…پچھتاوا …
23 جون 2019 2019-06-23

وہ اک کونے میں سر جھکائے بیٹھا تھا کبھی زمین پر انگلیوں سے نشان لگانے میں مصروف ہو جاتا اور کبھی آسمان کو گھو رنے لگتا ،اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے ، اپنی خاموشی وہ اس وقت تو ڑتا جب’’ سنتری بادشاہ "اسے آواز دیتا ابھی اسکی تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی، روایتی انداز میں کی گئی تفتیش نے اسکے چودہ طبق روشن کر دیئے تھے ۔غلیظ گالیا ں بھی اب اسکا مقدر تھیں ، ماں ، بہن کی گالی اس تھا نہ میں عام سی بات تھی لیکن اس نوجوان کی اب غیر ت کو سوں دور تھیں، گا لیاں کھا کر بھی اسکے چہرہ پے کوئی ملال نہ تھا بلکہ وہ سر جھکائے اس پوری’’ گردان‘‘ کو سنتاخاموش ہو کر زمین پے بیٹھ جاتا، اسکی بے بسی دیدنی تھی، یہ وہ مقا م ہے جہاں ہر ملزم کی غیرت ساتھ چھوڑ جا تی ہے، جس کے تحفظ کیلئے وہ دوسروں کا قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے ،کچھ ایسا ہی معاملہ اس جوان کے ساتھ تھا ۔

تھانے کا ہر جوان اپنا غصہ اس پے اتار رہا تھا ۔ دن بھر کی تھکن ،طویل دورانیہ کی ڈیوٹی، افسران کی جھڑکوں کے غصہ کا سارا مسکن وہ بد قسمت ملز مان ہوتے ہیں جو تھانے کی حوالات میں بند ہوتے ہیں ،البتہ اس ملزم کا معاملہ ذرا مختلف تھا اسکو اگلے رو ز جیل رو انہ ہو نا تھا ۔ بڑی بے دلی کے ساتھ وہ پولیس کی گاڑی میں سوار ہو ا یہ فراٹے بھرتی ہوئی جانب جیل روانہ ہو گئی، گرد و نواح میں چلتے پھرتے انسانوں کو یہ بڑی حسر ت سے دیکھ رہا تھا، چند رو ز قبل یہ بھی سماج کا آزاد شہری تھا ۔صبح جب ہنستے مسکراتے بچوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنے کام پہ نکلتا اور پھر دن بھر کی تھکن کے ساتھ گھر داخل ہو تا بیوی کھانا اس کے سامنے رکھتی بچے اس سے آکر لپٹ جاتے، بھائی آکر خیریت دریافت کرتے تو زندگی کتنی حسین دکھا ئی دیتی ایک لاکھ کی ماہانہ آمدنی سے زندگی کی ضروریات پوری ہو رہی تھیں، اسے طیش میں نہیں آنا چاہیے تھا، اسی وقت غصہ تھوک دیتا اور کوئی راستہ تلاش کر لیتا ، ماں کی بات کو ٹال دیتا ، بہن کی لگائی بجھائی میں نہ آتا تو آج اس حالت میں نہ ہو تا ، حوالدار نے اک جھٹکے سے ہتھکڑی کھینچی تو اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر خیالوں کی دنیا میں گم ہو گیا وہ کیا خوبصورت صبح تھی جب سب گھر والے ، دوست احباب شاد ی کی مبارکباد دے رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اسے چاند کی سی بیوی عطا کی تھی اس کی ماں اس رو ز اسکی بلائیں لے رہی تھی ہر ایک کے سامنے بہو کی تعریف کر رہی تھی ، اب اسے بچوں کی شرارتیں یاد آرہا تھیں، اسکے جذ با ت مچل رہے تھے اتنے میں زور دار بریک لگی حوالدار نے کہا سب نیچے اتر و جیل آگئی ہے، تھانہ سے جیل تک سفر یادوں کے سہارے گذر ا معلوم باقی زندگی کس طرح گزر ے گی ، خود کو دوسرے قیدیوں کے مابین پا کر وہ بڑا خوف زدہ تھا ،کہاں گھر کا آرام ، بیوی کا ساتھ، بچوں کی شراتیں اور کہاں بد بودار ماحول لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا کاش ! میں نے ایسا نہ کیا ہو تا اس وقت کوئی مجھے سمجھا دیتا، میرے ہاتھ سے آلہ قتل لے لیتا ،مجھے کوئی روک لیتا، بات اتنی نہ بڑھتی جن خونی رشتہ داروں کا میں نے خون کیا وہ اس وقت گھر نہ ہوتے ،رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں اتنا سنگین جرم مجھ سے سر زدہو گیا ،میں کتنا بد نصیب ہوں خو د کلامی میں مصروف تھا ملزم کو ہرکارے نے آواز دی تمھاری ملاقات آئی ہے ،بوجھل قدموں سے آگے بڑھا ،کس منہ سے اپنے عزیز وں کا سامنا کر وں، انہیں دیکھتے ہی اسکا ضبط ٹوٹ گیا اور زار قطاررو نے لگا یتیم بھتیجے کو دیکھ کر اسکا چچا بھی آنسو نہ روک سکا، تم نے ظلم کی انتہا کر دی اپنے دو سالوںپر دن کی روشنی میں ان کے گھر جا کر چھر ی کے وار کر کے قتل کیا اور ان کے دو بچوں کو شدید زخمی کر دیا کتنے بد بخت ہو تم، اچھی خاصی لگی روزی کو تم نے لات ما ر کر اپنا اور دوسروں کے گھر اجاڑ دیا چہرہ نیچے کیے وہ سنتا رہا چچا یہ تو بتا ئو کہ میرے بیٹے اور بیٹی کا کیا حال ہے؟ ابھی چچا بتا نے ہی والا تھا کہ آواز پڑی ملا قات کا ٹائم ختم ہو گیا ہے، حسرت بھری نگاہوں سے اپنے عزیزوں کو دیکھتے الوداع کہتے واپس اپنے مقام پے آگیا اور چپ سادھ لی بس اک کونے میں بیٹھ کر سسکیاں لینے لگا اتنے میں اذان کی آواز آئی وہ مسجد کی جانب چل پڑا چند رو ز کے بعد پیشی تھی، اسے آج امید تھی کہ اسکے عزیز و اقر باء ضرو ر ملاقات کیلئے آئیں گے ۔ آج بھی اسکا چچا اور کزن ملاقات کیلئے آئے انہیں دیکھ کر وہ ملنے کے لیے لپکا تو سنتر ی بادشاہ نے ان کے سامنے ہی اسے تھپڑ رسید کر دیا، اب اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کزن نے صبر کی تلقین کی تو بے ساختہ بولا میں نے اپنی والدہ اور بہن کے اکسانے پر جھگڑاکیا ہے مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے ہاتھوں سے میری بیوی کے بھائی مارے جائیں گے چند لمحات کی ملا قات پر وہ اصرار کرتا رہا کہ اس کے بچوں کو کسی طرح ملا وا دیا جائے، اب عدالت میں آواز پڑ گئی اور ملاقات ادھوری رہ گئی ۔ اک روز جیل میں گم سم رہنے والے اس قیدی سے دوسرے نے ملاقات کر کے اسکا بوجھ ہلکا کرنے کی کاوش کی اور یہاں آنے کا سبب پو چھا۔

