ایلیکٹ ایبلز اور پاور سٹرکچر
23 جون 2018 2018-06-23

اچھا ایلیکٹ ایبلز کے لغوی معنی بھی یہی ہیں۔ یعنی ایسے انتخابی امیدوار جو خود سے منتخب ہونے کے قابل ہیں یا منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے متعلق عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی برادری ، اپنے قبیلے ، اپنی ذات پات ، مقامی سیاسی جوڑ توڑ ، مقابلہ بازی ، خاندانی و مالی و زمینی اثر و رسوخ اور حسد و رشک اور ذاتی مقبولیت کی بنا پر اس قابل ہوتے ہیں کہ انتخابات میں میدان مار سکیں۔ لیکن ایلیکٹ ایبلز کے متعلق یہ تصور یا متھ درست نہیں۔ کیونکہ اگر یہ ایلیکٹ ایبلز اتنے ہی پاپولر ہوں کہ تن تنہا الیکشن جیت سکیں۔ تو پھر انہیں انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیاں جوائن کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن دیکھا گیا ہے۔ بہت کم ایلیکٹ ایبلز آزادانہ انتخاب لڑتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے۔ ایلیکٹ ایبلز کو یقین نہیں ہوتا وہ اکیلے اتنے ووٹ لے سکتے ہیں جو ان کی جیت کے لیے کافی ہوں۔ آخر میں پندرہ بیس ہزار کا فرق رہ جاتا ہے۔ اس فرق کو دور کرنے کے لیے یہ ایلیکٹ ایبلز اپنے تئیں یا زیر ہدایت کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اور یوں اپنے ذاتی ووٹ اور پارٹی کے ووٹ مل کر ان کی پوزیشن بظاہر مضبوط کر دیتے ہیں۔اس مضبوطی یا کامیابی میں انتظامیہ بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ اور سہولت کار بنتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے۔ ایک سیاسی پارٹی ان فصلی بٹیروں کو کیونکر اپنی پارٹی میں شامل کرتی ہے۔ تو اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ کہ وہ سیاسی پارٹی یہ سمجھتی ہے۔ کہ چند مخصوص علاقوں اور حلقوں میں اس کی سیاسی پوزیشن یا سیاسی مقبولیت اتنی زیادہ نہیں کہ وہ اپنے پارٹی امیدواروں کو جتوا سکے۔ یہ بھی ممکن ہے۔ ان مخصوص علاقوں میں اس سیاسی پارٹی کی معاشرتی جڑیں اتنی گہری نہ ہوں۔ سیاسی تنظیم کمزور ہو۔ الیکشن ڈے پر وہ ووٹرز کو موبیلائز نہ کر سکے۔ اتنے سیاسی ورکرز ہی نہ ہوں۔ کہ پولنگ ایجنٹس مقرر کر سکے۔ چناچہ ان تمام بکھیڑوں اور کمزوریوں سے بچنے کی خاطر یہ سیاسی پارٹی ایلیکٹ ایبلز کو لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ تاکہ کسی بھی طریقے سے اقتدار حاصل کر سکے۔ یوں الیکٹ ایبلز اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کا سہارا بن جاتے ہیں۔ اسی لیے اسے ایلیکٹ ایبلز اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان marriage of convenience بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن سہولت کی اس شادی میں دونوں فریق نہ صرف اپنی انفرادی شکست کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے اپنے داو اور مفاد کی گیم بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وقت آنے پر ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا بھی گھونپ دیتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں 1970ء کے الیکشن بہت منفرد تھے۔ نہ صرف یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے۔ بلکہ انتہائی غیر جانبدار اور صاف شفاف تھے۔ ان انتخابات میں ایلیکٹ ایبلز کو شکست فاش ہوئی۔ بھٹو اور مجیب الرحمن نے یہ انتخابات نظریے کی بنیاد پر لڑے۔ جبکہ اسلامی جماعتوں نے اسلام کو اپنا انتخابی نعرہ بنایا۔ اور سیاسی نظریے کے سامنے اسلامی نظریہ ھار گیا۔ اور ایلیکٹ ایبلز بھی ہار گئے۔ وہ ایلیکٹ ایبلز جو 1920ء سے جیتتے چلے آ رہے تھے۔ جب پنجاب کے تمام جاگیردارں اور زمینداروں نے مل کر یونینسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اور سیاسی طور پر اپنے مفادات کا تحفظ شروع کیا۔ 1937ء کے الیکشن میں یونینسٹ پارٹی نے 95 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ مسلم لیگ صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ 1946ء کے الیکشن سے قبل یہ جاگیردار ایلیکٹ ایبلز مسلم لیگ میں شامل ہو گئے کیونکہ پاکستان بننے کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ چناچہ اس الیکشن میں مسلم لیگ 73 جبکہ یونینسٹ پارٹی 20 سیٹوں پر کامیاب ہوء۔ 1959ء میں جنرل ایوب نے ایبڈو کے قانون کے تحت 6078سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو نااھل کر دیا۔ لیکن جنوری 1965ء کے صدارتی انتخابات میں بی ڈی ممبرز کی شکل میں 82 ہزار ایلیکٹ ایبلز کی کھیپ تیار کر لی۔ ان 82 ہزار ممبران میں سے جنرل ایوب پنجاب کے دیہی علاقوں میں دھاندلی کرکے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن جیت گئے۔ جنرل ایوب نے 49951 اور فاطمہ جناح نے 28691 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ شہری علاقوں اور کراچی اور ڈھاکہ میں ایوب کو شکست ہوئی۔

