تقدیر ہے تدبیر تیری
23 جون 2018 2018-06-23

گزشتہ دنوں فرانس میں تین سو دانشوروں ، سیاست دانوں اور سرکردہ افراد نے ایک یاداشت پر دستخط کیے کہ قرآن پاک کی جن آیات میں یہودی، عیسائی، بے دین ملحدوں سے قتال اور قتل کا حکم ہے وہ حذف کردیا جائے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند! ان کے مطالبات اور خواہشات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ یہ مطالبہ نیا نہیں۔ وہی سرداران قریش والا مطالبہ ہے کہ آپؐ قرآن کی ان آیات سے دست بردار ہو جائیں جو ان کے خداؤں کو برا کہتی ہیں۔ جواب اللہ دے چکا۔ اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن لے آؤ یا اسے کچھ بدل دو۔ کہہ دیجئے:(اللہ کا جواب دیکھئے اور آج بھی کفر کو بتادیں) مجھے اختیار نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے کچھ بدل دوں۔ میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ بے شک اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرلگتا ہے ۔ (یونس۔15)قیامت تک کے لیے ان آیات نے مبلغین ، حاملین قرآن، ہر مسلمان کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔ قرآن کے موقف ، اس کی ایک آیت سے بھی ہٹا، دست بردار نہیں ہواجاسکتا۔ اسے ترک کرنے کے جو اسباب، وجوہات مکہ میں تھیں، حتیٰ کہ غزوۂ احزاب تک بھی تھیں کہ سبھی دشمن قوتیں مل کر مدینہ کی بستی پر یلغار کر گئی تھیں۔ اس سے زیادہ سخت حالات ممکن نہ تھے کہ ہلا مارے گئے۔ مسلمان اپنے مؤقف پر چٹان بن کر ڈٹے رہے اور ثابت کردکھایا کہ دین نے انہیں ایک بہتر اور برتر زندگی عطا کی ہے جسے وہ کسی قیمت چھوڑنے پر تیار نہیں۔ خود قرآن پر معترض امن کی ان مغربی فاختاؤں نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ برما جیسے ظالم بودھوں کی ڈھائی قیامتوں پر بگلا بھگت بنے، منہ پھیرے، آنکھیں بند کئے رہے۔ شام پر کیمیائی حملوں کی سفاکی انہیں گراں نہ گزری۔ فلسطین ، کشمیر پر قیامت برساتے یہودی مودی نظر نہ آئے۔ ایسے سفاک بھیڑیوں کا علاج نہ ہو؟ مسلمان لاشیں ڈھونڈتے ، بیوہ یتیم رلتے رہیں؟ مارکھاتے ، بے دم، بے سدھ مسلمانوں کی کتاب مقدس ان کے حلق کی پھانس رہی۔ تم نے انجیل وتورات میں تحریفیں کرتے اس کی ہزاروں لاکھوں قسمیں بناڈالیں۔ تم نے قرآن کو اسی پر قیاس کر لیا۔ ؟ منہ دھو رکھو! خود چرچ سروس گٹاروں، کم لباسی اور اختلاط سے آلودہ کردی۔ بحمد للہ اسلام اور قرآن کے ابھی کروڑوں محافظ موجود ہیں۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ اپنی فکر کرو۔ تمہاری نسلوں کے اندر حق سے محرومی کا مہیب خلا زندگیاں کس طرح اجیرن کررہا ہے ۔ امریکہ (یورپ میں بھی) میں نامی گرامی شخصیات کی اچانک خودکشی کے واقعات نے سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔ 2016ء میں صرف امریکہ میں عمومی طورپر 45ہزار خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جس میں ہرنگ، نسل، پس منظر کے لوگ شامل ہیں۔ 