وفاداری
23 جون 2018 2018-06-23

نگران حکومت کی آمد کے ساتھ ہی افسر شاہی میں اضطراب پیدا ہوا اور ان کے خدشات درست نکلے ،ملک بھر میں تبادلوں کا اک طوفان امڈ آیا۔ اس تبدیلی کے پیچھے نگران حکومت کے ساتھ الیکشن کمیشن کا ذہن کام کرتا رہا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے افسران کی دوڑیں لگ گئیں وہ بوریا بستر باندھ کر کو چ کرنے کی تیاری میں مصروف نظر آئے۔

اس سرگرمی کا اصل مقصد جو بتایا جارہا ہے، وہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ بعض سیاسی حلقے گورنروں کی تبدیلی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ گورنر ہاؤسز میں ان کا براجمان رہنا منصفانہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے کیونکہ ان کا تقرر سابقہ سرکار کے ہاتھوں انجام پایا تھا، اس لئے ان کے دل میں ’’ شریفین ‘‘ کے لئے نرم گوشہ پیدا ہونا لازمی امر ہے، تبادلہ جات کی وسیع پیمانے پر اس مشق کی بھاری بھر قیمت تو بہر حال قوم ہی کو ادا کرنا ہے۔ افسران کے تبادلے کروڑوں میں پڑنے کا قوی امکان ہے کیونکہ ضابطے کے مطابق سفری و دیگر مراعات پر اٹھنے والے اخراجات قومی خزانہ ہی کو برداشت کرنے پڑیں گے اس کے باوجود یہ خدشہ موجود ہے کہ ساری مشق ’’ لذت بے گناہ ‘‘ ثابت نہ ہو۔ہماری بیورو کریسی کا یہ اعلیٰ وصف ہے کہ وہ ریاست سے زیادہ شخصیات سے وفاداری کی قائل ہیں۔ اس تعلق کے نباہ میں کوئی رکاوٹ مگر وہ پیدا ہونے نہیں دیتے۔پھر بھی دل کی تسلی کیلئے نگران حکومت اس عمل کو شفافیت کے آئینے میں دیکھتی ہے تو اس کا یہ اپنا فلسفہ ہے۔

فی زمانہ یہ مشق تیسری دنیا کے چند ممالک میں ہی رائج ہے ورنہ ترقی یافتہ ممالک میں وفاداری صرف ریاست ہی سے ہوتی ہے حب الوطنی کا یہی پیمانہ رائج العمل ہے۔ ہمارا شمار جس خطہ کے عوام میں ہوتا ہے وہاں کا ماضی تخت و تاج سے وفاداری ثابت کرتا ہے ،کیونکہ اہل وفا خوب جانتے ہیں کہ اقتدار سے نبھاؤ کے کیا کیا فوائد ہیں، بھاری بھر ثمرات کیسے بغیر محنت کے ان کی جھولی میں آگرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا بلکہ کئی نسلوں کا مستقبل سنور جاتا ہے، ویسے بھی بادشاہ کی قربت میں جو راحت نصیب ہوتی ہے اسکے ذرہ برابر سکون اسکی مخالفت میں نصیب نہیں ہوتا۔مغلیہ خاندان کا عہد حکومت اسکی بڑی شہادت ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ آقا اس وقت وجود میں آتا ہے جب ریاست میں غلام پیدا ہوتے ہیں برصغیر کا کلچر آقاؤں کو پروان چڑھانے میں بڑا سازگاررہا ہے اس کی کوکھ سے خوشامدی ٹولہ نے جنم لیا تھا جنکو انعام کے طور پر جاگیریں اور عہدے عطا کیے گئے۔ریاستی وسائل کے بے دریغ اور غیر منصفانہ استعمال کا جو سلسلہ شاہی خاندان سے شروع ہوا تھا وہ برطانوی دور تک جاری وساری رہا ۔آقاؤں کی خوشنودی کی �آخری حد تک جانے والوں نے ہیر ے جواہرات ، مراعات بھی حاصل کیں۔ کئی صدیاں گذرنے کے باوجود اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا نظام ہمارا سیاسی اور سماجی ہے، ہماری غالب اکثریت اس دور میں بھی ریاست سے زیادہ افراد کی وفاداری دکھائی دیتی ہے اور انکی حمایت اور اندھی تقلید میں حد سے گذر جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی اس ماحول ہی نے ہمارے قومی اداروں کو کمزور تر کردیا ہے۔اس کی نمایاں جھلک سیاسی جماعتوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ان جماعتوں کی قابل ذکر تعداد شخصیات کے گرد گھومتی ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے کارکن جماعت کی بجائے افراد سے وفاداری کو ’’ عین ثواب ‘‘ خیال کرتے ہیں انکی بدعنوانی ، غیر اخلاقی حرکات کے دفاع میں سرگرم رہتے ہیں اس غیر جمہوری روایت ہی کا فیض ہے کہ پارلیمنٹ کی عام فرد کی بجائے بھاری بھر شخصیات براجمان رہتی ہیں یہ منتخب شخصیات بھی ریاست کی وفاداری سے زیادہ افراد کی حمایت کو مراعات کے ترازو میں تولتے ہیں، یہی چکر گذشتہ ستر سالوں سے گردش میں ہے۔

