یومِ تشکر
23 جون 2018 2018-06-23

کئی برسوں بعد عید کی خوشیاں مناتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ واقعی عید ہے۔کیونکہ اس بار عید کی ان خوشیوں میں کسی بڑے سانحے یا دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی عوام کے دل غم سے مغمور نہیں تھے نہ ہی قومی سطح پر اس دن کو منانے کے لیے سادگی کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی بلکہ یوں کہیے دل کی خوشیاں چہروں سے جھلک بھی رہی تھیں۔ حالانکہ دو مختلف واقعات میں 7سیکورٹی اہلکار وطن کی خوشیوں پر صدقے اور واری ہوچکے تھے۔ اس وعدے کے ساتھ کہ جب تک سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے اس قوم کے بیٹے موجود ہیں خوشیوں کو نظر لگانے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ایسے میں سینکڑوں پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ٹی ٹی پی کے سربراہ فضل اللہ کے انجام تک پہنچنے کی خبر بھی پہنچ چکی تھی۔امریکی حکومت نے فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اور پاکستانی طالبان کے سربراہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی تھا۔پاکستان امریکا سے متعدد بار مطالبہ کر چکا تھا کہ وہ افغانستان میںکالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے۔لیکن ان مطالبات پر عمل نہ ہونے کے برابر ہی نظر آیا بلکہ الٹا امریکی مطالبات کی ایک فہرست ہمارے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔ شرائط کا تو ہمیں معلوم نہیں لیکن 2007 سے پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا ملا فضل اللہ ایک آسان ٹارگٹ نہیں تھا۔ کیونکہ ماضی میں بھی اس کی ہلاکت کی کئی بار خبریں گردش کرتی ہوئی نظر آئیں۔ لیکن ہر بار دہشت گردی کے کسی نئے واقعے کے ساتھ فضل اللہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے پر ان خبروں کی تردید بھی سامنے آتی رہی۔ لیکن ?انٹیلی جنس سے کچھ واقفیت رکھنے والے اس بات کا اندازہ لگا چکے ہوں گے کہ یہ محض ایک ڈرون اٹیک نہیں تھا اس کے پیچھے ایک مکمل انٹیلی جنس نیٹ ورک کارفرما تھا۔ نہ جانے کون لیکن کوئی ایسا شیر دل ضرور ہوگا جس نے یہ اطلاع اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حکام تک پہنچائی ہوگی کہ پاکستان میں کئی قیامتِ صغریٰ برپا کرنے والے اور اے پی ایس کے معصوموں کی سانسوں کی ڈوریں کاٹنے والے شخص کا پڑاو¿ آج اس مقام پر ہے۔ 2009 میں جب آپریشن راہِ حق کے بعد آ±پریشن راہِ راست تیزی سے اپنی کامیابیاں سمیٹ رہا تھا۔ 5 اگست 2009 کو ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر بھی سامنے آچکی تھی اور سوات میں کسی حد تک امن قائم ہونے کی خبریں بھی لوکل میڈٰیا مسلسل نشر کررہا تھا۔ صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے مجھے کچھ میڈیا کے دوستوں کے ہمراہ آپریشن راہِ راست کی کامیابیوں کی کوریج جس میں بہت سالوں بعد 14 اگست کی تیاریاں بھی شامل تھیں سوات جانے کا اتفاق ہوا۔ میڈیا کے دوستوں میں سہیل قلندر(مرحوم) ، جمشیدباغوان اور مقامی نمائندے شیریں زادہ کی موجودگی میں سوات کے علاقے مینگورہ اور مٹہ کے ماضی اور حال سے متعلق جاننے میں بہت آسانی ہوئی۔ سوات کے لوگوں کے چہروں پر دائمی خوف صاف جھلک رہا تھا۔ ا±ن کے باتوں میںالفاظ کے چناو¿ سے محسوس کرنا مشکل نہیں تھا کہ انہیں سوات میں امن عارضی عارضی سا محسوس ہورہا ہے۔ اور جب ایف سی کمانڈنٹ صفوت غیور (شہید) نے مینگورہ میں ہمیں وہ چوک اور شاہراہیں دکھائیں جن سے متعلق مشہور تھا کہ یہ تحریک طالبان سوات کے مقامِ عدل کی جگہ ہے، یہ وہ جگہیں ہیں جہاں چند روز قبل تک 'شریعت' کے نفاذ کے سلسلے میں سر قلم کیے جاتے تھے۔ اور انسانی جسموں کو خود ساختہ شریعت کے نام پر کئی کئی روز تک 'مقامِ عبرت'بنا کر انہیں چوک اور چوراہوں پر ٹانگ دیا جاتا تھا۔ ہمیں ان جگہوں کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جہاں ٹیلی فون لائن کی مظبوط تاروں کےساتھ سیکورٹی اہلکاروں کو پھانسی دی جاتی تھی۔ مینگورہ شہر کی کوئی عمارت ایسی نہیں تھی جہاں تباہی اور بارود کی بو محسوس نہ کی جاسکتی ہو۔اورتواور جس ہوٹل میں ہمارا قیام تھا اس وقت کے طالبان ترجمان مسلم خان کی ہر پریس کانفرنس اسی کے ہال میں ہوتی تھی۔ یہ تمام منظر کشی اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے میرا اور میری ٹیم کا خوفزدہ ہونا فطری بات تھی۔ لیکن صحافت اور اس کی ذمہ داریوں سے میں بخوبی واقف تھا۔ کل سوات میں کئی برس بعد 14 اگست تھی۔ بلند حوصلے والے سوات کے لوگوں کے تمتماتے چہرے، جذبے اور ایک بار پھر سے آزاد ہوئے سوات کو دکھانے کی ذمہ داری مجھ پر عائد تھی۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ سخت خوف کے سائے میں نہایت بھاری سیکورٹی کی موجودگی میں اسکولوں میں یومِ آزادی کے پروگرام منعقد ہورہے تھے۔ معصوم بچوں کے چہروں پر خوف کے سائے اور لبوں پر قومی ترانے یہ امتزاج میرے لیے بہت حیران کن تھا۔ سلام ہے پاک فوج کے ان جوانوں پر جن کی حیدری طاقت اور جذبہ شہادت نے 2009 کے بعد سے آج تک ملا فضل اللہ کا خوف دوبارہ سوات کی سرزمین پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔لیکن فضل اللہ کی شرانگیزی کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا۔ ایک پاو¿ں سے معذور ملا فضل اللہ نے 2013 میں امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی کمان سنبھالی۔ پھر کیا تھا افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان کے عام شہری ہوں یا سیکورٹی اہلکار سب اس کے نشانے پر تھے۔ البتہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کی موت کی خبر نے پشاور آرمی پبلکاسکول کے شہدا کے لواحقین سمیت پورے پاکستان کو یوم تشکر منانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ عید سے قبل، ملا فضل اللہ کا مارا جانا کوئی چال تھی یا اس جنگ کو فیصلہ کن موڑ پر لے جانے کے لیے ایک قدم یہ تو وقت اور وقت بدلنے کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات سے ہی پتہ چلے گا۔لیکن یہ بات طے ہے کہ ظالم کی رسی دراز تو ہوسکتی ہے مظبوط نہیں۔


ای پیپر