شفاف پولنگ اورشفاف نتائج کا انتظار، انتخابی مہم: کیا کیا ہوا؟

23 جولائی 2018

سہیل سانگی

انتخابی مہم اختتام کو پہنچ گئی۔ بدھ کو ہونے والے انتخابات ایک لحاظ سے ملک کے نہ صرف مہنگے ترین متنازع ترین بلکہ خونی بھی کہلائیں گے۔ چار سیاسی جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف)، بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف براہ راست اس خونریزی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ہر پارٹی سوائے تحریک انصاف وثوق کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ دھاندلی ہوگئی ہے، دھاندلی ہوگی۔ کلیدی اداروں کا رول زیر بحث رہا۔ تاہم الیکشن کمیشن پر شاید ہی کسی رہنما یا سیاسی جماعت نے تنقید کی ہو۔ ماسوائے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے، جنہوں نے گزشتہ ہفتہ ا یوان بالا میں تقریر کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں پرالیکشن کمیشن کی خاموشی کو’’مجرمانہ‘‘ کہہ کر تنقید کی۔ انہوں نے انتخابی عمل خاص طور پر پولنگ کے عمل میں فوج کے رول پر بھی تنقید کی بات اور کہا کہ اس ادارے کا رول الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں واضح نہیں ہے۔ فوج کی طرف سے ایک بار پھر وضاحت کی گئی کہ فوج الیکشن کمیشن کے ماتحت کام کرے گی۔ میڈیا پر ریاستی اداروں کے کنٹرول کی شکایات رہی۔ مزید یہ کہ میڈیا پر مستقل مفاد رکھنے والے گروہ یا پھر پیسہ خرچ کرنے والے امیدوار حاوی رہے۔ اور میڈیا کی آزادی پر سوالات اٹھتے رہے۔
سیاسی جماعتوں نے اگرچہ انتخابی منشور جاری کئے لیکن یہ منشور کم اہمیت کے حامل رہے۔ پارٹی منشور یا پروگرام کے بجائے دو بیانیوں پر بٹی رہی۔ ایک وہ جو سویلین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتا ہے۔ دوسرا وہ جو اس بیانیہ کی حامی جماعتوں کے مخالف کھڑا ہے۔ نواز لیگ بغیر نواز شریف کے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ جس کی قیادت شہباز شریف کر رہے ہیں۔ نواز لیگ کے امیدواروں پر دباؤ ڈالا جاتارہا۔ بعض اہم امیدواروں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے جنہیں بعد میں عدالت نے انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔ سندھ میں نثار کھوڑو اور منظور وسان کاغزات نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ سے آؤٹ ہوگئے۔ انتخابات سے دس روز پہلے تک تقریباً 85 امیدواروں کے معاملات عدالت میں زیر سماعت تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں؟لہٰذا یہ امیدواران بھرپور طریقے سے انتخابی مہم نہیں چلا پائے۔ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعدنواز شریف کو ایون فیلڈ فلیٹ کے مقدمے میں سزا سنا دی گئی۔ نگران حکومتوں کے رول خاص طور پر نواز شریف کی لندن واپسی پر استقبال کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ اس کے بعد نواز لیگ اور پیپلزپارٹی پنجاب کی نگران حکومت پر تنقید کرتی رہیں۔ ملک کی دو بڑی جماعتیں اداروں کی جانب سے سب کے ساتھ یکساں سلوک نہ کرنے کی شکایات کرتی رہیں انتخابی مہم جب عروج پر تھی پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر نگران حکومت نے خاص طور پرسندھ اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرر اور تبادلے کئے گئے۔ انتخابی مہم کنٹرولڈ رہی۔ بڑے بینرز، پینافلیکس لگانے پر پابندی رہی ۔ ضلع انتظامیہ سختی کے ساتھ مانیٹرنگ کرتی رہی۔ بیس جولائی تک 11ہزار 93امیدوار انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، خلاف ورزیوں پر 2330 امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری کئے۔ ان میں بعض بڑے نام بھی شامل ہیں۔404 کو وارننگ جاری اور
43 امیدواروں پر جرمانہ عائد کیا گیا۔2 لاکھ 18 ہزار بڑے سائز کے بینرز اور ہولڈنگ کو ہٹایا گیا۔پنجاب میں 1 لاکھ۔ سندھ 70 ہزار، کے پی 45 ہزار اور بلوچستان میں 3 ہزار بینرز اور ہولڈنگز ہٹائے گئے۔پنجاب میں 5 ہزار725 ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔1340 کو شوکاز، 248 کو وارننگ اور 38 پر جرمانہ عائد کیا گیا،سندھ میں 3144 خلاف ورزیاں ہوئیں۔672 شوکاز نوٹس جاری، 103 کو وارننگ اور 1 امیدوار کو جرمانہ عائد کیا گیا، کے پی میں 2087 خلاف ورزیاں ہوئیں۔ 315 کو شوکاز،51 کو وارننگ اور 4 پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ بلوچستان 147 خلاف ورزیاں ہوئیں، 3 کو شو کاز اور 2 کو وارننگ جاری ہوئی۔
