جابھئی اپنا کام کر۔۔۔
23 جون 2018 2018-06-23

دوستو،شوہر افطار سے پہلے دعا کررہا تھا اور کچن میں کھڑی اس کی بیوی سن رہی تھی، شوہر نے ہاتھ اٹھائے اور اپنے ایک دوست کے لئے دعا کی۔یااللہ میرے دوست کی جلدی سے شادی کروا دے۔بیوی نے آواز دی کہ، افطار کا وقت قبولیت کا ہوتا ہے۔اپنے الفاظ، اپنی دعا دھیان سے اداکریں۔شوہر نے کچھ سوچا اور دوبارہ ہاتھ دعا کے لئے اٹھادیئے۔یاللہ ، میرے دوست کو ایک خوبصورت، نیک بیوی عطا فرما۔بیگم کچن سے بھاگتے ہوئے آئی اور غصے سے بولی، مجھے معلوم ہے اس دعا کا مقصد کیا ہے۔ شوہر نے حیران ہوکر پوچھا، ایسی دعا کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟؟۔ بیوی نے کہا ، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں پاگل ہوں، آپ کو کیا لگتا ہے۔ میں نے وہ حدیث نہیں سنی کہ ،جب کوئی مسلمان بھائی کے لیے دعا مانگتا ہے تو، اس کے پیچھے اللہ ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے، جو ساتھ دعا کرتا ہے اور کہتا ہے،اے اللہ، اسے بھی یہی چیز عطا فرما۔لوجی کرلیں اب دعا اب بیویوں کے سامنے۔ ارے شوہروں آپ کو صرف یہ کہنا تھا، جابھئی اپنا کام کر ۔

ایک بچہ اپنے والد محترم سے پوچھنے لگا۔ابوکل وزیرداخلہ نے ٹی وی پر کہا۔اسلام آباد پاکستان کا خطرناک ترین شہر ہے۔آج وہ کہہ رہے ہیں کہ، اسلام آباد پاکستان کا محفوظ ترین شہر ہے۔ابوجی ،وزیرداخلہ کے دونوں بیان اتنے مخالف کیوں ہیں؟۔والدمحترم بچے کو سمجھانے لگے۔ بیٹا،پہلا بیان عوام کے لئے اور دوسرا انہوں نے اپنے جیسے سیاست دانوں کے لئے دعا ہے۔لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی فرماتے ہیں۔سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے جو شخص غصے یا گالی کو کنٹرول کرلے ،وہ ولی ہے ،یا پھر خود ان حالات کا ذمہ دار۔ہمارا کالم چونکہ غیرسیاسی ہوتا ہے،اس لئے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سیاست کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کریں، ورنہ آپ لوگ ہمیں کہیں گے کہ، جابھئی اپنا کام کر ۔

ڈاکٹر خالد الجبار سعودی عرب کے دل کے امراض کے مشہور عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ہی نہیں ایک مبلغ، خطیب اور عالم دین بھی ہیں۔ ایک بار ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا، ڈاکٹر صاحب، میں نے اپنی زندگی سے ہر وہ علت اور عادت ترک کر دی جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتی، مگر ایک سگریٹ سے چھٹکارا نہیں پا سکا۔ کوئی حل ہے تو بتا دیں۔ڈاکٹر صاحب نے پوچھا، کیا واقعی سگریٹ نوشی سے توبہ کرنا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے کہا، جی حضرت، اللہ گواہ ہے، ہر حربہ آزما چکا ہوں، مگر کامیاب نہیں ہو پایا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا ،بہت آسان سا حل بتاتا ہوں تمہیں۔ ہر بار سگریٹ پی چکنے کے بعد تم اگر حالت وضو میں ہو پھر بھی جا کر نیا وضو کرنا اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز پڑھ لیا کرنا۔کچھ ہی عرصے کے یہ یہی شخص ہنستا ہوا ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ہنسنے کا سبب پوچھا۔ کہنے لگا، ڈاکٹر صاحب، اس کے باوجود کہ میں روزانہ تیس سے زیادہ سگریٹ پینے کا عادی تھا، مگر پہلے دن جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈال کر ڈبیا نکالنے کا ارادہ کرتا، شیطان دل میں وسوسے ڈالتا کیا سگریٹ پینے کی جلدی ہے، پھر اْٹھ کر نئے سرے سے وضو کرو گے اور پھر دو رکعت نماز پڑھو گے۔ اور اس طرح کرتے کرتے، میں نے پہلے دن تیس کی بجائے پانچ سگریٹ پیئے، دوسرے دن صرف تین سگریٹ پیئے اور ابھی پورا ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے سگریٹ پینے کی عادت سے ہی ہمیشہ کیلئے جان چھڑا لی تھی۔یہ تھا سگریٹ سے جان سے چھڑانے کا آسان فارمولہ۔اب جو لوگ اس پر عمل نہیں کرسکیں گے،لوگ انہیں یہ فارمولہ بتانے کی کوشش کرینگے تو وہ آگے سے شرمندہ سے لہجے میں کہیں گے، جا بھئی اپنا کام کر ۔

