مہاجرین کا عالمی دن اوردنیا بھر کے مسلمان مہاجر
23 جون 2019 2019-06-23

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہاجرین کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد مہاجرین کی تکالیف اور مشکلات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس دن کے منانے کا آغاز نائن الیون سے قبل 2000ء میں ہوا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنی تخلیق کے پہلے دن سے آج تک مہاجرین کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے، 1947 میں لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے۔وہ لٹے پٹے اور انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں وطن پہنچے تھے ۔ یہ بہت مشکل وقت تھا، وسائل بھی میسر نہیں تھے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے پاکستانیوں نے مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا اور انسانی بھائی چارے اور اخوت کا لازوال مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہر ممکن ضروریات پوری کیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جہاں ایک طرف دنیا میں اسی فیصد مہاجرین کا بوجھ ترقی پذیر اور غریب ممالک برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب کئی ترقی یافتہ ممالک مہاجرین کے بارے میں ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں اور وہاں مہاجرین کے مخالف جذبات کو فروغ مل رہا ہے۔افغانستان پر سوویت یونین کے حملے ، بعد میں ہونے والی خانہ جنگی اور امریکی حملے کے بعد سے اب تک لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ بیشتر پاکستانی بھی ملک میں مہاجرین کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں جنوبی وزیرستان اور سوات میں پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے سبب لاکھوں افراد نے ملک کے مختلف شہروں کی طرف ہجرت کی۔پاکستان میں بڑی تعداد افغان پناہ گزینوں کی ہے جن کی تعداد 30 لاکھ سے بھی زیادہ ہے، جو دنیا کے کسی بھی دیگر خطے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ساری دنیا نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دینے والا ملک ہے ،یہ ملک اس وقت بھی 40 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔جنگ،نسلی تعصب اورامتیازی سلوک، انسانوں کو غریب الوطنی پر مجبور کردیتا ہے ، اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے والوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنا اور انہیں اپنے معاشرے کا حصہ بنالینے کی روایت انصار مدینہ کے بعد پاکستانیوں نے قائم کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا بلوچستان سندھ اور پنجاب لاکھوں افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں مقیم افغان مہاجرین بہترین میزبانی پر حکومت پاکستان اور عوام کے شکرگزار ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا۔تین عشروں سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے پاکستان نے ایثار کی ایسی مثال قائم کی کہ پوری دنیا نے اس کا اعتراف کیاہے۔ مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی وزیر سیفران شہر یار آفریدی نے افغان مہاجر کیمپ کا دورہ کیاجس پر مہاجرین نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی آمد سے ہمارے دلوں میں احسا س پیدا ہوا ہے کہ پاکستانی حکومت ہمارے ساتھ ہے۔ اس موقع پر شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ افغانوں سمیت دیگر مہاجرین کو بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ مہاجرین کے دکھ درد اور مسائل کو پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔پاکستان کو معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین کے بارے میں کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ دنیا کو ان مہاجرین کا احساس ہونا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایات پر یہاں آئے ہیں۔ پاکستان میں مہاجرین جموں کشمیر کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالہ سے کئی قراردادیں پاس کر رکھی ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ ان قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھا اور مظلوم کشمیریوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جارہے۔ مہاجرین جموں کشمیر بھی اس وقت عالمی توجہ کے منتظر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی فوج کے مظالم نہتے کشمیریوں کی ہجرت کی وجہ بنے۔ہندوستان نے لاکھوں خاندانوں کو جبراً گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ 1989 میں بھارتی افواج نے ہزاروں گھروں کو تہس نہس کیاجس سے بھارتی مظالم کا شکار خاندان آزادکشمیر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ بھارت سرکار نے منصوبہ بندی کے تحت1947، 65 ء اور 1971ء میں ریاستی جبر، فوجی جارحیت اور دہشتگرد جتھوں کے ذریعے مقبوضہ جموں کشمیر کے لاکھوں خاندانوں کو جبراً گھر چھوڑ کر پاکستان ہجرت پر مجبور کیا، لاکھوں انسانوں کو قتل اورہزاروں کی تعداد میں عفت ماآب خواتین کو اغواء کیا گیا۔1989 میں قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر چھاپوں، خانہ اور جامہ تلاشیوں مار پیٹ، تشدد اور قتل عام سے عوام کا جینا مشکل تر کرکے ہزاروں گھرانوں کو ایک بار پھر گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔بھارت کے ظلم کا شکار خاندان آزاد کشمیر ہجرت پر مجبور کئے گئے ،ان اجڑے ہوئے خاندانوں کومملکت خداد پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور عوام نے بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا، اور اپنے بھائیوں کو بے پناہ محبت سے نوازاہے۔ مہاجرین کے عالمی دن کی مناسبت سے سنٹرل پریس کلب مظفر آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، اسی طرح مہاجرین جموں کشمیر نے ریلی کا انعقاد کیاجس کا آغاز سنٹرل پریس کلب سے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک کیا گیا۔ بھارت مخالف ریلی میں مہاجرین کیمپس کے صدور، ذمہ داران اور دیگر مہاجرین نے شرکت کی۔ ریلی میں شریک مہاجرین نے بھارتی ریاستی دہشتگردی، ظلم وبربریت کیخلاف اور آزادء کشمیر کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

