بھارتی جوہری سائنسدانوں کی غیر فطری ا موات
23 جون 2018 2018-06-23

بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ اور ’’دکن ہیرالڈ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جوہری توانائی کے شعبہ کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ2009ء سے2013ء کے درمیان گیارہ جوہری سائنسدان غیر حقیقی موت کا شکار ہوئے۔محکمے کے تحقیقی مراکز میں کام کرنے والے آٹھ انجینئرز اورسائنسدان دھماکوں، پھندوں سے یا سمندر میں ڈوب کر مر گئے۔
21ستمبر کو ہریانہ کے تحقیقی ادارے کے مطابق نیوکلیئر پاور کارپوریشن کے تین سائنسدان پرسرار حالات میں ہلا ک ہوئے۔ان میں سے دو نے مبینہ طور پر خودکشی اور ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگیا۔ ٹرومبے کے مقام پر بارک ریسرچ سینٹرکے سی گروپ کے دوسائنسدان 2010ء میں اپنی رہائش گاہوں پر مردہ پائے گئے جن کی لاشیں پھندے سے لٹکی ہوئی ملیں۔اسی ریسرچ سینٹرمیں 2010ء میں دو سائنسدان کیمسٹری لیب میں ایک پراسرار آگ میں جھلس کر مر گئے۔ایف گریڈ کا ایک سائنسدان ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر قتل کردیا گیا۔ ان کو گلا دبا کر ہلاک کیا گیا۔ان کا قاتل ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ایک ڈی گریڈ کے
سائنسدان نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی جس کا کیس پولیس نے بند کردیا۔کالپکم میں تعینات ایک سائنسدان نے2013ء میں مبینہ طور پرذاتی وجوہات کی بنیاد پر سمندر میں چھلانگ لگا کر زندگی ختم کرلی۔ ممبئی میں ایک سائنسدان نے پھندا لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ایک سائنسدان نے مبینہ طور پر پولیس نے ذاتی وجوہات پر کرناٹک میں دریا میں کود کر خودکشی کر لی۔
بھارت کے صرف جوہری سائندان ہی نہیں بلکہ اس کے تمام ایٹمی بجلی گھروں کے بارے میں آئی اے ای اے نے رپورٹ جاری کر دی کہ ’’یہ سب غیر محفوظ اور انسانی و قدرتی حیات کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔بھارت میں ایٹمی تابکاری سے متاثرہ آبادی کا تناسب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام بذات خود بھی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ بھارت کی ایٹمی تنصیبات سے اب تک متعدد بار جوہری مواد چرایا جا چکا ہے۔ بھارت میں انڈر ورلڈ اتنا مضبوط ہے کہ سیکیورٹی ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔ جب وہ چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں چوری کر لیتے ہیں یا سائنسدانوں کو اغوا یا قتل کر دیتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل بھارتی ایٹمی سائنسدانوں کو راز فروخت کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا یا کسی اور وجہ سے قتل ہوئے۔ دونوں صورتوں میں بھارتی ایٹمی پروگرام کی حفاظت سوالیہ نشان ہے۔بھارت میں اوپر تلے ایٹمی سائنسدان قتل ہو رہے ہیں اس پر بھارتی میڈیا واویلا کرتا ہے نہ سیاست دان شور مچاتے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں تشویش ہے نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں۔
مقتولین کے لواحقین کو احتجاج تو کیا لب کشائی کی بھی اجازت نہیں۔ بھارتی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا ایٹمی انرجی ریگولیٹر کمزور اور آزادی سے محروم ہے جس کی وجہ سے بھارتی عوام کیلئے سنگین خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایٹمی پلانٹس سے تابکاری مواد کا اخراج مانیٹر کرنے کا کوئی قاعدہ قانون نہیں۔ بھارت آئی اے ای اے میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بد ترین ریکارڈ کاحامل ہے۔وہاں20 سے زائد واقعات ایٹمی مراکز میں حادثات سے متعلق ہیں۔ ان حادثات میں تاب کاری پھیلنا اور جوہری پلانٹ میں آتش زدگی کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں کلپاکم ایٹمی پلانٹ،ممبئی کے نواح میں واقع بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی) اور کائیگا ایٹمی مرکز میں حادثے ہوئے۔ بھارت کے ایک ایٹمی پلانٹ نارورا میں حادثہ ہوا تو56لوگوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیاتھا۔ بھارت کے22میں سے 12ری ایکٹروں میں حادثات پیش آئے۔ چوری کے48واقعات ہوئے جن میں سے 4واقعات ایسے تھے کہ قابل انشقاق (Fissionable) یورینیم چوری ہوگیا۔ بھارت میں18ماہ تک 7سے 8کلو گرام یورینیم ایک سائنس دان کی تحویل میں رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو سکی۔بم بنانے کیلئے10سے12کلو گرام یورینیم درکار ہوتا ہے اور8کلو گرام یورینیم ایک سائنس دان کے پاس ڈیڑھ سال تک رہا۔گویا وہاں انوینٹری کنٹرول کا نظام ہی نہیں کہ مواد کی گمشدگی کا پتا چلتا۔
بھارتی ایٹمی مواد کے محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک پورا کنٹینربمبئی ریسرچ سینٹر جاتے ہوئے راستے میں چوری کر لیا گیا یہاں تک کہ یورینیم چوری کے واقعات بھی ہوئے۔ یہ تو صرف چند جھلکیاں تھیں کہ بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور اس سے متعلقہ لوگ اور مواد کتنا محفوظ ہے اور یقینایہ کسی بھی وقت ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے جن کی زندگی کا واحدمقصد ہر غیر ہندو کو ختم کرنا ہے اور مسلمان تو ہر وقت ان کے نشانے پر رہتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود عالمی میڈیانے ان خبروں کی نہ تو کوئی تشہیر کی نہ ہی بھارتی ایٹمی پروگرام کو نیزے کی نوک پر رکھا۔


ای پیپر