ڈاکٹر کی بات ہورہی تھی تو ایک اور واقعہ بھی سن لیں۔مریض کے لواحقین ڈاکٹر سے، خوراک کیا دیں؟۔نرم غذا دیں۔کون سی؟؟۔دلیا،کھچڑی،ڈبل روٹی،بسکٹ، پھل، جوس وغیرہ۔ پھل کون سا ڈاکٹر صاحب؟؟۔ سارے پھل۔کیلا دے دیں؟؟۔ ہاں دے دیں۔یہ تو بلغم بناتا ہے شاید؟۔اچھا،پھر نہ دیں۔ نہیں ڈاکٹر صاحب،اگر ضروری ہے تو دے دیتے ہیں،اچھایہ بتائیں کیلا کھانے سے پہلے دیں یا بعد میں دیں ؟؟۔اوبھائی ابھی مریض کو کھانا نہیں دینا۔تومریض کیا کھائے،خوراک کا بتا دیں؟؟۔نرم غذا،دلیا،کھچڑی، پھل،ڈبل روٹی، جوس، پھل وغیرہ۔ گوشت کون سا دیں؟؟۔ابھی گوشت نہیں دینا ۔چھوٹا بڑا کوئی بھی نہیں دینا ؟ ۔۔۔نہیں مرغی بھی نہ دیں ۔اور مچھلی؟؟۔۔۔ نہیں۔۔۔چوزہ تو دے دیں؟؟۔ نہیں بھائی، ابھی کوئی پکی ہوئی چیز نہیں دینی۔دودھ تو دے سکتے ہیں ناں؟ ۔ہاں دودھ دے دیں۔۔۔ کون سا دودھ، کچا یا کاڑھ کے؟؟۔۔۔کاڑھ کے۔ ٹھنڈا یا گرم؟؟۔ کوسا دے دیں۔ کتنا کوسا؟؟۔ ہلکا کوسا۔اتنی دیر میں مریض کا ایک اور قریبی رشتہ دار گفت و شنید میں شامل ہوجاتا ہے، سوالات کرنے والے کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے خاموش ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔ چھڈ۔ تینکوں تا سمجھ ہی نئی آندی۔میکوں پچھن ڈے۔ہیں سائیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔ خوراک کیا ڈیووں۔؟؟؟ لازمی سی بات ہے اس پر ڈاکٹر نے یہی کہا ہوگا۔ جابھئی اپنا کام کر ۔

ایک خاتون خانہ نے اپنے شوہر کو پہلی مرتبہ ای میل کی، جلدی میں ’’فل اسٹاپ‘‘ لگانا بھول گئی،ای میل بھیجنے سے پہلے اسے یاد آیا تو جلدی جلدی میں جہاں،جہاں’’کرسر‘‘ رک جاتا، خاتون خانہ نے وہاں فل اسٹاپ لگادیئے۔پھر شوہر کو جو ای میل بھیجی وہ کچھ یوں تھی۔السلام علیکم،عرض یہ ہے کہ میں نہایت خوش گوار زندگی گزار رہی ہوں آپ کی۔ بہت یاد آتی ہے انور کی۔ شادی ہے ہماری بکری کی۔ ٹانگ ٹوٹ گئی ہے پھوپھو کی۔ دعا قبول کریں چوری کی واردات بھی ہوئی ہے ہمارے گھر۔ میرا دیور پکڑا گیا ہے محلے کی ایک لڑکی کے ساتھ۔ نانی لاہور آئی تھیں بغیر بتائے۔ بھائی بھی کراچی چلے گئے انڈے دے کر ۔ ہماری مرغی کڑک ہو گئی ہے سلیمان میاں سے مل کر ۔ پتا چلا ہے کہ آنٹی زہرہ ٹھیک ہو گئی ہیں غلطی سے۔ ایک لڑکا دیکھا ہے میں نے آپ کی ممانی کے لئے۔ نیا فراک سلوا لیا ہے دادا ابو کے لئے۔ پشاوری چپل لائی ہوں چھوٹی نند کے لئے۔ کچھ بھی نہ لا سکی کبوتروں کے لئے۔ ایک الگ پنجرہ بنایا ہے اپنی ساس کا۔ روز سر دباتی ہوں دودھ والے کا۔ بل ادا کر دیا ہے آپ کا۔ انتظار کرتی ہوں شہباز کا۔ رشتہ طے ہو گیا ہے بلی کے بچے کا۔ حادثے میں انتقال ہو گیا خالو کا۔ بیٹا بری سوسائٹی میں پڑ گیا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔ آپ کی چہیتی۔۔۔ظاہر ہے اس ای میل کا جواب شوہر نے یہی دیا ہوگا، جابھئی اپنا کام کر ۔۔۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، ایک خاتون ہمارے پاس آئیں،کہنے لگیں، میں ایک اسکول ٹیچر ہوں،میری ایک ڈاکٹر سے شادی طے ہوئی ہے، آج ان کا پہلا آیا ہے، کیا آپ پڑھ کر سنادیں گے کہ کیا لکھا ہے انہوں نے۔؟ ہم نے خط دیکھا، اور محترمہ کو مشورہ دیا، بی بی، آپ کسی میڈیکل اسٹور والے سے رابطہ کرے ،ایسی لکھائی صرف وہی پڑھ سکتا ہے۔ایک نوجوان نے بزرگ سے پوچھا،جب دنیا فانی ہے تو پھر لوگ کیوں اس کے پیچھے بھاگتے ہیں؟؟ پیسہ دنیا میں ہی رہ جائے گا تو پھر لوگ اس کے پیچھے زندگی کیوں لٹادیتے ہیں؟؟فانی چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے دوستوں کو دشمن کیوں سمجھتے ہیں؟؟بزرگ نے مسکراتے ہوئے زمین سے کانٹا اٹھایا اور نوجوان کے تینوں سوالوں کا جواب ایک خوبصورت جملے میں دیا۔انہوں نے کانٹا اٹھایا اور منہ کے قریب لا کے دانتوں میں پھنسی ہوئی چھالیہ نکالی اور کہا،’’ جا بھئی اپنا کام کر ۔‘‘


ای پیپر