غالباً انہی دیہی ایلیکٹ ایبلز کے جیتنے کی امید میں 1970ء کے فری اور فیئر الیکشن کروائے گئے۔ جن میں شکست فاش کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ کہ اب آئیندہ کبھی صاف شفاف انتخابات نہیں کروانے۔ بھٹو صاحب نے یہ غلطی کی۔ 1970ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد واپس ایلیکٹ ایبلز کی طرف چلے گئے۔ جس کا نتیجہ 1977ء اور 1979ء میں سامنے آیا۔ جب پیپلز پارٹی پر جاگیردار قبضہ کر چکے تھے۔ بھٹو صاحب کو پھانسی ہو گئی اور ان کے کارکن بلکتے رہ گئے اور پارٹی آرام کرتی رہی۔

یہ 1970 کے انتخابات کا نتیجہ ہی تھا۔ کہ جنرل ضیاء الحق نے 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرواے اور ایک پالیسی کے طور پر ایلیکٹ ایبلز کو پاکستانی سیاست میں دوبارہ سے داخل کروایا گیا۔ پاکستان کے پاور سٹرکچر میں خاکی و سول بیوروکریسی ، عدلیہ ، مولوی ، انتہا پسند نان اسٹیٹ ایکٹرز ، میڈیا ، پٹھو سیاستدان اور یہ ایلیکٹ ایبلز باہم مل کر اقتدار پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ جو سیاستدان ان کے کنٹرول اور اقتدار کو چیلنج کرتا ہے۔ پاور سٹرکچر کے یہ عناصر مل کر اس کو عبرت کی مثال بنا دیتے ہیں۔ یہ پاور سٹرکچر کبھی مارشل لاء ، کبھی صدارتی نظام ، کبھی بنیادی جمہوریت ، کبھی پاور شیئرنگ ، کبھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی ، کبھی 58ٹوبی اور کبھی غیر جماعتی جمہوریت کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم رکھتا ہے۔ اور کبھی ایلیکٹ ایبلز کی ادھر ادھر ترسیل اور مراجعت سے مزاحمتی سیاستدانوں کا راستہ روکتا ہے۔ بھٹو مرحوم نے متفقہ آئین کے ذریعے پارلیمانی نظام کے تحت اس پاور سٹرکچر کو چیلنج کیا۔ انہیں پھانسی لگا دی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ اور ایلیکٹ ایبلز کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت کے ذریعے ایک بار پھر اس پاور سٹرکچر کو چیلنج کیا اور اٹھارہویں ترمیم لانے میں کامیاب ہوے۔ لیکن بے نظیر بھٹو زندگی کی بازی ہار گئیں اور نواز شریف تا حیات نااہل ہو گئے۔ یہ پاور سٹرکچر آج بھی قائم ہے۔ اور ایلیکٹ ایبلز ، عدلیہ ، میڈیا اور مولوی کے ذریعے سیاست کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اب یہ ایلیکٹ ایبلز تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ وہ تحریک انصاف جو تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے۔ اور وہ ایلیکٹ ایبلز جو تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی مزاحمت ہیں۔

آخری بات۔ 1970ء کا الیکشن بھٹو نے سیاسی نظریے کی بنیاد یعنی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر جیتا تھا اور ایلیکٹ ایبلز ہار گئے تھے۔ 2018ء کا الیکشن نواز شریف ایک بار پھر ایک سیاسی نظریے یعنی ووٹ کو عزت دو اور اپنے ترقیاتی کاموں کے نعرے پر لڑ رہے ہیں۔ اور پاکستان کا سارا پاور سٹرکچر ، خاکی و سول بیوروکریسی ، عدلیہ ، میڈیا ، مولوی اور ایلیکٹ ایبلز ان کے خلاف کھڑے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے۔ یہ پاور سٹرکچر نواز شریف کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ یہ پاور سٹرکچر عمران خان کے ساتھ آج یا کل کیا کرتا ہے۔ اور یا پھر پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اس پاور سٹرکچر کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ دلچسپ صورت حال یہ ہے۔ تحریک انصاف خود کہتی ہے۔ وہ 2013ء کا الیکشن اس لیے ہار گئے تھے کہ نظریاتی سیاست کر رہے تھے۔ چناچہ اب ایلیکٹ ایبلز پر انحصار کر رہے ہیں۔ جبکہ ن لیگ نظریے کی سیاست پر کھڑی ہے۔


ای پیپر