مظفر آباد میں نکالی گئی ریلی کی قیادت مہاجرین کے نمائندوں راجہ زخیرخان،محمداقبال اعوان، عزیراحمدغزالی، مشتاق الاسلام ودیگر نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی فوج کے مظالم ہماری ہجرت کی وجہ بنے۔بھارت نے 1947 سے اب تک لاکھوں خاندانوں کو جبراً گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، 1989 میں بھارتی قابض افواج نے ریاستی جبر کے زریعے نہتے عوام پر جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے، گھر گھر چھاپے، کریک ڈاؤن، کرکے ہزاروں خاندانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اقوام متحدہ دنیا کے دیگر مہاجرین کی طرح مقبوضہ جموں و کشمیرکے مہاجرین پر ہونے والے بھارتی مظالم کانوٹس لے۔ مقررین نے کہا کے اقوام متحدہ اپنے انسانی حقوق کمیشن کی کشمیرپر رپورٹ کے بعد ایک وفد کشمیر بھیجے تاکہ مقبوضہ وادی کی ابتر صورت حال کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ مہاجرین کشمیر نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کے قضیہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جائے تاکہ ریاست کے عوام اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرسکیں۔ مہاجرین نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت سرکار کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کاروائیوں، پیلٹ گنوں کے استعمال، جبری گمشدگیوں، جلاؤ گھراؤ، غیر انسانی قوانین پوٹا، ٹاڈا اور افسپا کے بے دریغ استعمال سے بے گناہوں کی گرفتاریوں، طاقت، وحشت اور جبر سے کشمیری عوام کی مبنی برحق تحریک کو دبائے جانے کیخلاف عالمی سطح پر بھرپور اور جارحانہ سفارتی پالیسی کا احیاء کرے تاکہ بھارت کو اس وحشیانہ طرز عمل سے روکا جاسکے۔مقبوضہ کشمیر کی طرح دنیا بھر کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو برما، فلسطین اور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی جہاں سے لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں ، وہ سب مسلمان ہی ہیں۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ مہاجرین میں صرف مسلمان ہی کیوں ہیں؟اور دنیا بھر میں بیرونی قوتیں مسلمانوں کو ہی تختہ مشق کیوں بنا رہی ہیں؟یہ سوال مسلم حکمرانوں سے بھی ہے اور عوام سے بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ستاون مسلم ملکوں کے حکمران اس سلسلہ میں مضبوط پالیسی ترتیب دیں اور مشترکہ طور پر مظلوم مسلمانوں کے دفاع اور ان کے حقوق کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ جب تک بے گھر مہاجرین کو ان کے آبائی خطوں میں آباد کرنے ،ان کی عزتوں و عصمتوں کے تحفظ اور کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر خطوں کے مسائل حل کرنے کیلئے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے محض یہ دن منانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


ای پیپر