ملکی معاشی بحران ، حکو مت اور عوا م کی نظر میں
23 جون 2019 2019-06-23

پچھلے ہفتے وز یرِا عظم عمر ان خا ن نے قو م سے اپنے خطا ب میں عو ا م کو یقین دلا نے کی کو شش کی کہ حالیہ پیش کئے گئے بجٹ اور اس سے جڑ ے دوسرے طے کیئے گئے اقدا ما ت کی بد و لت ملک معا شی بحر ان سے نکل چکا ہے۔ تا ہم ز مینی حقا ئق یہ ہیں کہ عوا م ان کے اس دعو یٰ پہ یقین کر نے کو تیا ر نہیں ۔ اس کی وجہ وہ مختلف الفا ظ میں یہ بیا ن کر تے ہیں کہ ان کے گھر وں کے چو لہو ں کی آ گ تو تیز ہو نے کی بجا ئے ٹھنڈ ی سے ٹھنڈ ی ہو تی جا رہی ہے۔ تو یہ ہے عوا م کا وہ سا دہ پیما نہ جس سے وہ وطنِ عز یز کی ما لی پو ز یشن کا اند ا زہ لگاتے ہیں۔ بہر کیفـ ، عوا م کے مقر ر کئے گئے اس سادہ پیما نے سے ہٹ کر آ یئے ذ را ان اقدا ما ت کا جا ئز ہ لیتے ہیں جو حکو مت ا پنے بقو ل معا شی بحر ان سے نمٹنے کی غر ض سے اٹھا نے جا رہی ہے۔ تو اس سلسلے میں حکو مت دو پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اول غیر ملکی قرضوں کا حصول اور دوم ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے محصولات کے ہدف پر تنقیدی جائزوں اور اعتراضات کے جواب میں حکومت کا موقف ہے کہ عوام کو کنفیوژ کرنے کی بجائے متبادل معاشی پلان سامنے لایا جائے مگر تجزیاتی حلقوں کی جانب سے تابڑ توڑ تنقیدی حملے تو جاری ہیں مگر وہ کوئی بھی ایسا ٹھوس اور خوش نما معاشی حل پیش کرنے سے معذور ہیں جس سے حکومت ملکی معاشی بحران سے نکلنے میں سرخرو ہوسکے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ملکی معاشی حالات اس نہج پر آپہنچے ہیں کہ ابھی تک ڈیفالٹ ہونے کے خطرات کی باتیں ہورہی ہیں۔ بے پناہ قرض در قرض کے حصول نے توازن ادائیگی کو حکومت کے کنٹرول سے باہر کردیا ہے مگر ایک بار پھر ان خطرات سے نمٹنے کا آخری اور واحد سہارا غیر ملکی قرضوں ہی میں تلاش کیا گیا ہے۔ سابق حکومتوں نے ملکی معاشی بحران کا حل ملکی اور غیرملکی قرضوں کے حصول کے علاوہ ملکی اداروں کی نجکاری میں تلاش کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اپنے ذمے 10.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر کا ہنگامی قرضہ (کرائسس ریسپانس لون) مانگ لیا ہے۔ یہ قرضہ بینک کی ’’سپیشل پالیسی بیسڈ لینڈنگ‘‘ (SPBL) کے تحت مانگا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس پالیسی کے تحت قرضہ رکن ملکوں کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے دیتا ہے۔ ایس پی بی ایل کے تحت قرضہ پانچ سے آٹھ سال کے لیے تقریباً 2 فیصد شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس قرضے کی منظوری ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈز آف ڈائریکٹرز دے گا جس کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے طے پانے والے 6 ارب ڈالر قرضہ کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات کتنے عرصے میں ایشیائی بینک کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر قرضہ کا معاہدہ 11 مئی کو سٹاف لیول سطح کے مذاکرات میں ہوا تھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اکتوبر کے آخری یا نومبر کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کے لیے اس ہنگامی قرضے کی منظورے دے گا۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2017ء میں پاکستان کی خرب مائیکرو اکنامک صورت حال دیکھ کر اس کی بجٹری سپورٹ بند کردی تھی مگر ایشیائی ترقیاتی بینک سے اس سال اگست میں پاکستان کے لیے بجٹری سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے 80 کروڑ ڈالرز میں سے 50 کروڑ ڈالر قرضہ کی منظوری کا امکان ہے۔ ادھر وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 3.4 ارب ڈالر کا قرض بھی ملے گا اس میں سے 2.1 ارب ڈالر اسی سال مل جائیں گے۔ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کرنے اور آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دینے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے پر شرح سود مارکیٹ سے بہت کم ہے۔ عوام آئی ایم ایف کے خلاف منفی پروپیگنڈہ پر کان نہ دھریں جن کو اس پروگرام سے مسئلہ ہے وہ متبادل معاشی پلان پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر ملکوں کے ساتھ بزنس نہیں کرنا چاہتے، اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی مصنوعات دوسروں کو بیچنا ہوں گی۔ اگر 2900 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی مد میں دینے ہیں تو کہاں سے دیں گے۔ جب موجودہ حکومت آئی قرضہ 31 ہزار ارب روپے تھا اور بیرونی قرضے کا حجم 97 ارب ڈالر تھا، تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جبکہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا۔ سود کی مد میں 2000 ارب روپے خرچ ہورہے تھے، مالیاتی خسارہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے کہا اگر 2900 ارب روپے سود کی مد میں دینے ہیں تو وہ کہاں سے دیں گے۔ وفاقی حکومت نے ایف بی آر کو کرپشن، لوٹ مار کے ذریعے غیرقانونی دولت، غیر ملکی کرنسی، بیئرر سیکورٹی اور سونے، جواہرات ذخیرہ کرنے والے کرپٹ عناصر کے گھروں سمیت کسی بھی جگہ چھاپے مارنے اور غیر قانونی دولت قبضے میں لینے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں نیا قانون لایا جارہا ہے۔ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی ضرور کی جانی چاہیے لیکن اس عمل میں دھونس اور دھمکی کے منفی ہتھکنڈے سے گریز کرتے ہوئے چادر اور چاردیواری کے تقدس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ ماضی میں ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ مالیاتی یا احتساب کے اداروں کی جانب سے سخت رویہ اختیار کرنے کے باعث کچھ افراد زندگی کی بازی ہار بیٹھے یا بعض نے خود کشی کو ترجیح دی۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان نے بنی گالا میں پارٹی رہنمائوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے، معیشت مستحکم ہوگئی اور 24 ہزار ارب ڈالر کے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن جلد تشکیل دیا جائے گا۔ اگر پاکستان نے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو اسے صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کے علاوہ سستی بجلی بھی فراہم کرنا ہوگی۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ نا صرف بجلی مہنگی کی جارہی ہے بلکہ وقفے وقفے سے پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے سے ہر چیز مہنگی ہونے سے صنعتی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں صنعت کار کیسے سستا اور معیاری مال تیار کرکے غیرملکی منڈیوں میں مسابقت کے دوڑ میں شریک ہوسکتا ہے۔ ایک جانب خام مال مہنگا ہورہا ہے تو دوسری جانب زرعی شعبہ بھی روزبروز تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ زرعی مداخل مہنگی ہونے سے کاشت کار کھیتی باڑی چھوڑ کر دیگر شعبوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ایک جانب حکومت ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر قرضے لے رہی ہے تو دوسری جانب روپے کی قدر کم ہونے سے معاشی مسائل میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس تناظر میں حکومت صنعتی شعبے کو کیسے ترقی دے کر تجارتی خسارے پر قابو پاسکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو معاشی تجزیہ نگار حکمرانوں سے پوچھ رہے ہیں مگر وہ سنہرے خواب دکھا کر یہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے۔ معلوم نہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے یا مزید ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔


ای پیپر