آ گہی کا سورج طلوع ہو چکا!
23 جون 2018 2018-06-23

شاید، پہلی بارآگہی کا سورج طلوع ہو رہا ہے کہ وطن عزیز کے لوگ اپنے حقوق کے حصول کے لیے آمادہ و تیار نظر آتے ہیں لہٰذا وہ جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں باقاعدہ احتجاج کرتے ہیں اور دھرنا دیتے ہیں۔۔۔!

اس میں وہ حق بجانب ہیں کیونکہ اب تک کی ملکی سیاسی اور انتظامی صور ت حال کے تناظر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں ہمیشہ لولی پاپ پر ٹرخایا گیا ہے ان کی زندگیوں میں لطافتیں، آسائشیں اور سہولتیں خال خال ہی دکھائی دیتی ہیں جبکہ ان کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے صحنوں میں چاند اُترا ہوا ہے چاندنی ہر سمت بکھری پڑی ہے اور وہ قہقہوں کی ندیا کنارے بیٹھے اونگھ رہے ہیں لہٰذا اب اگر وہ شورمچاتے ہیں اور جذباتی ہوتے ہیں تو انہیں غلط نہیں کہا جا سکتا اور یہ جذباتی منظر جس کے پیچھے طویل شعوری ارتقاء ہے اگر مزید ان پر فہم کے در وا کرتا ہے تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ ایک نیا پاکستان تعمیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں۔۔۔ پھر عوام با اختیار ہوں گے جو اپنے فیصلے خود کریں گے شاید اسی لیے روایتی اہل اختیار ان کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اپنا مستقبل محفوظ و روشن بنانے کے راستے پر گامزن ہیں مگر لگتا ہے کہ یہ حکمت عملی اور پالیسیاں اب کار آمد نہیں رہیں گے کیونکہ عوام کو معلوم ہے کہ انہیں اب بھی بیوقوف بنایا جا رہا ہے ۔۔۔تاکہ اقتدار و اختیار ایک ہی طبقے، طبقہ اشرافیہ کے پاس رہیں اور وہ ستر اکہتر برس سے اپنے انداز زیست کو قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔۔۔ مگر جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ شعور و آگہی کا سورج طلوع ہو رہا ہے جواب اس سیاسی، سماجی اور معاشی منظر کو تبدیل کر سکتا ہے ذرا دیکھیے! کبھی لوگ اپنے امیدواروں کے حق میں کسی قیادت کی دہلیز پر آ کر بیٹھے تھے۔۔۔ کسی کو جرأت نہیں تھی۔۔۔ کارکنان خاموشی سے اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے اور کہتے کہ جو فیصلہ ان کے لیڈر نے کر دیا ہے درست ہے مگر اب

ایسا نہیں ہے دل و دماغ کی سنی جا رہی ہے حقائق کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔۔۔ !

دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر ان ہی لوگوں کو مقام حاصل ہو رہا ہے جو اقتدار و اختیار کے شہر سے تعلق رکھتے ہیں ان کے مفادات ایک ہیں ان کے کاروبار بھی ایک ہیں تجارت بھی ایک جیسی ہے ایک ہی طرح کا ان کا سوچنا ہے۔۔۔ لہٰذا وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جاگے ہوئے محکوم ذہن ان سے دور رہیں ان کے پاس کوئی اختیار نہ ہو مگر یہ ان کی خواہش ہے جسے اب پورا نہیں ہونا۔۔۔ کیونکہ جب سوئے ہوئے بیدار ہو جائیں تو انہیں سلانامشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔۔۔ لہٰذا عوامی قرب سے متنفر اہل زر اپنے رویے اور اپنی فکر کو بدلیں۔۔۔ان لوگوں کی اولادیں ان سے کسی طور بھی اعلیٰ ذہن نہیں رکھتیں انہیں صرف مواقع میسر ہیں مگر ان کو یہ دستیاب نہیں جو ایک منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔۔۔ آج ان لوگوں کا (اشرافیہ) باطن ظاہر ہو چکا ہے ان کی عوام دشمنی آشکار ہو گئی ہے کہ اکہتر برس تک ان سے جھوٹ بول کر اپنے مقاصد پورے کرتے رہے۔۔۔ اور وہ (عوام) ان سے امیدوفا رکھتے ہوئے ان کے ہم سفر رہے۔۔۔ مگر طویل عرصے کے بعد وہ امن چین اور سکون سے محروم رہے۔۔۔ انہیں انصاف، تعلیم اور صحت نہ مہیا کیے جا سکے۔

