عمرہ نامہ!
23 جولائی 2019 2019-07-23

گزشتہ سے پیوستہ !....

روضہ¿ رسول پر حاضری کے بعد میں ایک کھجور مارکیٹ میں چلے گیا جو مسجد نبوی سے زیادہ دُور نہیں تھی، ہمیں خریداری وغیرہ کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، پیپلزپارٹی سندھ کے ایک ایم پی اے میرے ساتھ تھے، میں نے اُن سے کہا خریداری کے لیے ایک گھنٹے کا وقت بہت کم ہے، وہ بولے پہلے سے خریداری کرنی ہو ایک گھنٹہ بہت ہوتا ہے، وہ شاید اُمید لگائے بیٹھے تھے زرداری اپنے ساتھ عمرے پر آنے والے وفد کے لیے رُکن کو بھاری رقوم بھی دیں گے جس سے اپنے عزیزواقارب کے لیے وہ خریداری کرلیں، جبکہ میرے ذہن میں یہ وہم تھا ہم جب عمرہ کرکے وطن واپس پہنچیں گے زرداری صاحب ہماری جیبوں میں موجود رقم نکلوا لیں گے، بہرحال ایک گھنٹے میں صرف کھجوریںتسبیحاںاور ٹوپیاں وغیرہ ہی خریدی جاسکتی تھیں ، کھجور مارکیٹ میں مختلف اقسام کی اعلیٰ ترین کھجوریں مختلف دکانوں میں سجائی گئی تھیں، اتنی اعلیٰ اور اتنے بڑے بڑے سائز کی مختلف رنگوں کی کھجوریں میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، مگر ”عجوہ“ کو ظاہر ہے سب کھجوروں کی سردار سمجھا جاتا ہے، سو ”سردار“ کی خریداری کے بعد میں تسبیحوں اور ٹوپیوں والی دکان پر چلے گیا، یہاں مختلف سائز کی رنگ برنگی ٹوپیاں پڑی تھیں، میں نے ایک ٹوپی پکڑ کر اپنے سرپررکھی مجھے بابا بلھے شاہ ؒ کے اشعار یاد آگئے، ”سرتے ٹوپی نیت کھوٹی.... کی لینا سرٹوپی دھرکے ....تسبیح پھیری پر دل نہ پھیریا.... کی لینا تسبیح ہتھ پھڑکے .... چلے کیتے پر رب نہ ملیا .... کی لینا چلیاں وچ وڑکے....بلھے شاہ جاگ بنا دودھ نئیں جمدا.... بھانویں لال ہووے کڑھ کڑھ کے .... چند برس پہلے ہمارا ایک عزیز حج پر گیا واپسی پر اپنے عزیزوں کے لیے بطور تبرک وہ تسبیحاں اور ٹوپیاں لے کر آیا، اُس نے اپنے ایک دوست کو کھجوروں کے ساتھ تسبیح اور ٹوپی بھی بھجوائی تو کھجوریں رکھ کر تسبیح اور ٹوپی یہ کہہ کر اُس نے واپس کردی ”یہ کسی ضرورت مند کو دے دیں“۔ سو اِس واقعے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھجوروں کے مقابلے میں تسبیحاں اور ٹوپیاں میں نے بہت کم خریدیں، پاکستان میں ”ٹوپی“ ویسے بھی اب صرف ”ڈرامے“ کے لیے ہی رہ گئی ہے، ایک زمانے میں ٹوپی کی بڑی قدر ہوتی تھی، ٹوپی پہننے والے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اُسے بڑامعزز سمجھا جاتا تھا، اب کسی نے ٹوپی پہنی ہو لوگ سمجھتے ہیں یہ ایسے ہی ”ٹوپی ڈرامہ“ کررہا ہے، یا کوئی کسی سے جھوٹ بول رہا ہو، کوئی کسی کو دھوکہ دے رہا ہو اُسے کہا جاتا ہے ”میرے ساتھ ٹوپی ڈرامے“ مت کرو، اب تو نماز پڑھتے ہوئے بھی اکثر لوگ ٹوپی نہیں پہنتے، کبھی ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنے کو بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا، کہا جاتا تھا ٹوپی پہنے بغیر نماز نہیں ہوتی، مجھے یاد ہے بچپن میں ہم جب مسجد میں نماز پڑھنے جاتے نماز پڑھنے کے بعد کئی بار ایسے ہوتا مسجد کی ٹوپی سر سے اُتارنا یاد ہی نہ رہتی ، گھر آکر یاراستے میں پتہ چلتا ٹوپی سرپہ پڑی رہ گئی ہے جس پر ہمیں دوبارہ مسجد جانا پڑتا یا اگلی نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے ٹوپی ساتھ لے جاتے، اِسی طرح ایک زمانے میں جس شخص کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی اُسے ہی بڑا نیک پاک سمجھا جاتا تھا، اب جس کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے وہ دوسروں کی نظر میں خود کو نیک ثابت کرنے کے لیے ڈرامہ کررہا ہے، بہرحال عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی آج کل ہروقت تسبیح پھیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اُن کا دِل بھی اللہ کسی روز پھیر دے، وہ خود کو مصلحتوں سے ذرا پرے کرکے جو مقاصد لے کر اقتدار میں آئے تھے اُنہیںپورا کرنے کی عملی کوشش کریں کہ باتیں اب بہت ہوچکیں، دن بڑی تیزی سے گزرتے جارہے ہیں، پہلے اُن کے سو دن گزرے، اب ہمارے گیارہ ماہ گزرنے والے ہیں، اُن کے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی ہم یہی دعا کرتے تھے ” اللہ پاکستان کو اعلیٰ اخلاقی قدروں کے حامل، اہل اور

