نواز شریف کو جانے دیں؟
23 جون 2019 2019-06-23

مریم نواز نے پریس کانفرنس کی اور کہا، ’ پاکستان مصر جیسا ملک نہیں ہے اور نہ ہی ہم نواز شریف کومحمد مُرسی بننے دیں گے ‘ نواز شریف کو تین مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوچکا جس میں سے آخری اڈیالہ جیل میں ہوا مگر انہیں حکومت کی طرف سے لاعلم رکھا گیا‘، انہوں نے یہ پریس کانفرنس اس موقعے پر کی جب سابق وزیراعظم کی اسلام آباد ہائی کور ٹ سے طبی بنیادوں پر علاج کے لئے ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد ہو چکی ہے اور مسلم لیگ نون کے قائد کے اپنے کارکنوں کے ساتھ ملاقات کے دوران مختلف سیاسی بیانات سامنے آچکے ہیں جس کے ردعمل میں حکومت ان کی سیاسی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کے رہنماو¿ں سے بات چیت کی جائے تو وہ میاں نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی وکالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ عدالت کہتی ہے کہ پاکستان میں بھی اچھے ڈاکٹر اور ہسپتال موجود ہیں، وہاں سے علاج کروا لیا جائے۔ کیا ایک سابق جج، سینئر وکیل اور مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی کے بھائی کی یہ رائے درست ہے کہ شریف خاندان ، میاں نواز شریف کا، پاکستان میں علاج اس خطرے کے پیش نظر نہیں کروانا چاہتا کہ انہیں علاج کے نام پر قتل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد نہ کوئی شہادت ہو گی اور نہ ہی کوئی مدعی بن سکے گا۔

میں نہیں جانتا کہ یہ اندیشہ کس حد تک درست ہے مگر اس حد تک درست ضرور ہے کہ جناب عمران خان اوران کے ساتھیوں نے سیاست میں اختلاف کو دشمنی اور نفرت میں بدل کے رکھ دیا ہے جس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ہمارا ماضی بتاتا ہے کہ مخالف سیاستدانوں کی موت کی خواہش محض اندیشہ نہیں ہے۔ یہاں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی سڑک کنارے کھڑی ایک ایمبولینس میں بے بسی کے عالم میں ہونے والی موت کا ابھی تک علم نہیں ہوسکا کہ اس کے اسباب کس نے مہیا کئے۔ مادر ملت فاطمہ جناح کی ہوٹل کے ایک کمرے میں ہونے والی پراسرار موت کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کے صاحبزادے مرتضیٰ بھٹو اور پھر صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی قتل ہو گئیں۔ پرویز مشرف کی یہ خواہش کس سے ڈھکی چھپی تھی کہ وہ نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں سزائے موت دلوانا چاہتے تھے تاہم بیگم کلثوم نواز کائیاں نکلیں، انہوںنے اپنی سیاست کے ذریعے حکومت پر دباو¿ بڑھایا اور اپنے شوہر اور بچوں کو اس ملک سے لے کر نکل گئیں، یہاں کچھ بھی ممکن ہے۔

کہتے ہیں کہ مصر کے سابق صدر محمد مُرسی کمرہ عدالت میں بھی ایک پنجرے میں بند تھے اور وہ اس وقت اپنے خلاف جاسوسی کے ایک مقدمے کے دوران صفائی دے رہے تھے۔ اخوان المسلمین کی دیگر قیادت بھی پنجرے میں ہی تھی۔ وہ جج کے سامنے نواز شریف ہی کی طرح صفائیاں دے رہے تھے کہ انہوں نے کبھی ملک کی سلامتی و خودمختای کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ اسی دوران وہ بے ہوش ہو گئے اور کچھ دیر بعد انتقال کر گئے۔ اخوان کے پنجرے میں بند دیگر رہنما اپنے لیڈر کو مرتے ہوئے دیکھ کر شدت غم سے بے ہوش ہو گئے۔ ترک صدر طیب اردگان نے الزام عائد کیا کہ جب محمد مُرسی کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ بیس منٹ تک طبی امداد کا انتظار کرتے رہے مگر انہیں طبی امداد نہیں دی گئی لہٰذا وہ کہہ سکتے ہیں کہ مصردر حقیقت انہیں قتل کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے بھی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ علم ہو سکے کہ جن حالات میں سابق صدر کوقید رکھا گیا ان کا اس طرح ہونے والی موت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، یاد آیا، گذشتہ برس مارچ میں برطانوی پارلیمانی ارکان نے خبردار کیا تھا کہ محمد مرسی کی ذیابیطس اور جگر کی بیماری کا ناقص علاج قبل از موت کی وجہ بن سکتا ہے۔ بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاءکو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا رہا ہے ۔

نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور حکومت کے حامی اسے این آراو کا نام دیتے ہیں یعنی نواز لیگ کے سربراہ اپنے مبینہ جرائم کی سزا بھگتنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر جلاوطنی اختیار کرنا چاہتے ہیں مگر دوسری طرف مسلم لیگ نون والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو نواز شریف کے علاج کے لئے جانے پر کوئی اعتراض نہیں مگر وہ اس امر کی ضمانت چاہتے ہیں کہ نواز شریف موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے واپس نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اور ان کی بیٹی بہت جارحانہ سیاست کرتے ہیں۔ بظاہر یہ رائے وزنی نظر آتی ہے کہ شہباز شریف اور آصف زرداری طے کی گئی’ حدود‘ کے اندر سیاست کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ، شہباز شریف حکومت کو اس وقت بھی ایوان میں میثاق معیشت کی پیش کش کر رہے ہیں جب ان کی بھتیجی کے مطابق ان کے بڑے بھائی کو قید میںجان کے لالے پڑے ہوئے ہیںاورآصف زرداری بھی اس وقت پرانے حساب کتاب بند کرنے کی صلاح دے رہے ہیں جب وہ اسی نیب کے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں جس کے بارے کہتے تھے، ’ اس نیب کی یہ جرا¿ت کہ مجھے پکڑے‘۔’ماہرین ‘کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست تو ٹھیک ہے مگر’باڈی لینگوئج‘ ٹھیک نہیں ہے اور بسا اوقات آپ کے کہے ہوئے الفاظ سے کہیں زیادہ اہم ( یا خطرناک) آپ کی باڈی لینگوئج ہوتی ہے جو وہ سب کچھ کہہ دیتی ہے جو آپ اپنے منہ سے نہیں کہہ رہے ہوتے۔ مریم نواز شریف اور ان کے مقرر کردہ سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے شہباز شریف کی طرف سے حکومت کو کی جانے والی’ میثاق جمہوریت ‘کی پیش کش بھی مسترد کر دی ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مطابق حکومت بھی آمادہ ہو گئی تھی۔

میںا یک تجزیہ کار ہوں اور جانتا ہوں کہ پاکستان کے تیسرے فوجی آمر نے اپنے اقتدار کے پہلے سات برس اس لئے اطمینان کے ساتھ گزار لئے تھے کہ اس کے سیاسی مخالفین بیرون ملک تھے۔ دوسرے آمر ضیاءالحق بھی اس وقت تک سکون میں رہے جب تک بے نظیر بھٹو نے اپریل 86 تک واپس نہیں لوٹی تھیں۔ ابھی تک اشارے یہی ہیں کہ مقتدر حلقے عمران خان کے ساتھ ہیں اور اگر وہ خان صاحب کے پانچ برس اقتصادی بدحالی کے باوجود مکمل کروانا چاہتے ہیں تو نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے میں کوئی انکار نہیں ہونا چاہئے مگر بات پھر وہی ہے کہ نواز شریف وطن اپنی مرضی کی تاریخ پر آنا چاہتے ہیں جو حکمرانوں کے لئے قابل قبول نہیں اوراس پر کھل کے بات ہوجانی چاہئے۔ رہ گئی بات آئین اور قانون کی، کہنے والے کہتے ہیں کہ اس سے پہلے نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کون سے قانون کے مطابق ہوئی تھی۔ اگر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے حالیہ دس برسوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ سول اور فوجی حکومتوں کے دوران اپوزیشن رہنماو¿ں کی جیل یاترا و¿ںاور پھر جلاوطنیوں کی سے بھری پڑی ہے اور یوں نواز شریف کا جانا کوئی غیر معمولی اور انوکھا واقعہ نہیں ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ عمران خان اپنے فالوررز کو اس فیصلے پر محض ایک ٹوئیٹ کے ذریعے نہ صرف قائل بلکہ واہ واہ کرنے پر مجبور کر دیں گے جس کے بعد وہ ہوں گے، شہباز شریف ہوں گے اور آصف زرداری ہوں گے۔


ای پیپر