تو وہ گو یا ہوا کہ میں پلمبر کا کام کر تا تھا میری تعلیم واجبی سی ہے میری شادی شریف النفس لوگو ں میں ہوئی تھی میری بیوی بڑی صا بر تھی مگر میں اکثر والد ہ کے کہنے اور بہنوں کے اکسانے پر اس سے لڑائی جھگڑا کر تا تھا کبھی کبھار تشدد بھی کر تا وہ برداشت کر تی تھی لیکن زیادہ ہونے کی صورت میں وہ میکے چلی جاتی پھر صلح کی کاوش کی جاتی، وہ مان جاتی ،گھر واپس آتی کچھ رو ز سکون سے گزرتے پھر کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہو تااور پھر وہ روٹھ کر میکے چلی جاتی یہ سلسلہ چلتا رہا جھگڑا ہمیشہ والدہ کے کہنے پر ہو تا کبھی کبھا ر میں برداشت بھی کر لیتا میرے عزیز و اقر با ء بھی رو ز روز صلح کر وا کر تنگ آچکے تھے آخری بار جھگڑا ہوا تو بیوی پھر میکے چلی گئی والدہ اور بہنوں نے میرا جینا حرام کر دیا مجھے شدید غصہ آیا ، رمضان المبارک کی صبح میں نے خنجر پکڑااور سسرال کے گھر چلا گیا ہم ایک ہی محلہ میں ملتان رہتے ہیں، اس وقت وہ سو رہے تھے میں نے زور سے دروازہ بجایاکسی بات پر تکرار ہو ئی کیونکہ وہ بھی میرے رویے سے نالاں تھے لیکن بہن کی وجہ سے مجبورتھے میں نے خنجر سے بڑے سالے پے وار کیا وہ وہیں ڈھیر ہو گیا پھر دو سرا سالہ میری طرف لپکا میں نے اس پہ بھی وار کیا خون میری آنکھوں میں سوار تھا اتنے میں ان کے بیٹے میر ے طرف بڑھے میں نے ان پر بھی خنجر چلا دیئے وہ زخمی ہوئے محلہ میں کہرام مچ گیا لو گ جو ق در جوق ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے میں بیوی کو بھی مارنا چاہتا تھا لیکن وہ بچ گئی میں پنگوڑے کی طر ف بڑھا کہ اپنے بچے کو ماروں مگر وہ خالی تھا۔ لوگوں نے مجھے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ۔ اب میرے پا س سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچا ۔ یہ داستان اس کے کزن نے سنائی جو شک کی بنیاد پر جیل گیا اور رہا ہوا۔

اسکی والدہ اور بہنیں محلہ چھوڑ کر فوراً فرار ہو گئیں اب اس کی عزت کہاں گئی، رشتہ داروں میں بڑا غم و غصہ پایا جاتا ہے، کوئی بھی اسکی مدد کر نے کو تیا ر نہیں ،بد بخت نے کئی گھر اجاڑ دیئے عزیز اقر با ء جو ملاقات کر کے آتے ہیں اسکی ساری رام کہانی سناتے ہیں اب وہ رو تا اور پچھتاتا ہے، میڈیا کو اس نوع کی کہا نیاں موضوع سخن بنانی چاہیے تاکہ نوجوان ان سے عبرت پکڑیں ان جذبات کا اظہار حلقہ احباب میں سے قریبی دوست نے کیاجومقتولین کے فرسٹ کزن بھی ہیں ۔


ای پیپر