فیصلہ حکومت کرے
23 جون 2019 2019-06-23

ہفتہ گزشتہ کے آغاز پر تو مورال ہائی تھا۔ دعوی تھا کہ مجر موں کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرینگے۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا وزیر آتا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں خبروں کے متلاشی خبر نگاروں کے پاس بہانے سے رکتا۔ فرمائشی ویڈیو کلپ بنتا اور پھر آگے نکل جاتا۔ بس جی صاجب جو ریمانڈ پر ہیں۔ ان کو کسی صورت اسمبلی اجلاس نہیں لے کر آئیں گے۔ شاید کچھ مسئلہ ایفی شنسی دکھانے کا بھی تھا۔ اس روز ہفتہ کے آغاز پر جناب وزیر اعظم پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ اجلاس کو آگے بڑھتا نہ دیکھ کر خود میدان میں اترے تھے۔ ابھی کچھ روز پہلے ہی آں جناب قوم کے ساتھ خطاب میں اپوزیشن کی شکایت لگا چکے تھے۔ اپوزیشن تقریر نہیں کرنے دیتی۔ پھر شاید کسی اتالیق خاص نے کہا ہو کہ پی ایم صرف پروٹوکول لینے کا نام نہیں بلکہ درپیش مسائل کو آگے بڑھ کر حل کرنے کا نام ہے۔ جناب وزیر اعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے چیمبر میں ڈیرہ ڈال لیا۔ پہلے اکا دکا ملاقاتیں۔ پھر ایوان بالا کے ارکان کے وفد سے ملاقات۔ یہ ملاقات بھی بہت دلچسپ رہی۔راوی معتبر کہتا ہے کہ جناب کپتان نے سنیٹروں کی خوب کلاس لی۔ استفسار کیا اپوزیشن میرے اوپر اٹیک کرتی ہے تو آپ خاموش بیٹھے ہوتے ہیں۔ معزز ارکان سینٹ نے قانون سازی اور دیگر شعبوں میں اپنی پرفارمنس کی تفصیل بتانی چاہی تو صاف بتا دیا گیا کہ یہ ثانوی باتیں ہیں۔ اپوزیشن کو ٹف ٹائم دیں۔ وہ دن اور آج کا دن حکمران جماعت کے ارکان سینٹ سینگ پھنسانے کے بہانے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سینٹ میں پی ٹی آئی اقلیت میں ہے۔ اکثریت میں ہوتی کیسی سر پھٹول ہوتی۔ اس کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس روز نہایت تیزی سے سیاسی ڈویلپمنٹس ہوئیں۔ پہلے حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس۔ ماحول وہی کہ اپوزیشن کو رگڑا لگانا ہے اور خوب لگانا ہے۔ کوئی لحاظ نہیں۔ بجٹ پاس کرانا میری ذمہ داری ہے۔ حکومتی عقابوں کو اور کیا چاہئے تھا۔ وہ بھی لفظوں کی بمباری کیلئے تیار ہو کر اجلاس میں پہنچے۔ حکومت نے اپنے تئیں خوب نعرے بازی کی۔ پارلیمانی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ حکومت نعرہ زن تھی اور اپوزیشن مزے لے رہی تھی۔ حکومت اپوزیشن کی وکٹ پر کھیلے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے کہ حکومت پر تنقید کرنا۔ اس کی راہ میں روڑے اٹکانا۔ لہٰذا حکومت کا ایک اور دن ضائع گیا۔ اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اگلے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ پندرہ نکاتی ایجنڈا تو ادھورا رہا۔ قرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بن گیا۔ ترقیاتی کونسل بن گئی۔ ان دو اہم یشوز کے سوا باقی ماندہ وقت یہ سوچ بچار کرنے میں گزرا کہ اپوزیشن کو اسمبلی میں کیسے کارنر کرنا ہے۔ وزرا تیاری سے آئے اور ایک مرتبہ اپنی احتجاجی مہارت کے جوہر دکھاے۔ جو جماعت دوران دھرنا پی ٹی وی فتح کر لے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس جائے۔ سپریم کورٹ پر شلواریں لٹکا دے۔ اس کیلئے اپوزیشن کے چند درجن ارکان قومی اسمبلی کس کھیت کی مولی ہیں۔ حکومت کرنی آتی ہو یا نہ ہو اپوزیشن کرنی تو حکمران جماعت کو خوب آتی ہے۔ بہرحال تین دن اپوزیشن کو فتح کرنے میں مشغول حکومت کو احساس ہوا کہ ابھی تو بجٹ بھی پاس کرنا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی جن کو بلا کر کہہ دیا گیا تھا خبردار جو سچ مچ کا سپیکر بننے کو کوشش کی۔ فی الحال قواعد ضوابط کی کتاب کو دراز میں رکھ کر تالا لگا دیں۔ تاحکم ثانی۔ تابعدار نے تعمیل کی۔ پھر کہیں سے سندیسہ آیا۔ کچھ پیپلز پارٹی نے مزاحمت کی تو رات گئے بند دفتر کھولا گیا اور پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا گیا۔،ایسے کہ حکومتی ارکان اسمبلی کی اکثریت بھی اس پیش رفت سے لاعلم تھی۔ اگلے روز کئی حیرتیں منتظر تھیں۔ آصف زرداری نے دبنگ انٹری ڈالی لیکن اصل انٹری تو اسد عمر کی تھی۔ جنہوں نے میلہ لوٹ لیا۔ اپنی ہی حکومت کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم کیا۔ خیر یہ بھی انوکھی بات نہیں۔ ارکان اسمبلی کبھی کبھار ایسی جرات رندانہ کا مظاہرہ کر جایا کرتے ہیں۔ اصل بات وہ اشارہ تھا جو پی ٹی آئی کے شاہ دماغ کی جانب جاتا تھا۔ چینی کے نرخوں کی جانب بات کو رخ مڑا تو پارٹی صفوں میں افراتفری پیدا ہوئی۔ اب جناب جہانگیر ترین تر دیدیں اور وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں۔ لیکن اس کا جواب کسی کے پاس نہیں چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے اربوں کس کی جیب میں گئے۔ اسد عمر کی تنقید کی گونج ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ ان کی تقریر سے نہ جانے کیوں وہ خبریں یاد آتی ہیں جو ترین اور اسد عمر کی کابینہ اجلاسوں میں لڑائی کے حوالے سے شائع ہوتی رہیں۔ البتہ تردید ان کی زور شور سے ہوتی رہی۔ اگلے ہی روز اسد عمر نے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کی حمایت کردی۔ اور کل تک اپوزیشن کو چور ڈاکو کہنے والے معاہدہ معیشت پر تلے ہوے نظر آتے ہیں۔اور اب معیشت معیشت کا کھیل سپیکر کی آڑ میں کھیلنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب کہانی کچھ اور ہے۔ اپوزیشن کو معلوم ہے کہ حکومت بجٹ کی کڑکی میں پھنسی ہوئی ہے۔ وقت اتنا کم ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کے روز بھی سیشن چلانا پڑا۔ اپوزیشن کی شرط ہے کہ معاہدہ معیشت کرنا ہے تو وزیراعظم خود اپوزیشن سے بات کریں۔ ادھر مریم نواز نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس میں معاہدہ معیشت کی مخالفت کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ ایک فریق کوٹ لکھپت جیل میں بیٹھا نواز شریف بھی ہے۔ اس سے بھی بات کرنی پڑے گی۔ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ وہ اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دیتی ہے یا نہیں۔ ایسا نہ ہوا تو بجٹ پاس ہوْجاے گا لیکن اسمبلی نہیں چلے گی۔


ای پیپر