واہ....حیات
23 جولائی 2019 2019-07-23

کچھ عرصہ قبل ایک اڑتی اڑتی خبر سنی تھی، کہ غلام مصطفیٰ کھر سابقہ شیر پنجاب جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں وہ شیر تھے، تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں، پھر نجانے کیوں اس حوالے سے خاموشی چھا گئی۔ شاید موجودہ شیر پاکستان، یہ نہ چاہتے ہوں، کہ ایک میان میں دو تلواریں آجائیں ، کیونکہ اگر میان مضبوط ہو، تو چار تلواریں بھی آسکتی ہیں، اس کے لیے ضروری نہیں، کہ روزانہ دودھ میں ہلدی ڈالی جائے، یا صرف دیسی مرغی ، اور دیسی انڈہ اور دیسی گھی کھایا جائے، یا سعودی عرب اور دبئی سے نسخہ کیمیا منگوایا جائے ۔

جب میں کالج میں پڑھتا تھا، تو ہمارا ایک ملازم رمضانی، جس کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا، اس نے ہمارے ہاں ملازمت کرنے سے پہلے یہ شرط عائد کی تھی، میری ایک بیوی روٹھ گئی ہے، کہ تم نے دو شادیاں کیوں کی ہیں، لہٰذا آپ میری ان سے صلح کرادیں۔ اس وقت وہاں ڈپٹی کمشنر ہمارے قریبی عزیز تھے، انہیں کہہ کر ان کا صلح نامہ تیار کرادیا، اور چونکہ پرانے ملازمین کی وجہ سے سرونٹ کوارٹر میں اتنی گنجائش نہیں تھی، کہ وہ بھی وہاں رہے، لہٰذا ہم نے انہیں قریب ہی دوکمرے کا گھر لے دیا، ایک دن، دن کے بارہ بجے تک وہ کام پہ نہیں آئے، تو ہمیں شدید تشویش ہوئی، ہم نے جاکر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کردیا مگر ہماری کوشش بے سود ثابت ہوئی، آخر کار میں نے کہا کہ دروازہ توڑ دو، دروازہ توڑ کر جب ہم اندر گئے، تو وہ چٹائی نما دری پہ سوئے ہوئے تھے درمیان میں رمضانی، اور دائیں ہاتھ پہلی بیوی اور بائیں دوسری بیوی تھی، جو دنیا جہان سے بے خبر سورہے تھے، حتیٰ کہ آوازیں دینے سے بھی وہ نہ جاگے، تو انہیں اٹھاکر بٹھادیا ، تو وہ قدرے ہوش میں آئے۔

قارئین کرام، میں خداکو حاضر جان کر یہ سچا واقعہ آپ کو بتا رہا ہوں، میں نے جب ان سے پوچھا، کہ تمہاری اس بے ہوشی نما، مدہوشی کا سبب کیا ہے؟ اگر میں نے وہ جواب لکھ دیا، تو ڈر ہے کہ پیمرا والے مجھ پہ پابندی نہ لگادیں، لہٰذا آپ کو بتا تو سکتا ہوں مگر لکھ نہیں سکتا۔ اس وقت محض یہ سوچنے کا وقت ہے، پاکستان بنتے وقت جو پیدا ہوئے وہ اب پاکستان کی طرح معمر بن گئے ہیں، بلکہ ملک کے حکمران بھی بن گئے ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے، یہ عمر زندگی کی آخری اننگز کھیلنے کی ہوتی ہے، غالباً مرزاغالب کا یہ شعر ہے کہ

لائی حیات آئے قضالے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

اسی لیے تو وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مشہور زمانہ کتاب نہج البلاغہ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے۔ کہ کسی بھی ملک میں تباہی وبربادی کا اصل سبب غربت ہوتی ہے۔ غربت کی اصل وجہ حکمرانوں کا صحیح یا غلط طریقے سے دولت اکٹھی کرنا ہوتا ہے، وزیراعظم نے اپنی بیٹی کو ساڑھے سات لاکھ پر مشیر رکھ لیا ہے، کیا یہ سچ ہے عمران خان صاحب کے سوشل میڈیا پہ اس پیغام کے ساتھ، سیاسی، صحافی، اور عدالتی ستارہ شناس ، بلکہ بندہ شناس ، اور وقت شناس شیخ رشید کہتے ہیں، کہ عمران، ٹرمپ کامزاج ایک جیسا ہے، ان کی ملاقات ہورہی ہے اللہ خیر کرے، قارئین اس سیاسی بیان کا مطلب آپ خود نکالیے؟ مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت پھولے نہیں سماتی، کہ بلوچ آرگنائزیشن جس کا پشت پناہ بھارت رہا ہے، بلکہ کراچی سے لے کر ”سرحد“ تک، دہشت گردی اور سیاسی انارکی کا سہولت کار اور ذمہ دار مودی ہے۔ خیر وہ تو پاکستان مستند دشمن ہے، جواخلاق سے عاری، اور درگادیوی کا پجاری ہے، مگر حیران ہوں، کہ پاکستان میں ایک کے بعد دوسرے متنازعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان آئے، کہ جن کے کردار ارشد ملک کی طرح مشکوک رہے۔

