پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آئی ہے : شاہ محمود قریشی
23 جولائی 2019 (18:26) 2019-07-23

واشنگٹن: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں جو سرد مہری آئی تھی اس میں بہتری آئی ہے، اب ہمارے لیے دروازے کھل چکے ہیں، امریکا پاکستان کے ساتھ پارٹنرشپ کو وسعت دینا چاہتا ہے، دونوں ممالک نے خطے میں قیام امن کی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا،ٹرمپ نے توقع سے زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ کیا،منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام پر ہم نے اعتماد پیدا کیا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے، اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا، دو ایٹمی قوتیں تصادم کا خطرہ مول نہیں سکتیں۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ازسر نو تعلقات کے لیے سنجیدگی کے ساتھ آئے ہیں، ہم مل کر کوشش کررہے ہیں کہ تعلقات میں بہتری آئے حالانکہ تعلقات میں جو سردمہری آئی تھی اس میں بہتری آئی ہے اور اب ہمارے لیے دروازے کھل چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جس کو انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی صدر کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں جلد معاملات طے کیے جائیں گے جس کے بعد باقاعدہ تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اقتصادی سفارت کاری کی طرف توجہ دینے کی بھی کوشش کریں گے۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اس کا بہت بڑا حصہ منی لانڈرنگ ہے، لوگ اس کے ذریعے پیسے آف شور کمپنیوں میں منتقل کرتے ہیں، وزیراعظم برملا کہہ چکے ہیں تیسری دنیا میں غربت کی وجہ منی لانڈرنگ ہے، امریکا کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ہمار ا ساتھ دینا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت بھی بڑا مسئلہ ہے، ہم ان دونوں چیزوں میں پیش رفت چاہتے ہیں، منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام پر ہم نے اعتماد پیدا کیا ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکا کی ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان کامقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے، اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا، دو ایٹمی قوتیں تصادم کا خطرہ مول نہیں سکتیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی ایک بڑا طبقہ ہے جوامن کی خواہش رکھتاہے، من کی راہ سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے، پہلی مرتبہ وزیراعظم نے اوول آفس میں امریکی صدر کو تنازع کشمیر کے بارے میں بتایا، مقبوضہ کشمیر میں طاقت کیبے جا استعمال پر عوام ردعمل دیتے ہیں، بھارت کی موجودہ حکمت عملی جاری رہی تو وہاں ردعمل تو ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرکی سطح پر پہلے بھی نشستیں ہوتی رہی ہیں، آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا برملا اظہار نہیں سنا، اس پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو برصغیر میں بہتری کا امکان پیدا ہوگا۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ صدرٹرمپ نے کہا کہ ہمارے درمیان تجارت بہت ناکافی ہے، ٹرمپ نے تجارت میں 20 گنا تک اضافے کی خواہش کا اظہار کیا، وزیراعظم نے بھی سرمایہ کاروں کے ساتھ کئی نشستیں کیں، ہم نے واضح کیا کہ ہم ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اعتماد کے فقدان کی وجہ سے امریکی امداد روکی گئی تھی، اعتماد کا فقدان کم ہوگا تو امداد بحال ہوجائیگی۔وزیر خارجہ نے امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ پاکستانی امریکن کمیونٹی کو جڑے ہوئے دیکھا جو مثبت پیغام ہے، اس سے قبل اسی کمرے میں وزرائے اعظم آتے تھے لیکن کرسیاں خالی ہوتی تھیں۔


ای پیپر