نیک نیت حکمران عطا فرمائے“۔....یہ دعا اُن کے اقتدار میں آنے کے بعدبھی جاری ہے، مسئلہ معاشی بدحالی سے زیادہ انتظامی بدحالی اور اخلاقی بدحالی کا ہے، اِس حوالے سے اُن سے وابستہ اُمیدیں کمزور پڑتی جارہی ہیں، ہم یہ سوچا کرتے تھے اُن جیسے نیک نیت شخص کا اقتدار میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں، اللہ نہ کرے ہم یہ سوچنا شروع کردیں اُن کا اقتدار سے جانا کسی معجزے سے کم نہیں، ....تبرکات کی خریداری کے بعد میں ہوٹل واپس پہنچا تو وفد کے تقریباً تمام ارکان ہوٹل کی لابی میں پہنچ چکے تھے، مجھے لگا جیسے وہ سب میرا انتظار کررہے ہیں، مجھے شرمندگی سی محسوس ہوئی، بعد میں پتہ چلا کچھ اور لوگ بھی ابھی شاپنگ کرکے واپس نہیں آئے۔ پیپلزپارٹی کے ایک ایم این اے نے مجھے بتایا انہوں نے مختلف اقسام کے عطریات کی ایک سو سے زائد بوتلیں خریدی ہیں، میں نے ازرہ مذاق اُن سے پوچھا ” یہ بوتلیں عطر کی ہی ہیں ناں ؟“....وہ مسکرا دیئے، کہنے لگے ” دوسری بوتلیں میں دبئی سے خریدتا ہوں کیونکہ سعودی عرب کی زرداری صاحب کو صرف کھجوریں اور عطر ہی پسندہیں، کچھ دیر بعد ہم جدہ ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوگئے، جہاں سے ہمیں واپس پاکستان پہنچنا تھا، مدینہ شریف سے جدہ ایئرپورٹ اور جدہ ایئرپورٹ سے پاکستان واپسی کا سفر بڑا اُداس گزرا۔اِس کی ایک وجہ یہ تھی زرداری ہمیں صرف دودنوں کے لیے عمرہ پر لے کر آئے تھے، اتنے مختصر وقت میں مکہ اور مدینہ شریف کے قریب کئی مقدس مقامات کی زیارت سے میں محروم رہا۔ دوسری وجہ اُداسی کی یہ تھی یوں محسوس ہورہا تھا ہم اپنا ” اصل گھر“ چھوڑ کر دوبارہ ایک مسافر خانے یا عارضی پناہ گاہ کی طرف جارہے ہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جو سکون صرف دودنوں کے لیے ہمیں میسر آیا تھا ہم اُس سے پھرسے محروم ہونے جارہے تھے، ....جدہ ایئرپورٹ پر پاکستانی سفارتخانے کا عملہ ہمیں الوداع کہنے کے لیے موجودتھا، ....پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے کچھ تحائف بھی وفد کے تمام اراکین کو پیش کئے گئے، سفارتخانے کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنے مختصر ترین الوداعی خطاب میں فرمایا ” اس سفر میں ہم سے کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو اس پر ہم معذرت خواہ ہیں“۔ (جاری ہے)


ای پیپر