ہاتھی کے دانت !
23 جون 2018 2018-06-23

بظاہر یوں محسوس ہورہا ہے اسٹیبلشمنٹ عمران خان یا پی ٹی آئی کی حمایت کررہی ہے جس کے نتیجے میں ممکن ہے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں اس کے لیے کچھ آسانیاں پیدا ہوجائیں اور وہ اقتدار میں آجائے .... کم ازکم مجھے حقائق اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی میں باقاعدہ اس یقین میں مبتلا ہو جاتا ہوں اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کی کسی نہ کسی صورت میں اب بھی مدد کررہی ہے۔ اور ہم پورے یقین سے نہیں کہہ سکتے نون لیگ یا شریف برادران سے اس ملک اور اس کے مظلوم وبے وقوف عوام کو چھٹکارا حاصل ہو جائے گا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے پانامہ کیس میں صرف نواز شریف کو نشانہ بناکر عوام کو اس کے ساتھ ہمدردی کا پورا موقع فراہم کیا گیا، اس میں کوئی شک نہیں شریف خاندان نے لُوٹ مار کی انتہا کردی ۔ مگر لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں یا اُنہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا گیا ہے اِس ملک میں صرف نوازشریف ہی ایک شخص ہے لُوٹ مار کی جس نے انتہاکردی ہو ؟، یا یہ ”اعزاز“ صرف شریف خاندان کو ہی حاصل ہوا ہے؟۔ زرداری سمیت کسی اور سیاستدان یا دوسرے کسی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی چورڈاکو کو نہیں پوچھا گیا، زرداری کا نام یقیناً پانامہ لیکس میں موجود نہیں مگر اس میں کیا شک ہے اپنے دور میں کرپشن کی اس نے بھی انتہا کئے رکھی۔ ویسے زرداری جتنا شاطر انسان ہے ممکن ہے اس نے اپنا نام پانامہ لیکس میں آنے ہی نہ دیا ہو، پانامہ کی فہرست میں سے چند اور ڈاکوﺅں اور چوروں کو سزادی گئی ہوتی، یا کم ازکم تحقیقات کے لیے اُنہیں گرفتار ہی کرلیا گیا ہوتا تو نواز شریف یا نون لیگ کے لیے عوام کی ہمدردیاں اچھی خاصی ماند پڑ گئی ہوتیں، .... کچھ لوگوں کا خیال تھا نون لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد یہ جماعت مکمل طورپر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی، جیسا کہ 12اکتوبر 1999ءمیں نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کے بعد ہوئی تھی، یا کردی گئی تھی۔ ایسا نہیں ہوسکا، اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی یا تعاون کسی نہ کسی طرح اب بھی شریف برادران یا نون لیگ کو حاصل ہے۔ ورنہ یہ ممکن نہیں اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کسی سیاستدان یا سیاسی جماعت کا بیڑا غرق کرنا چاہے اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کم ازکم ماضی میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی کہ منہ زور اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مقاصد یا مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ہو، ....عام انتخابات کا انعقاد 25جولائی کو ہوگا، اس حوالے سے بھی کئی مسائل ہیں، محترم چیف جسٹس آف پاکستان بضد ہیں عام انتخابات 25جولائی کو ہی کروائے جائیں۔ نون لیگ کی حکومت کو ختم ہوئے ابھی چند روز ہی گزرے ہیں، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں اب بھی نون لیگ کی حکومت ہی قائم ہے۔ کم ازکم پنجاب میں تو ایسے ہی دکھائی دیتا ہے، کمزور سے ایک شخص کو بطورنگران وزیراعلیٰ پنجاب لاکر بٹھا دیا گیا ہے، اصل حکومت ”افسران “ کی ہوتی ہے اور اپنی طرف سے چُن چُن کر جو افسران اُوپر لائے گئے ہیں میں ذاتی طورپر جانتا ہوں ان میں کئی ایسے ہیں جن کے شریف برادران کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں اور وہ اب بھی اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اُنہی سے ہدایات لیتے ہیں۔ میں اس حوالے سے مکمل تفصیل اپنے اگلے کسی کالم میں عرض کروں گا، سابقہ حکمرانوں نے کچھ سڑکیں اور پُل وغیرہ بناکر بے وقوف عوام کو اس یقین میں گرفتار کیا ہوا ہے کہ عوام کو جتنی خدمت اُنہوں نے کی شاید ہی کسی اور نے کی ہو، عوام کو اس سحر سے باہر نکلنے میں وقت لگے گا۔ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ اس کے لیے ناکافی ہے۔ سو ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات کا فائدہ شریف خاندان یا نون لیگ کو ہونے کے امکانات اچھے خاصے روشن ہیں ۔ یا یوں کہہ لیں شریف خاندان یا نون لیگ کو اتنا نقصان نہیں ہوگا جس سے اس ملک اور اس کے کروڑوں بے وقوف عوام کی جان ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوٹ جائے، .... ایک اور اہم بات یہ ہے شریف خاندان کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے بظاہر ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے، مگر ابھی تک ساری باتیں ہوا میں ہیں۔ ابھی تک کوئی ایک کیس ایسا نہیں جس میں شریف خاندان کی کرپشن مکمل طورپر ثابت ہوگئی ہو یا اس پر عدالتوں سے اُنہیں کوئی سزاوغیرہ مل گئی ہو، شریف خاندان کے خلاف کرپشن اور دوسرے کیسز کو طول دیا جارہا ہے۔ عدالتیں اور کچھ ادارے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے مکمل طورپر محروم بلکہ ”مرحوم“ ہی دکھائی دے رہے ہیں، یا ”اُوپر“ سے اُنہیں شاید اِس حوالے سے واضح احکامات یا ہدایات نہیں مل رہیں۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے الیکشن سے قبل عدالتی فیصلوں کے مطابق کرپشن کیسز میں نواز شریف کو گرفتار کرلیا جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے جیسے کرپٹ عوام کا ایک بار پھر ”ہیرو“ بن جائے گا۔ یہی اس ملک کا المیہ ہے یہاں کوئی سیاستدان زنا وکرپشن کیس میں بھی گرفتار ہو جائے ”ہیرو“ بن کر باہر نکلتا ہے، بلکہ اندر بھی ”ہیرو“ بن کر ہی رہتا ہے۔....ایک اور بات بڑی اہم ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف میں زیادہ تر ”جنم جنم کے میلے گندے اور سوراخ زدہ لوٹوں کو ہی شامل کروایا ہے۔ ان میں کئی ایسی خرابیاں اور کمزوریاں ہیں جن پر اسٹیبلشمنٹ اُن کے لیے کئی طرح کے مسائل کھڑے کرسکتی ہے، لہٰذا وہ خود کو اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے بلکہ ناچنے کا پابند سمجھتے ہیں، جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے بارہا اُنہیں ”لوٹا“ بنایا کل کلاں انتخابات کے بعد ایک بار پھر اُنہیں ”لوٹا“ بننے کے لیے یعنی تحریک انصاف چھوڑنے کے لیے کہا گیا وہ ایک پل کی دیر نہیں کریں گے، کاش عمران خان خود ہرقسم کی خرابیوں، بُرائیوں اور کمزوریوں سے پاک ہوتا تو اُسے بھی اسٹیبلشمنٹ اس طرح استعمال نہ کرسکتی جس طرح کررہی ہے، البتہ اس میں ایک خوبی یہ ہے وہ کرپٹ نہیں ہے۔ اس ایک خوبی کی بنیاد پر بھی اسٹیبلشمنٹ کبھی یہ نہیں چاہے گی وہ اقتدار میں آئے۔ یا پوری حکمرانی کا حق اسے دیا جائے۔ لہٰذا میرے نزدیک اسٹیبلشمنٹ ابھی یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہی مستقبل میں اقتدار کی گولی اُس نے کس کو دینی ہے؟۔ فی الحال وہ سارا زور سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو مختلف حوالوں سے بدنام اور کمزور کرنے پر لگا رہی ہے، ....اسٹیبلشمنٹ ایک ” ہاتھی “ ہے جس کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے اس ملک میں کمزوریوں اور خرابیوں سے پاک ایک سیاستدان ایسا نہیں جو اس بدمست ہاتھی کے دانت کھٹے کرسکے یا توڑ سکے !


ای پیپر