2018ء کے الیکشن،سیاسی جماعتیں اور امیدوار
23 جون 2018 2018-06-23

لیجئے 2018کے عام انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے یعنی اس الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں نے اپنے انپے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئے ہیں۔کیونکہ ابھی تک جنرل ضیا الحق کی نافذ کردہ شق 62/63 آئین میں موجود ہے اس لئے ریٹرنگ آفیسر بھی اس شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیدواروں کو بعض جگہ ’صادق اور امین‘ کی چھاننی سے گذار رہے ہیں اور لطف بھی اٹھا رہے ہیں۔(ایک غیر ملکی بنک کا sloganہے صادق اور امین)۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

یہ بات واضع ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ٹکٹ دیتے ہوئے سب طلب گاروں کو مطمئن نہیں کر سکتی لہذا بعض لوگوں کا احتجاج سمجھ میں آتا ہے۔لیکن یہ سب کچھ کیوں ہے اس کی بنیادی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر مکمل جمہوریت اور کوئی مناسب تنظیم نہیں ہے ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ افسوس ناک صورت حال کیوں ہے۔میری نظر میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بار بار کے مارشل لاؤں نے سیاسی جماعتوں کو پوری آزادی سے کام نہیں کرنے دیا۔یعنی پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا۔

اگر آپ میں یہ تلخ حقیقت جاننے کا حوصلہ ہے تو عرض یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ بھی کوئی عوامی سیاسی

جماعت نہیں تھی۔اس میں اس سطح کی تنظیم نہیں تھی جو کہ ایک ایسی جماعت میں ہونی چاہے جو کہ آزادی کے لئے جدو جہد کر رہی ہو۔یعنی اس جماعت میں خواص تو بہت تھے مگر اس کی محلہ وار تنظیمیں نہیں تھیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ میری نظر میں یہ ہے کہ انگریز کے زمانے میں ہر ہندوستانی کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔محدود حق رائی دہی تھا۔limited franchise کا نظام تھا جس میں آپ کی جائداد اور تعلیم کا تعلق تھا لیکن سارے فوجیوں کو یعنی سپاہیوں سے لیکر جرنیل تک کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔

لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان یہ نعرے تو تھے مگر اس کے ساتھ کوئی عوام کی بہبود اور خوشحالی کے لئے ٹھوس پرواگرام نہیں تھا۔تاہم دانیال لطیفی کا ترقی پسند پروگرام بطور منشور اپنا لیا گیا تھا۔ 1956 ء تک پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کوئی دستور نہ بنا سکی ،پہلے نوکر شاہی نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور پھر فوج آگئی۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان سے لے کر ہر فوجی سربراہ نے کسی نہ کسی طرح پاکستان میں سیاسی نظام کو اپنے طابع رکھنے کی کوشش کی۔ایوب،جنرل یحیےٰ، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف نے تو سویلین حکومتوں کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا لگا دیا۔ان فوجی حکومتوں کا سب سے زیادہ نقصان اجتماعی طور پر قوم کو ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سیاسی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جہاں لوگوں کی رائے اور ان کے نمائندے فیصلے کرتے ہیں ان کی جگہ شخصی حکومت آجاتی ہے جو کہ کسی کو جواب دہ نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی سویلین نے کسی بھی حوالے سے ’خلائی مخلوق‘ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی یا ان کے ناپاک عزائم میں مداخلت کی یا مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو اس کا دردناک اور عبرت ناک انجام ہوا۔

مجھے ذاتی طور پر سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے زبردست اور اصولی اختلاف ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنی

تنظیم سازی کرنی چاہئے۔محلہ وار کمیٹیاں بنانی چاہیں،ان کی دفتر ہونے چاہیں اور پارٹی کے ہر سطح پر الیکشن ہونے چاہیں۔نچلی سطح سے تجاویز جانی چاہئیں۔الیکشن میں امیدوار چننے کے لئے بھی نچلی سطح سے رائے اوپر جانی چاہئے اور ورکرز کو ٹکٹ ملنے چاہئیں بلکہ ایسے لوگوں کو ٹکٹ ملنے چاہیں جو مالی طور پر الیکشن لڑنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں مگر جن کی نظریاتی ، پختگی اور سیاست سے وفاداری پر کوئی شک نہ کیا جا سکتا ہو۔ان لوگوں کو پارٹی کو فنڈ فراہم کرنے چاہیں۔مگر بدقستی سے پاکستان ایک نہائیت دلچسپ ملک ہے جہاں پر چند سالوں کے بعد جمہوری عمل کو براہ راست یا بلا واسطہ تہس نہس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جہاں پر نظر نہ آنے والی خلائی مخلوق سیاست دانوں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر ironyیہ ہے کہ یہی ان کے چہیتے وقت آنے پر انہیں ہی آنکھیں دکھانے لگتے ہیں۔یہ فطرت کا قانون ہے اگر کسی میں تھوڑا سا بھی سیاسی شعور ہوگا تو وہ غیر جمہوری طاقتوں کو چیلیج ضرورکرے گا خواہ وہ بھٹو، محمد خان جونیجو ہو یا میاں محمد نواز شریف ہو۔

ابھی الیکشن میں کافی دن باقی ہیں۔ابھی بہت سارے مرحلے باقی ہیں۔خلائی مخلوق نے اپنا ہوم ورق کر لیا ہے مگر جب ان کو نظر آتا ہے کہ ان کے تمام داؤ پیچ کے باوجود نون لیگ جیت جائے گی تو ہو سکتا ہے کہ وہ بساط کو ہی لپیٹ دیں۔ آخر میں میں یہ عرض کروں گا کہ جو جنرل پرویز مشرف نے اپنا لبرل امیج بنانے کے لئے عورتوں کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا اعلان کیا تھا تو اس وقت بھی پختہ سیاسی سوچ رکھنے والوں بشمول عورتوں نے بھی اس کے منفی اثرات کی نشاندہی کی تھی۔ اب ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ عورتوں کی مخصوص نشتوں پر رشتہ داروں اور اشرافیہ نے قبضہ کرلیا ہے۔

میاں نواز شریف کو نہ صرف اس الیکشن پر نظر رکھنی ہو گی بلکہ اس کو مستقبل میں ایک مضبوط سیاسی کلچر قائم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔لوگوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا اور ایک مضبوط عوامی تنظیم (سیاسی جماعت) کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ گو امیدواروں کے اثاثوں کو دیکھ کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ امرا کی جمہوریت ہے مگر موجودہ تناظر میں یہ بھی غنیمت ہے جمہوریت ہو گی تو سماجی جمہوریت بھی آئے گی۔

معذرت۔معذرت اور دلی معذرت

سب سے پہلے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایڈیٹر نئی بات ،بھائی عطا الرحمان، نئی بات کی انتظامیہ اور اس کے قارین سے دلی معذرت کرنی ہے کہ میں نے کلدیپ نائر کی وفات کے بارے میں بغیر تحقیق کے کالم لکھ دیا جو کہ نئی بات کی انتظامیہ نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوے 13جون 2018کے شمارے میں چھاپ دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ میری جلد بازی کی وجہ سے یہ کام ہوا۔جس کے لئے میں دلی معذرت پیش کرتا ہوں اور اپنی کوتاہی کو تسلیم کرتا ہوں۔

اب اس کا تھوڑا سا پس منظر بیان کرنا چاہوں گا۔حسب معمول 12جون کی صبح کو facebook کھولا تو اس پر ’ہم سب ‘ کی طرف سے کلدیپ نائر کے انتقال کی خبر لگی ہوئی تھی اور کئی لوگوں کے تعزیت کے بیانات بھی تھے۔میں نے اپنے دوست ایڈیٹر ’ہم سب‘ جناب وجاہت مسعود سے رابطہ کیا اور ان سے کلدیپ نائر کی وفات پر تعزیت کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں نے کلدیپ نائر سے دو انٹرویو کئے تھے جو میری کتاب Vioces of Peaceمیں چھپے۔انہوں نے کہا کہ مجھے فوراً یہ بھیجو۔اس کے ساتھ میں بھی جذباتی ہو گیا اور کلدیپ نائر کی وفات پر اسی وقت کالم لکھ کر ایڈیٹر ’نئی بات‘ کو بھیج دیا جنہوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے وہ کالم 13جون کو نئی بات میں چھاپ دیا۔اس طرح میں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔جس پر میں شرمندہ ہوں۔میں کلدیپ نائر کی درازی عمر کے لئے دعا گو ہوں وہ برصغیر میں سب سے سینئر صحافی اور امن کے پرچارک ہیں۔ (زمان خاں)


ای پیپر