حالیہ انتخابی مہم کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مہم غیر سیاسی رہی۔ سڑکوں اور گلیوں میں الیکشن کی گہما گہمی نظر نہیں آئی۔ الیکشن کا ماحول ہی نہیں بنا۔ دنیا بھر میں انتخابی عمل کے دوران لوگ بڑے پیمانے پر سیاسی عمل میں شرکت کرتے ہیں۔ بھرپور انتخابی مہم شروع نہ ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر سیاسی عمل میں لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔ اور سیاسی جماعتوں کو نئے کارکن نہیں مل سکے۔ ووٹر ز نے حکمرانون جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور وزراء سے ان کی کارکردگی پر جواب طلبی کی۔ اس میں سوشل میڈیا کا رول اہم رہا۔ منفی انتخابی مہم ووٹرز کی توجہ کا باعث بنتی ہے۔ یہ رجحان حالیہ مہم کے دوران بھی بڑی حد تک رہا۔ بعض بڑے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں نازیبا الفاظ کا استعمال کئے۔سوشل میڈیا پرشور ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے عمران خان، ایاز صادق، پرویز خٹک مولانا فضل الرحمٰن کو نوٹس جاری کئے۔ انتخابی مہم کے دوران مستونگ، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بم دھماکوں میں مجموعی طور پر 175 افراد جاں بحق ہوئے ۔سیکیورٹی کا معاملہ خطرناک رہا۔ بم دھماکوں میں تین امیدوار جاں بحق ہوگئے۔ دوسری طرف سیاسی پارٹیوں کی مرکزی قیادت کو خطرے کا الرٹ جاری کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے بلاول بھٹو جلسوں سے خطاب نہ کر سکے۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی مہم کا تعلق ہے بلاول بھٹو اکیلے مہم چلاتے رہے۔ سندھ میں کراچی کے علاوہ نواز لیگ کہیں بھی انتخابی دورہ نہیں کر سکی۔ زیادہ تر جماعتوں نے خود کو پنجاب اور پختونخوا تک محدود رکھا۔پیپلزپارٹی کی الیکٹ ایبلز سیاست اورپارٹی کو اندرونی ناراضگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد جی ڈی اے بمشکل نصف حلقوں میں اپنے امیدوار نامزد کرسکا۔ اس صوبے میں روایتی مذہبی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہیں اور وہ اپنا سیاسی اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔ لیکن حالیہ انتخابی مہم کے دوران نئے اور انتہاپسندی کے نعرے والی جماعتیں بھی پہنچ چکی ہیں۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں نے جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگاڑا سے ملاقات کی، اورنصف درجن سے زائد مقامات پر یہ گروہ جی ڈی اے کے امیدواروں کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ سندھ میں قوم پرست منظم8 طور پر سامنے نہیں آسکے۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے نائب صدر دودو مہیری نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ پلیجو کی پارٹی جی ڈی اے کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ قادر مگسی سندھ ترقی پسند پارٹی نہ جی ڈی کا حصہ ہے او ر نہ عمران خان کے ساتھ۔ وہ الگ حیثیت میں نصف درجن حلقوں سے انتخاب لڑ رہی ہے۔ تاہم قوم پرستوں کا ایک حصہ ابھی بھی انتخابات سے باہر ہے۔کراچی میں ایم کیو ایم اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعتوں میں امیدواروں اور انتخابی حکمت عملی پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
2018 کے انتخابات نے سندھ کے بعض بڑے خاندانوں کو تقسیم کردیا۔ تاریخ میں پہلی مربتہ جی ایم سید کا خاندان سیاسی طور پر تقسیم ہوا۔ سید کے پوتے علی رضا شاہ نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ جبکہ دوسرا پوتہ پیپلزپارٹی کے خلاف الیکشن لڑ رہا ہے اسی طرح سے گھوٹکی کے مہر اور تھرپارکر کے ارباب خاندان بھی تقسیم ہوئے۔
یہ انتخابات ریاستی اداروں اور خود سیاسی جماعتوں کے لئے بڑا امتحان ہیں۔ سب کی دعا ہے کہ انتخابات خیر خیریت سے ہوں۔ہر ادارہ ہر سیاسی جماعت اور امیدوار اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔ تاکہ الیکشن کے بعد ملک کسی بحران کا شکار نہ ہو۔ الیکشن کمیشن پہلی مرتبہ پولنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔ انتخابی عمل فنی یا مکینکی لحاظ پرچاہے کتنا ہی شفاف ہو، لیکن عوام اگر سمجھتے ہیں کہ انہیں چیٹ گیا گیا ہے، ایسے انتخابات نمائندہ اور عوام کی رائے اور امنگوں کی عکاسی نہیں کریں گے۔ جیسے انصاف کے لئے کہا جاتا ہے کہ ’’ نہ صرف یہ کہ انصاف ہو ، بلکہ لوگوں کو نظر آئے کہ انصاف ہوا۔ حالیہ انتخابات میں اسٹیک بہت بڑے ہیں۔ جس کی وجہ سے خونریزی کا خطرہ ہے۔یہ خوف اور غیر یقینی صورتحال اپنی جگہ پر کیا واقعی شفاف انتخابات ہو جائیں گے؟ نتائج وہی نکلیں گے جس کے لئے لوگ پرچی ڈالیں گے؟ اور یہ بھی کہ کیا انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا جائے گا؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ انتخابات ملک کے سب سے کم ساکھ والے انتخابات قرار دیئے جائیں گے۔

مزیدخبریں