پاکستانیو۔ گھبرانا نہیں ہے
23 جون 2019 2019-06-23

وزیر اعظم عمران خان اکثر یہ فرماتے ہیں کہ پاکستانیو گھبرانا نہیں ہے ۔ ملکی معیشت کے حالات خراب ہیں۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔ بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملکی معیشت بحرانی کیفیت سے دو چار ہے ۔ مگر یہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اس لیے آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔

کیا ہوا اگر نان 12 روپے کا ہو گیا ہے ۔ محلے کا چنے بیچنے والا اب 20 روپے کے چنے نہیں دیتا اور اگر آپ نے نان چنے کا ناشتہ کرنا ہے تو آپ کے کم از کم 30 روپے کے چنے خریدنے پڑتے ہیں مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔ کیا ہوا اگر چینی ۔ گھی۔ پٹرول اور خوردنی تیل مہنگا ہو گیا ہے ۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔کیا ہوا اگر ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جو غریب مریض پہلے ہفتے کی دوائی کھا لیتا تھا اب وہ صرف دو دن کی دوائی کھا سکتا ہے ۔ جو پہلے مہینے بھر کی ادویات خریدتے تھے اب وہ ہفتے یا 10 دن کی خریدتے ہیں کیونکہ ان کی جیب اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتی۔ عزت مآب وزیر اعظم صاحب آپ کی بات پر عمل کرتے ہوئے وہ بالکل نہیں گھبراتے جب انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ انہیں دوائی خریدنی ہے یا بچوں کے لیے روٹی لینی ہے ۔ وہ دوائی چھوڑ دیتے ہیں اور بچوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جناب وزیراعظم وہ آپ کو دعائیں دیتے ہیں کہ آپ نے مشکل ترین حالات میں بھی نہ گھبرانے کا مشورہ دے کر ان کی زندگی آسان بنا دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا پیٹ خالی ہوتا ہے تو وہ گھبراتے بالکل نہیں ہیں بلکہ آنے والے سنہرے اور خوشحال دنوں کے بارے میں تصور کر کے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔ جب بغیر دوا کے بیماری کا احساس شدت اختیار کر تا ہے تو وہ گھبراتے بالکل نہیں ہیں۔ بلکہ چند ماہ کے بعد حکومت کی طرف سے ملنے والی مفت ادویات کا تصور کر کے اپنی بیماری کو بھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں اگر آپ حزب مخالف کو موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دے کر برا بھلا بھی کہہ لیں تو اس سے بھی افاقہ ہوتا ہے ۔اگر مہنگائی بڑھنے اور آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے سے آپ کی حقیقی آمدن کم ہو گئی ہے تو آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے ۔ کیا ہوا آپ کو گھر کے اخراجات کم کرنے پڑ رہے ہیں۔ خوراک میں کمی کرنی پڑ رہی ہے ۔ بنیادی ضروریات زندگی کی خریداری کو محدود کرنا پڑ رہا ہے ۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر معاملات آپ کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے بلکہ اس بات سے مسرت اور اطمینان حاصل کرنا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم اور وزراء نے قربانی دے کر اپنی تنخواہیں کم کر دی ہیں۔ اگر وزیر اعظم اور وزراء قربانی دے سکتے ہیں تو پھر عام لوگوں کو قربانی دینے میں کیا مسئلہ ہے ۔ جب وزیر اعظم اور وزراء نہیں گھبراتے تو عام آدمی پتا نہیں کیوں گھبرانا شروع کر دیتا ہے ۔ اگر آپ کے پاس روزگار نہیں ہے اور آپ کا پیٹ بھی خالی ہے ۔ جیب میں پیسے بھی نہیں ہیں تو اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے آپ فوراً ٹی وی آن کریں حزب مخالف کے راہنمائوں کی گرفتاریوں اور عدالتوں میں پیشیوں کے مناظر دیکھیے۔ حکومتی وزراء کے تابڑ توڑ بیانات اور الزامات کو دیکھیے اور سنیں۔احتساب کے آگے بڑھتے ہوئے عمل کی فیوض و برکات سے لطف اندوز ہوئیے۔ اس سے آپ کو اپنے خالی پیٹ اور جیب سے ذہن ہٹانے کا موقع ملے گا۔ ذرا سوچیے کہ جب تمام بد عنوان سیاستدان جیلوں میں ہوں گے۔ چوروں اور ڈاکوئوں کا احتساب ہو رہا ہو گا۔ تو آپ کی بھوک تو خود بخود مٹ جائے گی۔ بیماری دور ہو جائے گی۔ بے روزگاری کی تکلیف اور ذلت کا احساس کسے ہو گا ۔ غربت اور فاقہ کسے تنگ کرے گا۔ بس تھوڑا سا سوچنے کا زاویہ بدلیے۔ مثبت سوچ کو اپنائیے اس سے یقینا کافی حد تک افاقہ ہو گا ۔ آپ جب بھی اس وجہ سے تکلیف اور کرب میں مبتلا ہوں اور بہت زیادہ پریشان کہ آپ کا بچہ بھی ان ڈھائی کروڑ بچوں میں شامل ہے جو کہ سکول نہیں جاتے۔ اگر آپ کا تعلق آبادی کے اس حصے سے ہے جو کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جو کہ اپنے بچوں کو نہ تو پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔ تو اس میں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے ۔ بس ذرا تصور کریں کہ جب ملک سے لوٹے ہوئے 200 ارب ڈالر واپس آئیں گے۔ تو ملک میں کتنی خوشحالی ہو گی۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، بھوک اور دیگر مسائل کا نام و نشان تک نہ ہو گا۔ نوکریوں اور ڈالروں کی برسات کا تصور کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا آپ نے غربت، بھوک، بے روزگاری اور فاقوں کے عذاب کو جھیلنا ہے ۔ آپ نے اسی طرح محرومیوں میں ذلت کی زندگی گزارنی ہے ۔ مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔کیا ہوا اگر معاشی ترقی کی شرح گر گئی ہے ۔ قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ مہنگائی سے حقیقی آمدن میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔ آپ معاشی حالات اور اپنی زندگی کی مشکلات اور تکالیف کو مت دیکھیں بلکہ حکومت کی نیک نیتی اور پاک دامنی کو دیکھیے۔ کیا ہوا اگر اب بھی پولیس تھانوں میں تشدد کرتی ہے اور رشوت عام ہے ۔ پٹواری پیسے مانگتا ہے ۔ سرکاری اداروں میں بغیر پیسوں کے کام کروانا کتنا مشکل کام ہے ۔ سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا ہے ۔ اس پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ان کی نیت صاف ہے ۔ ان کو غریبوں سے بہت ہمدردی ہے ۔ آپ زمینی حقائق کو نہ دیکھیں بلکہ وزیر اعظم کی نیک نیتی کو دیکھیں۔ اس سے آپ کی گھبراہٹ میں کمی آئے گی۔موجودہ بجٹ کی منظوری کے بعد اگر مہنگائی بڑھ جائے۔ آپ کی آمدن کم ہو جائے۔ آپ کے گھر کا چولہا بجھ جائے۔ آپ کا روزگار چلا جائے۔ آپ اپنے بچوں کی سکول فیس ادا نہ کر سکیں۔ بجلی کا بل آپ کی جیب خالی کر دے۔ آپ دوا نہ خرید سکیں۔ آپ غربت کی لکیر سے نیچے جا گریں۔ غربت کی وجہ سے علاج نہ کروا سکیں۔ کوئی طاقت ور آپ پر اپنی طاقت آزمائے اور ریاست آپ کو انصاف نہ دلا سکے۔ طاقتوروں کے ظلم و جبر سے بچا نہ سکے تو آپ نے گھبرانا نہیں پریشان نہیں ہونا بلکہ اتنا یاد رکھنا ہے کہ آپ کا وزیر اعظم کسی چور اور ڈاکو کو چھوڑے گا نہیں ۔ سب کو جیلوں میں ڈالے گا۔ دوسرا آپ کا وزیر اعظم کرپٹ نہیں ہے ۔ 1992 ء کا کرکٹ ورلڈ کپ جیت چکا ہے ۔ جب ورلڈ کپ جیت لیا تو یہ حکومت اور مشکلات کیا چیز ہیں۔

