انتخابات ، مگر نتائج کل قابل قبول تھے نہ آج
23 جون 2018 2018-06-23

آج سے 48 سال یعنی دو برس کم نصف صدی قبل 1970ء میں ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے ۔۔۔ قیام پاکستان کے 23 سال بعد! میں 1968ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کی تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوا تھا۔۔۔ عملی سیاست میں حصہ لینے کی خواہش زندگی بھر دل میں پیدا نہیں ہوئی۔۔۔ لیکن علم سیاسیات کا طالب علم ہونے کے سبب اصولی طور پر بہت دلچسپی تھی۔۔۔ اس زمانے میں جو لوگ ہم سے سینئر تھے ۔۔۔ ان میں بڑی تعداد ایسے حضرات کی تھی جنہوں نے تحریک پاکستان میں براہ راست حصہ لیا تھا۔۔۔ یا کم از کم اس ملک کو اپنی آنکھوں کے سامنے بنتے دیکھا تھا۔۔۔ میرے والد مرحوم بڑے فخرو انبساط کے ساتھ ان دنوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔۔۔ وہ 1935ء میں آبائی گاؤں خانکی ہیڈ ورکس تحصیل وزیر آباد (جہاں سے نہر لوئر چناب نکلتی ہے اور وسطی پنجاب کے آٹھ اضلاع کو سیراب کرتی ہے) سے ملازمت کی خاطر لاہور آئے تھے ۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ایک ڈاکٹر امرناتھ پوری ہوا کرتے تھے ۔۔۔ عالمی افق پر جنگ عظیم دوم کے سائے منڈلانا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔ ڈاکٹر امرناتھ پوری نے حکومت ہند کو جنگ کی پیشگی تیاریوں میں مدد فراہم کرنے کے لئے اس مقام پر جہاں آج کل پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس سے متصل نہر کے اس کنارے کلینک (جسے اب باقاعدہ ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا ہے) واقع ہے۔۔۔ ایک کیمیکل ورکس قائم کیا۔۔۔ عمارت تعمیر کرائی۔۔۔ یوں کہئے کہ یونیورسٹی کے موجودہ اور وسیع و عریض کیمپس کی بنیاد رکھ دی گئی۔۔۔ والد صاحب کو خانکی ہیڈورکس اور قریب واقع ایک رائس فارم میں تین چار برس کی ملازمت کی وجہ سے تعمیراتی کاموں کا تجربہ اور کیمیاوئی فارمولوں کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ تھی۔۔۔ لاہور آتے ہی ڈاکٹر امرناتھ پوری کے یہاں ملازمت مل گئی۔۔۔ انہوں نے اپنی نگرانی میں نہر کے کنارے جہاں دور دور تک آبادی کا کوئی نشان نہ تھا عمارت بنائی۔۔۔ جو اب یونیورسٹی کے کلینک کی شکل میں اسی طرح کھڑی ہے۔۔۔ 1966ء میں جب میں نے ایف سی کالج لاہور سے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس کے مضامین میں بی اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے نوتعمیر کردہ ’نیو کیمپس‘ میں واقع شعبہ سیاسیات میں ایم اے کے سال اوّل میں داخلہ لیا تو ایک روز ابا جی مجھے دیکھنے کے لئے وہاں آئے۔۔۔ صدر شعبہ ڈاکٹر انوار اور سینئر پروفیسر ڈاکٹر منیرالدین چغتائی (جو بعدمیں وائس چانسلر بھی مقرر ہوئے) سے ملے اور بڑے فخر کے ساتھ انہیں بتایا کہ کس طرح انہوں نے تقسیم سے قبل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی نگرانی میں یہاں کی پہلی عمارت تعمیر کرائی تھی اور14 اگست 1947ء تک یہیں کام کرتے رہے۔۔۔ اس دور کی داستان وہ بڑے مزے لے کر سنایا کرتے تھے ۔۔۔ ان کی بھرپور جوانی کے دن تھے ۔۔۔ کام کرنے کا بہت جذبہ تھا۔۔۔ ڈاکٹر پوری نے انہیں اپنے پورے کیمیکل ورکس کا انچارج بنا دیا تھا۔۔۔ اس نوکری کے دوران اچھرہ میں اپنا گھر بنا لیا۔۔۔ اب تک ہماری رہائش اسی گلی میں 1957ء میں والد صاحب کے ہاتھوں تعمیر کردہ ایک کنال کو محیط دو منزلہ گھر میں ہے۔۔۔ ایک رعب داب اور اپنے وقت کی مؤثر شخصیت کے مالک ہندو پروفیسر کے ادارے میں نوکری کے ماہ و سال میں لاہور میں تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو والد مرحوم نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔۔۔ اچھرہ کے اندر بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا مقامی یونٹ قائم تھا۔۔۔ اباجی اس کے کارکن بن گئے۔۔۔ شیخ رشید نے اپنی سوانح میں باقاعدہ ان کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔۔۔ اس زمانے میں لاہور سے اس دور کے معروف صحافی مرتضیٰ احمد میکش کی ادارت میں روزنامہ ’احسان‘ نکلا کرتا تھا۔۔۔ اس میں بھی والد اور ان کے ساتھیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں خبر شائع ہوئی۔۔۔ انہی دنوں 1946ء میں ایک روز اباجی سر سے روایتی پگڑی اتار کر جناح کیپ پہنے کام پر چلے گئے۔۔۔ ڈاکٹر امرناتھ پوری کی نگاہ پڑی تو وہ ان سے مخاطب ہو کر بولا استاد جی آپ یہاں بھی یہ ٹوپی پہن کر آ گئے ہیں گویا پاکستان بنا کر چھوڑیں گے۔۔۔ (اباجی کو بعداز مرگ تحریک پاکستان کا گولڈ میڈل بھی ملا) وہ بتایا کرتے تھے کس طرح 1945-46ء کے ہندوستان گیر انتخابات میں مسلمانان برصغیر کے ہاتھوں پاکستان کے حق میں پڑنے والے فیصلہ کن ووٹ نے حصول مملکت کی منزل کو قریب تر کر دیا۔

یہ اسی نسل کے لوگ تھے جو 1970ء کے پہلے عام انتخابات کا وقت قریب آیا تو تاسف کا اظہار کرتے تھے کہ ہم نے 23 برس حکومتوں کے اکھاڑپچھاڑ اور

بالآخر دس سالہ مارشل لاء میں ضائع کر دیئے۔۔۔ انتخابات جلد ہو جاتے تو خلفشار کا سامنا نہ کرنا پڑتا نہ شیخ مجیب کو چھ نکات پیش کرنے کا ماحول دستیاب ہوتا۔۔۔ خدا خدا کر کے ووٹ پڑا تو نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا۔۔۔ قائداعظمؒ کا پاکستان دولخت ہوا۔۔۔ بھارتی فوج کے آگے ہتھیار پھینکنے کی جو ذلت برداشت کرنا پڑی سو الگ۔۔۔ 16 دسمبر1971ء کو سورج ڈھلے جب اس سانحہ عظیم کی خبر موصول ہوئی۔۔۔ جس کے بارے میں بی بی سی نے غالباً تین روز پہلے کہہ دیا تھا کہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو اگر معلوم ہو جائے کہ جلد ان کے ملک کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو شاید اپنے حواس کو قابو میں نہ رکھ سکیں۔۔۔ اسی شام اباجی نے لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ جوانی میں پاکستان بنتے دیکھا تھا بلکہ ہاتھوں سے بنایا تھا۔۔۔ اب جو بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہوں تو آنکھوں کے سامنے اس کے ٹوٹ جانے کا صدمہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ منزل (اقتدار پر قبضہ) انہیں ملتی جو شریک سفر نہ تھے ۔۔۔ انہی دنوں کچھ بالغ نظر افراد کی رائے تھی 6 نکات تسلیم بھی کر لئے جاتے تو زیادہ سے زیادہ کنفیڈریشن بن جاتی۔۔۔ ڈھیلی ڈھالی وحدت تو برقرار رہتی۔۔۔ نقشہ عالم پر متحدہ پاکستان کا وجود باقی رہتا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری بہادر فوج کو بھارت جیسے کمینے دشمن کے آگے ہتھیار نہ پھینکنے پڑتے۔۔۔ المیہ ملاحظہ کیجئے 1945-46ء کے انتخابی نتائج کو انگریز کی طاقت اور ہندو کانگریس مان لینے پر مجبور ہوئے تو پاکستان بن گیا۔۔۔ 1970ء میں ہمارے برسراقتدار ٹولے نے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو یہ عظیم ملک ٹوٹ گیا۔۔۔ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود جو پاکستان باقی رہ گیا اس میں اگرچہ پے در پے انتخابات ہوئے لیکن مقتدر قوتوں نے کسی نہ کسی بہانے نتائج کو کبھی حقیقی معنوں میں تسلیم نہ کیا۔۔۔ اس کے بعد 1977ء میں انتخابات ہوئے۔۔۔ بھٹو نے دھاندلی کی۔۔۔ پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بھٹو پاکستان قومی اتحاد کی قیادت کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا۔۔۔ طے ہوا چاہتا تھا کہ ازسرنو انتخابات کرائے جائیں گے لیکن جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر معاہدہ نہ ہونے دیا۔۔۔ جھوٹا وعدہ کیا نوّے روز کے اندر انتخابات کرائیں گے جو ایفا ہونا تھا نہ ہوا۔۔۔ 1985ء میں غیرجماعتی اسمبلی وجود میں لائے۔۔۔ مرضی کا وزیراعظم مقرر کیا پھر اڑھائی برس کے اندر اس کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی یعنی اپنے ہاتھوں سے کرائے گئے انتخابات کو بھی ہضم نہ کر پائے۔۔۔ بدنامی چونکہ بہت ہو چکی تھی کہ یہ لوگ مارشل لاء اٹھا کر بھی اقتدار پر قابض رہتے ہیں لہٰذا نئی ریت قائم ہو گئی۔۔۔ انتخابات ہونے دو۔۔۔ اکثریتی جماعت کا وزیراعظم بننے دو۔۔۔ پانچ سالہ آئینی مدت کا آدھا وقت بھی نہ گزرنے پائے تو وزیراعظم کو مکھن سے بال کی مانند باہر نکال پھینکو اور اسمبلی بھی توڑ دو۔۔۔ چنانچہ ضیاء الحق والے تجربے کو نت نئے انداز میں جاری رکھا گیا۔۔۔ 1988ء میں چناؤ ہوئے۔۔۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئی۔۔۔ 1990ء میں سکیورٹی رسک قرار دے کر چلتی کی گئی۔۔۔ اسمبلی بھی اس کے ساتھ غرق مے ناب کر دی گئی۔۔۔ 1990ء کے انتخابات کے بعد نوازشریف کو وزیراعظم بنایاگیا۔۔۔ آدھا سفر طے کرنے سے پہلے اس کی پہلی حکومت بھی اسمبلی سمیت راہی ملک عدم کر دی گئی۔۔۔ 1993ء میں ’’سکیورٹی رسک‘‘ بے نظیر کو دوبارہ گلے کا ہار بنانا پڑا۔۔۔ لیکن تابکے۔۔۔ وہی دو اڑھائی برس!۔۔۔ بے نظیر حکومت اور اس کی اسمبلی دونوں پس پردہ بیٹھ کر تاریں ہلانے والے ’’والیان ریاست‘‘ کے ایما پر سپردخاک ہوئے۔۔۔ آئین میں ’58بی ٹو‘ متعارف کرا دی گئی تھی۔۔۔ اور ایک سویلین صدر کو آلہ کار بنا کر کام لیا جاتا تھا۔۔۔ پہلے بیوروکریٹ غلام اسحق خان پھر بے نظیر کی اپنی جماعت کا فاروق لغاری۔۔۔ دو مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم کا جس نے اگلے ڈکٹیٹر کے دور میں قتل ہو جانا تھا خوب منہ چڑایا گیا۔۔۔ عوام اس سارے ڈرامے سے بیزار ہو چکے تھے ۔۔۔ انہوں نے فروری 1997ء کے چناؤ میں نوازشریف کو دوتہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب کرایا۔۔۔ وہ دوبارہ وزیراعظم بنا تو اپوزیشن لیڈر بے نظیر کے تعاون کے ساتھ ’58ٹو بی‘ کا کانٹا راستے سے ہٹا دیا۔۔۔ بے نظیر کا ’’فاروق بھائی‘‘ بھی استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا۔۔۔ مگر وہ جن کے پاس اب بھی ریاستی طاقت تھی منظم اور مؤثر ترین تھے ۔۔۔ وہ کب ماننے والے تھے ۔۔۔ اڑھائی برس گزرنے نہ پائے تھے کہ جنرل مشرف نے چوتھا فوجی راج قائم کر کے تمام کی تمام جمہوریت اور اس کے اداروں کو رگید کر رکھ دیا۔۔۔ 1970ء کے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کی جو بنا رکھی گئی تھی وہ 12 اکتوبر 1999ء تک اس ملک کے آئین جمہوریت اور پارلیمان ہر چیز کو بوٹوں تلے روندتی رہی۔

2002ء میں چوتھے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اپنے غیرآئینی اقتدار کو جمہوری لبادہ پہنانے کے لئے جو انتخابات کرائے اور ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ نے ظہور پایا فطری اس کے نتائج قبول کر لئے گئے۔۔۔ پانچ سال کی مدت پوری ہونے دی گئی۔۔۔ مگر نئے کھلواڑ کے ساتھ کہ مرضی کا وزیراعظم لاؤ۔۔۔ اسے ٹشوپیپر کی مانند استعمال کر کے جلد پھینک دو۔۔۔ مشرف کی پارلیمنٹ نے یکے بعد تین وزرائے اعظم ظفر اللہ جمالی، چودھری شجاعت اور امریکہ سے درآمد کیا جانے والا بینکر شوکت عزیز بھگتائے۔۔۔ اس طرح پرانی شراب نئی بوتلوں میں بکنا شروع ہو گئی۔۔۔ یعنی پارلیمنٹ تو اپنی مدت پوری کر لے لیکن وزیراعظم جو اس کی اصل طاقت ہوتا ہے اور اپنی کابینہ سمیت عوام کے تفویض کردہ اختیارات کا عملاً مالک ہوتا ہے اس کی ذلت و رسوائی کا سامان کرو اور حکومت اس کی ختم کرتے رہو۔۔۔ 2008ء کی قومی اسمبلی نے مدت پوری کی مگر جنرل مشرف کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کہ ایوان میں کھڑے ہو کر ریاست کے اندر ریاست کے الفاظ کہنے کا گناہ کر بیٹھا تھا عدالتی فیصلے کے ذریعے پانچ برس کے لئے نااہل قرار دیا گیا۔۔۔ اس کے بعد راجہ پرویز اشرف نے یوں سمجھئے وقت پورا کیا۔۔۔ 2013ء کے انتخابات میں نوازشریف نئی انتخابی عوامی طاقت کے ساتھ جمہوریت کا جن بن کر سامنے آیا۔۔۔ اسے قابو کرنے کے لئے یار لوگوں کے چار برس لگ گئے۔۔۔ پانامہ مقدمات کے ذریعے ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہ ہوئی تو اقامہ کا ڈھونگ رچایا گیا۔۔۔ جسٹس منیر کی وارث عدالت کے ذریعے تاحیات نااہلی مسلط کر دی گئی۔۔۔ اب جو نئے انتخابات ہوا چاہتے ہیں۔۔۔ نوازشریف کی مسلم لیگ چاہے کتنی انتخابی طاقت کا اظہار کر دکھائے نتائج کو مرضی کے مطابق ڈھالنے کا پہلے سے اہتمام کر لیا گیا ہے۔۔۔ سانچے تیار ہیں۔۔۔ 25 جولائی کے بعد جو اسمبلی وجود میں آئے گی اس کی کوکھ سے جو وزیراعظم برآمد کیا جائے گا وہ اوپر والوں کی مرضی کا ہو گا۔۔۔ چاہے عمران خان یا نئے روپ والا صادق سنجرانی۔۔۔ انتخابی نتائج کو 1970ء میں تسلیم کیا گیا نہ فی الواقع اب ۔۔۔ راج جنرل ایوب کے وارثوں کا البتہ جاری و ساری ہے۔


ای پیپر