائریکٹر حج تھے۔ مرشد ہزاروی مرحوم نے ہمیشہ پاک سعودی دو طرفہ تعلقات میں اپنی سرکاری اور غیر سرکاری صلاحیتوں میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔عرب نیوز رپورٹ کے مطابق ہزاروی مرحوم سعودی عرب کے عوام کا سب سے بڑا دوست تھے۔ مرشد ہزاروی مرحوم اس وقت وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے ساتھ رضاکارانہ مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے تاکہ ہر سال پاکستانی حجاج کرام کے لئے رہائش اور نقل و حمل کے بہترین انتظامات کرنے میں مدد مل سکے۔پیر ڈاکٹر نور الحق قادری نے حکومت کو حج کی پالیسیاں مرتب کرنے ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کی سہولتوں کی فراہمی میں مدد اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں رضا کارانہ خدمات سر انجام دینے پر مرشد ہزاروی مرحوم کی تعریف کی اور انکا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر نے عرب نیوز کو بتایا کہ متوفی ایک دیانتدار آدمی ، ایک شریف آدمی اور انتہائی پیشہ ور انسان تھے۔پیر نور الحق قادری نے کہا کہ "وہ سعودی عرب میں پاکستانی حاجیوں کو تمام بہترین سہولیات کی فراہمی میں کئی سالوں تک بہت محنت کرتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرشد ہزاروی مرحوم کی موت نے ایک بہت بڑا خلا چھوڑ دیا ہے جس کو پر نہیں کیا جاسکتا ۔ مرشد ہزاروی مرحوم نے اپنی زندگی اللہ کے مہمانوں حجاج کرام کی خدمت کیلئے وقف کررکھی تھی جبکہ وہ غریب پاکستانیوں کے لئے بہت سارے فلاحی منصوبوں میں شامل تھے اسکے علاوہ انہوں نے ایک دینی مدرسہ جو شمال مغربی مانسہرہ ضلع ،دلبوڑی اوگی میں سو سے زیادہ لڑکیوں کے لئے شب و روز تبلیغ دین میں مصروف ہے جسکا نام مدرسہ تحفیظ القرآن ہے کی سرپرستی اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔معروف علمی،ادبی اور ممتاز سماجی شخصیت مرشد بحر اللہ ہزاروی مرحو م عربی زبان میں مہارت رکھنے کی وجہ سے پاکستان اور سعودیہ کے مابین برادرانہ تعلقات میں کئی عشروں سے بے لوث اور حب الوطنی سے سرشار جذبوں کے ساتھ ایک پل کا کردار ادا کرتے چلے آ رھے تھے۔کئی سال تک پاکستان اور سعودی عرب میں سربراہان مملکت اور دیگر اہم ملاقاتوں کے دوران مترجم کے فرائض سرانجام بھی دیتے رھے۔ سب سے مشہور جو بات ہوئی 1998 ء میں وہ تھی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور سعودی ولی عہد عبداللہ بن عبد العزیز کے مابین ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران آپ ترجمان تھے اس کال کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاجا سکتا ہے کیونکہ مملکت سعودیہ نے اس سے پہلے جوہری تجربات کی تیاریوں میںپاکستان کو اپنی دل کھول کر مدد کی پیش کش کی تھی۔ فروری 2019 ء میں عرب نیوز کو ایک مصنف کی حیثیت سے اپنے محرکات کے بارے میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران مرشد ہزاروی مرحوم نے کہا تھاشاہ عبد العزیز کی دنیا بھر کے امن اور مسلمانوں سے محبت نے مجھے ان پر کتاب لکھنے کی تحریک دی جو مسلمانوں کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں بہترین خراج تحسین ہے۔ اللہ پاک مرشد ہزاروی مرحوم کی مغفرت فرما کر درجات بلند فرماتے ہوئے اعلیٰ علین میں جگہ عطا فرمائے آمین اللہم آمین-تقریبا ڈیڑھ سال پہلے ملتان کے ٹور آپریٹر ہزاروی صاحب کے دیرینہ ساتھی حاجی محمد اسماعیل صاحب سے چند دن کیلئے مسلسل گفت و شنید کا سلسلہ رہا اس دوران انہوں نے بتایا تھا کہ ہزاروی صاحب فرشتہ صفت انسان ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے بحر اللہ ہزاروی صاحب کو بڑی دفعہ حجاج کرام کے حج تخمینہ میں کمی اور بہتر سہولیات کیلئے انتھک محنت کرتے دیکھا حجاج کرام کی آسانی اور دوران حج سہولتوں کیلئے وہ کسی بھی بڑے سے بڑے عہدیدار کو خاطر میں نہ لاتے اپنی جان لڑا کر حجاج کرام کی خدمت کی سعی کرتے -جبکہ راقم نے بھی مرشد بحراللہ ہزاروی مرحوم کی نشست میں سنا کہ انہوں نے عرب شہزادوں سعودی اور پاکستانی وزیروں کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم کو ہمیشہ ملک و قوم کی بہتری اور مفاد عامہ کیلئے استعمال کیا- قبلہ بحر اللہ ہزاروی مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت تھے ان سے جو ایک بارملتا پھر انکا دیوانہ ہوجاتا - جس کا زندہ و جاوید ثبوت یہ ھے کہ گزشتہ کئی عشروں سے وفاق پاکستان میں مذہبی امور کا قلمدان حاصل کرنے والے ہر وفاقی وزیر نے ہمیشہ بحر اللہ ہزاروی مرحوم کے بغیر اپنے آپکو ادھورا محسوس کیا یہی وجہ تھی سابقہ وفاقی وزراء اعجاز الحق،سید خورشید شاہ،سردار محمد یوسف اور موجودہ وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری کے ہر اول دستہ کی سرفہرست میں جناب بحر اللہ ہزاروی مرحوم کا نام لیا جاتا ھے ۔ مرشد بحر اللہ ہزاروی مرحوم پاکستان کی وہ خوش نصیب شخصیت تھے جو مختلف اعلی سطحی وفود کے ہمراہ 54 مرتبہ بیت اللہ شریف اور 36 مرتبہ روضہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر جاکر حاضری کا شرف حاصل کر چکے تھے۔ مرشد بحراللہ ہزاروی اپنی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی کئی سالوں سے حرمین شریفین میں پاکستانی حجاج کی بے لوث خدمت کرتے چلے آ رھے تھے ۔ اللہ پاک مرشد بحر اللہ ہزاروی مرحوم کی آخری آرامگاہ کو جنت کا مرکز بنائے۔ آمین۔


ای پیپر