اگر آپ گھبراہٹ اور پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں تو مخصوص نیوز چینلز کے مخصوص شوز دیکھیں مخصوص کالم نگاروں کے کالم پڑھیں۔ صرف حکومت کے وزراء کے بیانات دیکھیں اور سنیں۔ اس سے کافی حد تک افاقہ ہو گا۔ اس سے گھبراہٹ کم ہو گی ۔مگر آپ کو ایک کام اور کرنا ہو گا۔ اس دوران خریداری نہ کریں۔ کھانا پینا چھوڑ دیں۔ خاندان کی ذمہ داری سے آزاد ہو جائیں۔ بچوں کو سکول بھیجنا بند کردیں۔ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ڈاکٹر کی بجائے دم کروائیں۔ بجلی کی بجائے ہاتھ والا پنکھا استعمال کریں۔ پیدل کام پر جائیں۔چائے پینے جیسی عیاشی چھوڑ دیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد آپ گھبرائیں گے اور نہ ہی حزب مخالف کے جھانسے میں آئیں گے۔آپ نے گھبرانا نہیں ہے بلکہ اچھے دنوں کا تصور کرنا ہے ۔ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا الزام دوسروں پر ڈالنا ہے ۔ بس 6 ماہ انتظار کریں پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ قرضوں کا پتہ چل جائے گا ۔ کہ کہاں خرچ ہوئے کیونکہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ۔


ای پیپر