بدبخت!
23 جولائی 2020 2020-07-23

میں اُس کا نام بھی زبان پر نہیں لانا چاہتا جو سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اپنی ماں کو بُری طرح پیٹ رہا ہے، وہ یقیناً اپنی ماں کواِس ”جرم“ پر پیٹ رہا ہوگا نوماہ تک اُس نے اُسے اپنے پیٹ میں رکھا، اور اُس کی پیدائش پر جواذیت برداشت کی، اُس پر اُس کا ”حق“ بنتا تھا یہ بدبخت اس طرح کا اُس کے ساتھ سلوک کرے .... کبھی کبھی میں سوچتا ہوں قدرت کا اپنا ایک نظام ہے جس کے تحت عورت کو ہی بچہ اپنے پیٹ میں رکھنا پڑتا ہے، اور اُس کی پیدائش کے وقت ایسی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے جس کا حق کوئی ساری زندگی ماں کے قدموں سے لپٹارہے پھر بھی ادا نہیں ہوسکتا، اگر قدرت کا کوئی نظام اِس طرح کا ہوتا ایک بچہ عورت کو دوسرا اُس کے شوہر کو پیٹ میں رکھ کر جنم دینا پڑتاتو اکثر مرد ”بے اولاد“ رہنا ہی پسند کرتے، .... سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ماں کو پیٹنے والے کو میں کسی جانور سے بھی تشبیہ نہیں دے سکتا، میرے نزدیک یہ جانوروں کی توہین ہوگی،....اِس واقعے کے بعد ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ” جانور کئی لحاظ سے انسانوں سے ہزاردرجے بہتر ہیں“، میں نے گزشتہ روز بھی اپنی ”فیس بک وال“ پر لکھا تھا ” ہم پاکستانیوں نے ”جنگل کے قانون“ کو ایسے ہی بدنام کیا ہوا ہے، جنگل میں کوئی شیر کسی ریچھ کو رہائشی یا کمرشل پلاٹ الاٹ نہیں کرتا، کوئی چیتا کسی جنگلی بینک سے قرضہ لیتا ہے نہ معاف کرواتا ہے، کوئی ہاتھی اپنے علاج کے لیے برطانیہ اور امریکہ نہیں جاتا، وہ بھی اُسی طرح مرتا ہے جس طرح چمگادڑ مرتا ہے، کوئی بھیڑیا اپنے کتوں کو اُن کے کاروباری معاملات میں سبسڈی نہیں دیتا، جنگل میں کوئی رشوت چلتی ہے نہ سفارش چلتی ہے، کیا ہمارے انسانی خصوصاً ”پاکستانی زندگی“ میں ایسی کوئی مساوات دکھائی دیتی ہے؟؟؟،مجھے یہ خدشہ رہتا ہے کسی روز جنگل کے تمام جانورمل کر شہروں کا رُخ نہ کرلیں، یہ احتجاج کرنے کے لیے انسانوں نے ایسے ہی ہمارے قانون کو بدنام کیا ہوا ہے حالانکہ انسانوں کے اپنے جو قوانین ہیں اُن میں بے شمار ایسی ترامیم کی ضرورت ہے جو ”جانوری رویوں“ کے مطابق ہو، اب مقبوضہ کشمیر میں اور دنیا کے مختلف حصوں میں انسان، انسان پر جوظلم ڈھارہا ہے، جانور ایسے ظلم کا تصور بھی نہیں کرسکتے، کاش کوئی تحقیق کرے جب سے دنیا شروع ہوئی جانوروں نے اپنے جیسے جانوروں اور انسانوں پر کتنے ظلم ڈھائے اور انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں اور جانوروں پر کتنے ڈھائے؟۔....اِس کے باوجود انسان ”اشرف المخلوقات “ ہے؟۔ جس انداز میں یہ خبیث اپنی ماں کو پیٹ رہا تھا، میں کوئی محاورے کے طورپر نہیں کہہ رہا، واقعی دل خون کے آنسو رویا، مجھے نہیں پتہ یہ غلیظ معاشرہ اُس بدبخت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ اور ہمارا قانون اُس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ پر قدرت جو سلوک اُس سے کرے گی اُس کا اُس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اور اُس کے ساتھ ساتھ اُس گھٹیا لڑکی کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو اپنے شوہر کو ماں پر تشدد کے لیے اُکسارہی ہے، یا اِس طرح کا ماحول اُس نے بنایا ۔ کوئی ”مسلمان“ یا انسان خواہ اُس کا تعلق کسی بھی مذہب، کسی بھی فرقے سے کیوں نہ ہو ماں کو پیٹنا تو دُور کی بات ہے ماں کو غصے سے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرسکتا،.... اِس طرح کے بدبخت شاید کم ہوں گے پر رشتوں کی قدر یا اہمیت آہستہ آہستہ کم بلکہ کسی حدتک ختم ہوتی جارہی ہے۔ پہلے بچے والدین سے ڈرتے تھے، اب والدین اپنے بچوں سے ڈرتے ہیں کہ اُن کو کسی چھوٹی موٹی غلطی سے بچے ناراض ہوکر اُنہیں ڈانٹنا نہ شروع کردیں۔ .... حسن نثار صاحب ٹھیک فرماتے ہیں۔ ”ہمارا اصل مسئلہ اقتصادیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے، جو ہماری اپنی بھی درست ہونے والی ہیں ،....ماں دنیا کا عظیم ترین رشتہ ہے، میری نظرمیں دنیا کی عظیم ترین محبت ”ماں کی ڈانٹ“ ہوتی ہے، نوبرس بیت گئے میں اِس محبت سے مستقل طورپر محروم ہوچکا ہوں، مجھ سے کوئی پوچھے کوئی ایک پل میری زندگی میں ایسا نہیں اِس محبت کی تڑپ جب مجھ سے الگ ہوئی ہو، جب کافی دن گزر جاتے اور امی کی ڈانٹ نصیب نہ ہوتی، ایک کمی سی محسوس ہوتی تھی، پھر جان بوجھ کر میں کوئی غلطی کرتا، کوئی شرارت کرتا، وہ مجھے ڈانٹتیں اور جواباً مجھے اُن سے معافی مانگنے کا، اُنہیں چومنے کا، اُنہیں گلے سے لگانے کا، اور اُن کی جوتیوں میں بیٹھنے کا موقع مل جاتا، .... میں اکثر اُن کی جوتیاں چاٹتا تھا، اُنہیں بہت بُرا لگتا، وہ مجھ سے کہتیں”تم بہت گندے ہو، مجھے تمہاری اس ٹائپ کی عقیدت ذرا پسند نہیں ہے، جوتیاں چاٹنے سے کوئی جراثیم تمہارے اندر ایسا چلے جانا ہے جو تمہیں بیمار کردے گا، میں ایسی حرکتوں سے ذرا خوش نہیں ہوتی“۔ میں جواباً عرض کرتا ” ماں جی آپ کو خوش کرنا کون چاہتا ہے؟ میں تو اُسے خوش کرنا چاہتا ہوں جس نے ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی، اور اِن قدموں پڑی جوتیاں چاٹنے سے مجھے کوئی بیماری نہیں ہوگی، بلکہ میرا ایمان ہے میرے اندر کوئی بیماری اگر پل بھی رہی ہے، مجھے اُس سے شفا مل جائے گی،.... میں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہوں اللہ نے والدین کے حوالے سے اِس سوچ کے مجھے قابل بنایا، پھر عمل کرنے کی توفیق بھی بخشی،.... اور ایک وہ بدبخت ہے جو جوتیوں، مکوں اور ٹھڈوں سے اپنی ماں کو پیٹ رہا ہے۔ دنیا میں ماں خُدا کا دوسرا روپ ہے، توہین رسالت پر ہم کانپ کررہ جاتے ہیں، دنیا میں جہاں کہیں یہ ”سانحہ“ ہوا دل خون کے آنسو رویا، ماں کو پیٹنا میرے نزدیک ”توہین خدا“ ہے، اِس کی سزا دینے کا کوئی اختیار میرے پاس ہو، یا مجھے اِس کا موقع ملے میں اُس بدبخت کو سرعام پھانسی پر لٹکا دوں، پر میں شاید یہ نہ کرسکوں، ممکن ہے اُسی بدبخت کی ماں جسے وہ پیٹ رہا تھا اُس کی سفارشی بن کر میرے سامنے آجائے اور میرا گریبان پکڑ کر چیخ چیخ کر کہے” میرے بیٹے کو ہاتھ مت لگانا“ ....اِس حوالے سے ہمارے مشہور شاعر انور مسعود کی پنجابی کی ایک نظم ”امبڑی“ بڑی مشہور، اور دل دہلا دینے والی ہے، یہ نظم سناتے ہوئے انور مسعود خود روپڑتے ہیں،.... سنا ہے وہ بدبخت نوجوان اپنی ماں کو جائیداد کے لالچ میں پیٹ رہا تھا، مجھے اپنا وقت یاد آیا، جب میری ماں اور میرے ابوجی آخری سانسیں لے رہے تھے، میں اُن کے پاس کھڑا قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھا، اور یہ سوچ رہا تھا۔ کاش اس وقت کوئی فرشتہ آئے، مجھ سے وہ یہ کہے” تمہارے پاس عزت، شہرت ، دولت ، جائیداد جوکچھ ہے سب کچھ مجھے دے دو، اور اِس کے بدلے میں چند سانسیں میں تمہارے والدین کو اللہ سے لے کر دے دیتا ہوں“ ۔میں اِک پل بھی سوچنے میں نہیں لگاﺅں گا،.... بیٹے سے مارکھانے والی ماں نے بیٹے کو یقیناً کوئی بددعا نہیں دی ہوگی، ہم بھی اُسے کوئی بددعا نہیں دے سکتے کہ اِس کے نتیجے میں اُسے کوئی نقصان پہنچادُکھ اُس کی ماں کو ہی ہوگا!!


ای پیپر