عافیہ صدیقی اور شکیل آفرید ی کے تبادلے پر بات ہوسکتی ہے :عمران خان
23 جولائی 2019 (21:25) 2019-07-23

واشنگٹن :وزیر اعظم عمران خان کو دورہ امریکہ میں ایک کے بعد ایک کامیابی کی خبریں آ رہی ہیں ،جہاں صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی وہیں پاکستان کو ٹیکنالوجی میں بھی مدد فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کروائی ۔ایک اور اہم خبر کے مطابق عمران خان نے شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ سامنے رکھ دیا ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شکیل آفریدی اور عافیہ صدیقی کے تبادلے پر امریکہ سے بات چیت کر سکتے ہیں،امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شکیل آفریدی کا درجہ پاکستان میں جاسوس کا ہے۔

اسامہ بن لادن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے اتحادی تھے، اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں پاکستان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا،افغان مسئلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام 4 دہائیوں سے خانہ جنگی سے متاثر ہیں، افغانستان کو امن کی ضرورت ہے، طالبان کوحکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمائندگی ملنی چاہیے.

انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات اب تک کے کامیاب ترین مذاکرات رہے ہیں، طالبان ایک مقامی تحریک ہے، وہ کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں، امریکہ کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ حل نہ ہوا تو داعش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے بڑا خطرہ بن جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، ایران کے مسئلے پر مصالحت کے حق میں ہیں اور اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، جنگ سے پہلے ہی خطہ متاثر ہے،وزیراعظم نے ایک بار بھارت سے اچھے تعلقات کی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اظہارکیا۔


ای پیپر