44امریکی ریاستیں اس رحجان کی بری طرح لپیٹ میں ہیں۔ پہلے ایک نامی گرامی شیف اور ایک ٹی وی پروگرام کے میزبان انتھونی بورڈین نے شہرت، دولت گلیمر بھری زندگی کے عروج پر ہوتے ہوئے خودکشی کی۔ اب اوائل جون میں کیٹ سپیڈ جو مشہورومعروف ڈیزائنر تھی، نے 55سال کی عمر میں نیویارک میں خودکشی کرلی۔ ہینڈ بیگز کی دنیا کی بے تاج ملکہ، شوہر کے ساتھ مل کر نامی گرامی کمپنی بنائی۔ یہ بھی کامیابیوں اور شہرت دولت سبھی سے آراستہ پیراستہ تھی، یکایک مردہ پائی گئی۔ اب انہیں فکر یہ ہے کہ جن افراد کو معاشرہ میڈیا کی زرق برق دنیا میں رول ماڈل کی حیثیت سے دیکھ دکھا رہا ہوتا ہے ۔ وہ اچانک مایوسی، ہیجان، اضطراب، ذہنی انتشار واختلال کے ہاتھوں اپنی جان یوں لے لیں۔ کتنا بڑا دھچکہ لگتا ہے چاہنے والوں کو۔ ان کی زندگیوں میں نمون�ۂ عمل تلاش کرنے والوں کو ! زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا، تمہی ’مر‘ گئے داستان کہتے کہتے۔ اندیشہ ہے کہ یہ وبابن کر پھیل نہ جائے۔ کیونکہ جنہیں بڑھا چڑھا کر سنایا، دکھایا ، قابل رشک وتقلید باور کروایا ہے ۔ پھر نوجوان نسل صرف ان کے ہیئر سٹائل ، تراش خراش، لباس، چال ڈھال ہی کی نقالی نہیں کرتی۔ جب اچانک رسی سے لٹکا پائیں گے تو اس کا اتباع کیوں نہ کریں ؟ سو عالمی ادارۂ صحت (WHO)کے مطابق 15-29سال کی عمر میں ٹریفک حادثات کے بعد دوسری سب سے بڑی وجۂ اموات خودکشی ہے ۔ (دہشت گردی نہیں !) یہ تعداد ایک دہائی میں دوگنی ہوگئی ہے ۔ خوشحال، خوش باش ترقی یافتہ ممالک میں ! اقبال کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہوئی:تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی، جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔ سو اب ان کی دنیا ماہرین نفسیات کے رحم وکرم پرہے۔ جوخود بھی نفسیاتی مریضوں سے کم مریض نہیں! بابائے نفسیات فرائڈنے بھی تو اپنے ڈاکٹر سے کہہ کر طے شدہ خودکشی فرمائی تھی۔ خاندانی نظام پارہ پارہ کردیا۔ بچے گھروں میں ماؤں سے محروم، شخصیت میں تنہائی کا گھونٹ گھونٹ زہرپیتے بڑے ہوتے ہیں۔ چہار جانب محبتوں کا حصار جو ماں باپ، ننھیال ددھیال کے محبتوں بھرے رشتوں نے باندھا ہوتا ہے ۔ انسان کو ٹوٹ کر بکھرنے سے بچاتا ہے ۔ اللہ سے دل کی بندھی تار، زندگی میں قوت، حرارت، امید لے کر آتی ہے ۔ نفسیاتی زندگی کے لیے اللہ سے دعا کا رشتہ، اس سے گفتگو کی لذت، ایک
ناقابل شکست قوت رگ وپے میں بھردینے والا عنصر ہے ۔ دعا سے محرومی سے بڑی محرومی کوئی نہیں۔ دعا سے قیمتی ، تیربہدف دوا کوئی دوسری نہیں۔ (دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون، زمین و آسمان کا نور ہے ، ۔ حدیث) دنیائے کفر اتنی بڑی نعمت سے محروم ہے ، رمضان آیا تھا ہمیں (دنیا کی قیادت بذریعہ قرآن) اسباق پختہ کروانے، تربیت دینے کو۔ ہم دنیا بھر کی رہنمائی کے لیے دل کی دنیا آباد کرنے سے لے کر مادی دنیا کو پرسکون، عدل وانصاف پر قائم کرنے کا نسخۂ کیمیا ان تک پہنچا پاتے۔ اخرجت للناس ۔ ہمیں دنیا بھر کے انسانوں کی (اس روشنی کی طرف) رہنمائی کے لیے اٹھایا، منتخب کیا گیا تھا۔ قرآن ۔ھدی للناس ہے ۔ تمام انسانوں کی روح کا خلا پر کرکے بندے کو رب سے جوڑنے کے لیے نازل ہوا تھا۔ اسی کے لیے روزے رکھے تھے۔ اسی کے شکرانے پر عید منائی تھی !لیکن آج کیا فرق رہ گیا کافر اور مسلمان کے روزوشب، طرززندگی میں ؟ ہمارے ہاں بھی خودکشی کے اعدادوشمار ہولناک ہوئے چلے جارہے ہیں۔ یہ نفسیاتی بیماری، دماغی خرابی نہیں۔ تعلیم و تربیت عنقا ہونے اور خالق سے رشتہ کاٹ دینے کی بنا پر ہے ۔ یہاں ہو یا وہاں۔ اسی لیے وہاں بے راہ رو زندگی گزارنے والوں میں خودکشی کاتناسب اور رجحان زیادہ ہے ۔ جوکوئی طاغوت (حدبندگی سے تجاز کرکے اپنا خدا خود بن بیٹھنے یا اپنی خدائی کی طغیانی میں مبتلا) کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سمیع و علیم ہے ، (البقرۃ۔256) ہمارے ہاں بھی سارا معاشرتی انتشار وابتری، قحط الرجال و قحط النساء، اس مضبوط سہارے سے منہ موڑلینے ہی کا ہے ۔ شاید یہ لطیفہ ہی محسوس ہو۔ لیکن خبر یہ آئی تھی کہ
پچھلے دنوں احتساب عدالت میں سوئے ہوئے سکیورٹی اہلکار نے اچانک نیند سے اٹھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگادیا۔ عدالت میں یک بیک سناٹا چھا گیا۔ سانپ سونگھ گیا۔ (ویسے بھی یہ نعرہ نیم بیداری میں ہی لگ سکتا ہے بقائم ہوش وحواس تو اب اذانوں کی تکبیریں بھی ہلکی کردی گئی ہیں) ملکہ برطانیہ کے قانون کی عدالتوں میں تکبیر ؟ خلافت کے پس منظر بھرے اشعار میں اقبال نے کہا تھا۔ ماسوا اللہ کے لیے آگے ہے تکبیر تیری ، تو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تیری ۔ سوئے پڑے اہلکار نے اچانک خشک گرمی میں عدالت میں، تکبیر کا شعلہ دکھا دیا ! آسٹریا میں انہوں نے 7مساجد بند کردیں۔ انہی تکبیروں کے خوف سے۔ ہم ایک چرچ یا مندر پر تالا ڈال دیں تو ورلڈ میڈیا قیامت اٹھا دے۔ عدم برداشت کے طعنے دے دے کر ہمارا جینا حرام کردیں۔ مسلمان اس تضاد پر بولتے کیوں نہیں؟ ایتھوپیا میں مگرمچھ نے ازخود نوٹس لے لیا۔ ایک عیسائی راہب گروہ درگروہ مسلمانوں کو ایک جھیل کنارے کھڑا کرکے بتپسمہ (عیسائی کرنے ) غسل دے رہا تھا کہ مگر مچھ سراپا غیظ وغضب بن کر راہب پر ٹوٹ پڑا اور اسے گھسیٹ کر جھیل میں لے جاکر برابر کردیا۔ ادھر جرمنی میں کیٹرپلر، نامی سنڈی (لمبے باریک بالوں والی) نے بڑے پیمانے پر حملہ کردیا۔ سکول پارک بند ہوگئے۔ اس سے جلدی تکلیف، الرجی، سانس دمے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اب حیوانی مخلوق ان سے ہمارے بدلے چکارہی ہے ۔ ان کے وزیر خارجہ نے دوٹوک اعلان فرمایا تھا کہ اسلام کا ان کے ملک سے کوئی تعلق واسطہ نہیں بنتا۔ جرمنی کی صورت گرعیسائیت ہے وہ مرکل کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں کہ مسلمان مہاجرین پر دروازہ بند ہونا چاہیے۔ اب وہ سنڈی کے ہاتھوں گھر کے دروازے بند کرنے پر مجبور ہیں! سبحان اللہ!


ای پیپر