اس پر اگندہ ماحول کے باوجود ہم افسر شاہی ، سیاستدانوں میں وہ گوہر نایاب تلاش کرسکتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی اصولوں پے سمجھوتہ نہیں کیا،ریاست کے ساتھ وفاداری نبھانے میں بڑی سے بڑی رکاوٹ کو اس راہ میں حائل نہیں ہونے دیا ،مشکلات کا سامنا کیا مگر ریاست کو افراد اور شخصیات پر ترجیح دی اگرچہ انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن ااپنی اصول پسندی، ایماندار ی سے تمام ’’ ضمیر فروشوں ‘‘ کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ اصل طاقت کردار اور ریاستی وفاداری ہے ۔عہدے ،مراعات، زر، زمین یہ سب ’’ عارضی عیاشی ‘‘ہے جسکی بھاری بھر قیمت ادا کرنے کیلئے انہیں تیار رہنا ہوگا۔ صاحبان اقتدار کے علاوہ اک طاقت اوپر والی بھی ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ شخصیات اور افراد کی محبت کا دم بھرنے والوں کی نہ یہ دنیا ہے اور نہ دوسری دنیا۔ انہیں ہر کوئی شک ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اپنی کم مائیگی کے سبب یہ نہ صرف بڑے بڑے عہدوں سے گرتے ہیں بلکہ ریاست کی نظروں سے بھی۔تاریخ میں یہ ناپسندیدہ افراد کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔جب تلک حکومتی مشینری کے افراد ریاست کے ساتھ وفاداری کا عہد نبھاتے رہے یہ کم وسائل کے باوجود اپنا ممتاز مقام رکھنے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ عالمی برادری میں پورے قد کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔یہ وہ عہد تھا کہ جب اپنی جیب سے ریاست کے اداروں کو سنوارنے کی خواہش ہمیشہ دل میں موجود رہتی تھی۔ اب یہ عالم ہے کہ سرکاری اشیاء ہڑپ کرنے کی آرزو موجزن رہتی ہے اس مقام تک لانے میں ہر اس فرد نے ’’ گناہ ‘‘میں شرکت کی ہے جس نے افراد اور شخصیات کو ریاست پر ترجیح دی ۔جب تک ریاستی وفاداری ہمارے پیش نظر رہی ہمارے قومی ادارے بھی توانا رہے لیکن جب سے مقتدر طبقہ اپنی خواہشات کا اسیر ہوا ہ تب سے ہمیں عالمی سطح پر بے توقیری کا سامنا ہے کیونکہ یہ طبقہ بڑی طاقتوں کے ایجنڈا کی تکمیل کیلئے انکی وفاداری کا دم بھرتا رہا ہے وفاداری کی اس معراج کے حصول میں باوردی طبقہ بھی کسی سے پیچھے نہی رہا ۔اس قوم کو آج جن بحرانوں کا سامنا ہے اس کے پیچھے قومی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کا فلسفہ ہی کارفرما ہے اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ اس صورت حال سے نکالنے کیلئے کوئی قیادت دکھائی نہیں دیتی جس سے امید ہے اسکو عوام میں ’’ شرف قبولیت‘‘ حاصل نہیں ۔افسر شاہی ، سیاستدانوں اور مقتدر طبقہ نے ایسا کلچر پیدا کردیا ہے کہ ریاستی وفاداری کا دم بھرنے والے افراد جماعتیں بتدریج عوام میں غیر مقبول ہوتے جارہے ہیں اور شخصیات کو مضبوط کرنے کی دوڑ میں سب شریک ہورہے ہیں۔

اگر ہمارے ہاں افراد اور شخصیات کی بجائے قومی ادارے مضبوط ہوتے تو نگران حکومت کو وسیع پیمانے پر تبادلہ جات کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ نظام خواہ صدارتی ہو یا پارلیمانی اسکی مضبوطی ریاستی وفاداری سے ہی عبارت ہے۔متوقع انتخابات میں عوام ایسے نمائندگان کا چناؤ کرے جو شخصیات افراد کی بجائے ریاست کے وفادارہوں تاکہ ریاستی ادارے شخصیات سے زیادہ طاقتور ہوسکیں۔


ای پیپر