بہرحال عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے وہ احتجاج کر رہے ہیں اس کے مناظر بنی گالہ سمیت لاہور ، پشاور، کراچی، کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں میں دیکھے گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق حکمران جماعت میں بھی سیاسی بھونچال آ گیا ہے۔۔۔ جناب چوہدری نثار اور زعیم قادری تو پھٹ پڑے ہیں اب انہیں جو کچھ بھی کہا جائے۔۔۔ اس پر یقین کم ہی کیا جائے گا کیونکہ ان کا مؤقف واضح ہے اور اس میں وزن ہے کہ ایک خاندان کیوں سیاہ و سفید کا مالک بنے۔۔۔؟

یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسا ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہوا ہے بالخصوص برقی ابلاغ کہ جس نے ہر کسی کا پول کھول دیا ہے۔۔۔ مگر سوشل میڈیا نے تو اخیر کر دی ہے۔۔۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو کئی مصلحتوں کا سامنا ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا کسی پابندی یا مصلحت کا شکار نہیں اور وہ اس وقت سب سے مؤثر ترین ذریعہ اظہار و ابلاغ بن چکا ہے۔۔۔ لہٰذا اہل دماغ و زر چاہے کتنا ہی کیوں نہ عوام کو ’’پمبل بھوسے‘‘ میں ڈالنے کی پالیسیاں وضع کریں سب ناکام ہوں گی۔۔۔ ان کی اداکاریاں بھی کسی کام نہیں آئیں گے۔۔۔ عمران خان بھی تبدیلی کے نام پر جو کھیل کھیل رہے ہیں انہیں اس پر پچھتانا پڑے گا۔۔۔ بلکہ پچھتا رہے ہوں گے کہ سکندر بوسن کو ٹکٹ دے کر انہوں نے گویا شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔۔۔ کیا ملک احمد حسین ڈیہٹر موزوں امیدوار نہ تھے یقیناًتھے اور ہیں مگر علاقائی سیاست نے میرٹ کو یکسر نظر انداز کر کے ایک نووارد کو میدان میں اتار دیا۔۔۔ جس پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔۔۔ عین ممکن ہے عمران خان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑے کرنی بھی چاہیے انہیں شاید علم نہیں ہوگا کہ ان سے غلط فیصلے دانستہ کروائے جا رہے ہیں ان کے گرد جو حرص و ہوس کے چند

بڑے جمع ہیں ان کا مطمع نظر عوام کی خدمت نہیں مال اکٹھا کرنا اور پہلے سے اکٹھا کیا گیا بچاتا ہے لہٰذا وہ ان سے ہوشیار رہیں ان کے علم میں نہیں ہو گا شاید کہ اگر انہوں نے جیتنا ہے تو اپنی افادیت و اہمیت کی بنا پر ۔۔۔ یہ جو لگڑ بگڑ اپنے پروں میں لے لیے ہیں عوام کی غالب اکثریت ان سے نالاں ہے۔۔۔ قریباً ہر حلقے میں ان کی جماعت کو سخت مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اسی طرح دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔۔۔ یعنی ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہر طرف جاری ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہونے جا رہا ہے کون سی جماعت کتنی نشستیں حاصل کر پائے گی کیونکہ عوام کو یہ بات بھی پریشان کر رہی ہے کہ وہ بار باران امیدواروں کو کیوں منتخب کریں جو ان کے لیے کچھ نہیں کر سکے اور اگر کیا بھی تو بہت کم۔۔۔ پھر لینڈ مافیا سینہ زوروں کے پشتی بانوں کو کس برتے میں ووٹ دے۔۔۔ اس طرح کی سوچ تیزی سے پھیل رہی ہے۔۔۔ کچھ تو یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان انتخابات کا کیا فائدہ کہ اس میں رہزنوں کے سرپرست ، کمیشن خوروں کے محافظ اور قبضہ گیروں کو آشیر باد دینے والے دوبارہ ایوانوں میں پہنچ جائیں گے جو لوٹ مار میں مصروف ہو کر قومی خزانہ ہڑپ کر جائیں گے اور ان کے بچوں اور ان پر دو لاکھ کا قرض چڑھ جائے گا لہٰذا یہ نگران حکومتیں اگر انہیں آئین اجازت دیتا ہے تو کوئی بہتری لانے کی کوشش کریں۔۔۔ یا پھر احتساب کو اولین ترجیح دی جائے جو اس چھلنی سے گزر جائے۔۔۔ اسے آگے آنے کا موقع فراہم کیا جائے۔۔۔ ؟ حرف آخر یہ کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو یقینی طور سے تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔ اب سیاسی بہروپیوں کو بآسانی پہچانا جا سکتا ہے مگر عوام کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے اور سنجیدگی کا مظاہرہ لازمی ہے وگرنہ اہل زر و اختیار جیت جائیں گے اور وہ ہار جائیں گے۔۔۔ جس کے نتیجے میں غلامی کی طرز پر ایک نظام تشکیل پا سکتا ہے جو ظاہر ہے انتہائی اذیت ناک ہو گا لہٰذا ہوش سے کام لینا ہو گا۔


ای پیپر