ان میں سے کئی تو ایسے تھے، کہ جنہوں نے وفات سے پہلے قوم سے معذرت کی کہ ان سے غلط عدالتی فیصلہ ہوگیا، بلکہ ایک ملک کا وزیراعظم پھانسی چڑھادیا گیا، باقی وزیراعظموں کا حال تو ساری قوم جانتی ہے، ان میں ایسے بھی تھے کہ جو درجنوں کے حساب سے روزانہ ازخود نوٹس لیتے تھے ان کی دستبردسے کوئی ادارہ نہیں بچا تھا، ان کے احکامات پر کس قدر عمل درآمد ہوتا رہا، یہ ایک الگ داستان ہے۔

ایک جج صاحب، وزیراعظم عمران خان کے دوست تھے، جن کا پورا خاندان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن تھا، اور جو تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنے محورقص وسرودہوتے تھے، کیا ایک چیف جسٹس کو زیب دیتا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت کے دوران اپنے خاندان کو کسی سیاسی جماعت کے کارکن ہونے کی اجازت دیتے، عمران خان صاحب نے خود ان کا بھانڈہ پھوڑا تھا، کہ یہ میرے سکول فیلو، اور میرے سے ایک سال سینئر تھے آج کل حکومت کا جو بیان تواتر سے آرہا ہے، کہ کلبھوشن کا عالمی عدالت کا فیصلہ منظور ہوگا، اس کا مطلب ہے کہ کلبھوشن رہا ہورہا ہے، اگر ایسی بات ہوئی تو کیا اس سے پاکستان کی نیک نامی ہوگی؟ تیسرے چیف نے ریکوڈک کیس میں جو غیراخلاقی اور غیرقانونی فیصلہ دے کر پاکستان پر 950ارب روپے جرمانے کا بوجھ بڑھا دیا ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں بیرون ملک پاکستانی اثاثوں کو بھی ضبط کیا جاسکتا ہے، فیصلے کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ بین الاقوامی قوانین سے نابلد، اور اس میں پیشہ ورانہ مہارت بھی نہیں ہے، اس لیے واہیات فیصلے ہو جاتے ہیںپاکستان اس حوالے سے شاید کسی اپیل کا حق رکھتا ہو، ایک اور سب سے بڑا کارنامہ جو بالآخر وزیراعظم کو نظرثانی پہ مجبور کردے گا، وہ یہ ہے کہ پنجاب گورنمنٹ کے ترجمان چالیس مقرر کردیئے گئے ہیں جن کی رائے بھی ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتی، یہ تو خواہ مخواہ اپنے پاﺅں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ جبکہ میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ اپوزیشن کی کسی بات کا جواب دینے کی بجائے سارا زور اپنی کارکردگی پہ لگانا چاہیے، مگر وزیراعظم تو ایسے باخبر ہیں، کہ وہ کہتے ہیں، تحقیقات کررہے ہیں، کہ روپے کی قیمت چارگنا کیوں کردی گئی۔ ظاہر ہے روپے کی قیمت حماد اظہر نے نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے وزیرخزانہ حفیظ شیخ ، جس کو ہٹانے کا وزیراعظم کو بھی اختیار نہیں، اور نہ ہی ہمت ہے، کیونکہ امریکہ نے بچت کا واویلہ کرنے والے سے صرف ایک دن کے بعد دوبارہ لگوا دیا، صحافیوں کو بے روزگار کرنے کے بعد یہ سوچنا کہ چالیس ترجمان اس خلا کو پورا کرلیں گے، خام خیالی ہے۔

رعایا پہ شفقت ”صدقہ جاریہ “ ہوتا ہے، کہ جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔


ای پیپر