پناہ گزنیوں کا عالمی دن
23 جون 2019 2019-06-23

پاکستان سمیت دینا بھر میں جنگ،نقص امن یا کسی اور سبب سے اپنا وطن چھوڑنے والے پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا گیا، پاکستان گزشتہ 4دہائیوں سے 50لاکھ سے زائد مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قراداد کے تحت فیصلہ کیا تھا کہ 2001ء سے ہر سال 20جون کو پناہ گزینوں کے عالمی دن طور منایا جائیگا ،جس کا مقصد عوام کی توجہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی طرف دلوانا ہے کہ جو جنگ ،نقص امن یا مختلف وجوہات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ گزینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس دن لوگوں میں سوچ بیدار کی جاتی ہے کہ وہ ان پناہ گزین بھائیوں کی ضرورتوں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کا ادارہ یونائیٹڈ نیشن ہائی کمشنر فارر فیور جیز اور مختلف انسانی حقوق کی تنظمیں دنیا کے سو سے زائد ممالک میں اس دن کو خوب جذبہ سے مناتی ہیں۔ عالمی سطح پر جنگوں بدامنی نسلی تعصب مذہبی کشیدگی سیاسی تناؤ اور امتیازی سلوک کے باعث آج بھی کروڑوں افراد پناہ گزینوںکی حیثیت سے دوسرے ممالک کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایسے افراد انتہائی غربت کے ساتھ زندگی گزارنے کے ساتھ بنیادی حقوق سے بھی محروم رٍہتے ہیں ۔

افغانستان میں امن وامان کی مخدوش حالت کے پیش نظر پاکستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میںافغان بطور مہاجر گزشتہ 40سال سے پناہ گزین ہیں۔پاکستان کے لیے معاشی وانرجی بحران سمیت مختلف بحرانوں کا شکارہے۔ایسے حالات میں پناہ گزینوں کی یہ بڑی تعداد پاکستان کے لیے معاشی طور پر مزید مسائل پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے ۔جب کہ افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے ملک بھیجنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔واپسی پر ان خاندانوں کو معقول وظیفہ بھی دیا جارہا ہے مگر اس کے باوجود لاکھوں افغان پناہ گزین واپس جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ان دنوں شام میں مسلمانوں پر جاری بد ترین مظالم ،بیرونی مداخلت اور اندرونی انتشار کے باعث 20لا کھ سے زائد افراد کو دوسرے ممالک میں ہجرت کرنا پڑی ہے۔اور ایسے افراد اردن ،لبنان،ترکی اور عراق میں پناہ گزینوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ جب کہ اسرا ئیلی جارجیت ،کے باعث فلسطینی مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک کے رحم و کرم پرہیں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہنے پر مجبورہیں ۔فلسطین کے بعد مہاجرین کے حوالے سے بڑا ملک افغانستان ہے ۔جس کے لاکھوں افراد مہاجر کی حیثیت سے دوسرے ممالک میں موجو د ہیں ۔عراق کے 14لاکھ 26ہزار افراد ،صومالیہ کے 10لاکھ 7ہزار افراد سوڈان کے پانچ لاکھ سے زائد افراد دوسرے ملکوں میں پناہ گزینی کی زندگی گزر رہیں ہے ۔پاکستان کو عالمی یوم پناہ گزین پر اپنے بنگلہ دیشی پاکستانی محصورین کو نہیں بھولنا چاہیے ،جو آج بھی اپنے دل میں پاکستان کی محبت لیے بنگلہ دیشی حکومت کے ناروا سلوک کا ظلم جھیل رہے ہیں۔ جنگوں ،تشدد اور دہشت گردی کے باعث بے گھر اور ہجرت پر مجبور افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔اور ان کی تعداد جنگ عظیم دوم کے دوران بے گھر افراد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنگ اور دہشت گردی کے باعث اندرون ملک اور دیگر ممالک میں ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد تین کروڈ تک پہنچ چکی ہے جو کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ ہے۔مہاجرین کی اس حالیہ تعداد میں اضافہ کی بڑی وجہ شام میں جاری خانہ جنگی ہے ۔اعدادو شمار کے مطابق ترکی میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین کی تعداد رواں برس 20لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔شام کے مظلوم شہری اس وقت دینا میں سب سے زیادہ بے گھر اور پناہ گزین ہیں ۔اس کے بعد افغانستان اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے ۔جبکہ میانمار سے لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کے ادارے یونائیٹڈ نیشن ہائی کمشنر فارر فیو جیزکے سر براہ اینتونیوگ ترز کا کہنا ہے کہ یہ تعداد انتہائی پریشان کن ہے۔اس سے نہ صرف بڑے پیمانے پر انفرادی تکالیف کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری کشیدگی کو روکنے اور مسائل کے بروقت حل میں کس قدر ناکام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ لاکھوں پناہ گزینوں کا مطلب ہے کہ ہر چار اعشاریہ ایک سیکنڈ کے بعد ایک شخص کو اپنا گھر چھوڑنا پڑ رہاہے۔،آپ کے ہر پلک جھپکنے پر ایک اور شخص پناہ گزین بن رہا ہے۔اپنی گھر ،اپنا سر زمین چھوڑنے کا دکھ ایک پناہ گزین ہی جان سکتا ہے ،اس پر غیر ملک میں پناہ گزین کی حیثیت سے کسمپری کی زندگی بسر کرنا انسانیت کی تضحیک کے مترادف ہے ۔بلاشبہ میزبان ملک پناہ گزینوں کو جگہ دے کر انسانیت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن امرواقعہ یہی ہی کہ پناہ گزین کو کبھی بھی برابر کے شہری حقوق میسر نہیں آتے ۔ پناہ گزینوں کے اس عالمی دن کا پیغام ہے کہ اقوام عالم کو چاہیے وہ اقوام متحدہ کے کردار کو اس قدر مضبوط بنائیں ۔کہ وہ ملکوں،قوموں،کے درمیان تنازعات ،شورشوں اور نقص امن کی صورتحال پر اپنا موثر کردار ادا کر سکے ،تاکہ دنیا بھر کے ممالک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو اور کسی کو کسی دوسرے ملک میں پناہ گزینی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔


ای پیپر