انتخابی نتائج۔۔۔ خدشات اور توقعات۔۔۔!
23 جولائی 2018 2018-07-23

2018ء کے عام انتخابات کے پولنگ ڈے (ووٹ ڈالنے کے دن) 25 جولائی میں وقت کتنا رہ گیا ہے دو تین دن یا پھر 60 ،70سے بھی کم گھنٹے اور بس پھر 25 جولائی کی رات کو انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اور جس نے جو بویا ہے اُس کا کاٹا سامنے آ جائے گا اور جس کسی کے لیے کوئی اور اگر بو رہا ہے تو اُس کا نتیجہ بھی سامنے آ جائے گا۔ دوسروں کی کردار کشی اور اُن کی نااہلی، نالائقی اور عدمِ مقبولیت اور اپنی صفائی ، اہلیت، قابلیت اور مقبولیت کے بلند بانگ دعوے ، اپنے لیے عوام کی پُر جوش حمایت کی توقعات اور دوسروں کو رد کرنے کی خوش گمانیاں ، مختلف اداروں کی طرف سے کیے جانے والے انتخابی جائزوں سرووں میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی عوام میں پذیرائی اور مقبولیت کے بارے میں پیش کیے جانے والے اعدادو شمار اور آئے روز ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز اور الیکشن سپیشل پروگراموں میں ’’عقلِ کل بنے اور اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنے والے ‘‘ اینکرز خواتین و حضرات اور ماہر تجزیہ نگاروں کے ماہرانہ تبصرے، تجزیے اور اس طرح کے انتخابات سے متعلقہ دیگر امور کس حد تک حقیقت کا روپ دھاریں گے 25 جولائی کی شام کو بیلٹ باکسز سے نکلنے والے بیلٹ پیپرز (ووٹ) ان کا حتمی فیصلہ کر دیں گے۔ تاہم اب بھی جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور انتخابی مہم اختتامی مرحلے میں ہے کچھ نکات ایسے واضح اور عیاں ہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر انتخابات میں اداروں کی مبینہ مداخلت اور متوقع انتخابی نتائج کے بارے میں اشارے کیے جا سکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں منعقد ہونے والے قومی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران کم ہی اس طرح کے ٹھوس خدشات سامنے لائے جاتے رہے کہ ملک کے مقتدر اور دائمی ادارے اپنی حدود و قیود کو پامال کرتے ہوئے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے درپے ہیں۔ مئی 2013ء کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد جناب عمران خان نے ان میں دھاندلی اور مبینہ 35 پنکچروں کی دوہائی دینی شروع کی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چےئرمین جناب آصف علی زرداری نے بھی انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ان پر آ ر ۔اوز(ریٹرنگ افسران) کا الیکشن ہونے کی پھبتی کسنی شروع کی ۔اُن کے نزدیک عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ریٹرنگ آفیسرز نے سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی ایما پر انتخابی نتائج کو ایک جماعت (مسلم لیگ ن ) کے حق میں تبدیل کرنے کے لیے دھاندلی کی۔ لیکن سچی بات ہے کہ جناب آصف علی زرداری کے آر۔ اوز پر عائد کردہ الزامات کو قومی حلقوں نے کوئی خاص اہمیت نہ دی۔ تاہم جناب عمران خان کے پینتیس پنکچروں کے الزامات اُس وقت ضرور اہمیت اختیار کر گئے جب اُنھوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا اور ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کی پیشن گوئیاں کرنے لگے۔ اس بار صورتحال ماضی کے مقابلے میں کسی حد تک مختلف ہے اعلیٰ عدلیہ کے کچھ فیصلوں اور عزت مآب ججز کے کچھ ریمارکس اور نیب کی پھرتیاں اور ایک خاص سیاسی جماعت کے متوسلین اور متعلقین کے خلاف کاروائیاں اور کچھ کو چھوٹ یا الیکشن کے بعد اُن کے معاملات دیکھنے کی رعایت وغیرہ ایسے اقدامات ہیں جنہیں ملک کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن اپنے خلاف اور اپنے مخالفین کے حق میں کیے جانے والے اقدامات گردانتی ہے۔ اس میں کس حد تک مبالغہ آرائی یا الزام تراشی کا پہلو ہے اس سے قطع نظر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اس مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا یا اعلیٰ عدلیہ پر الزام تراشی گرداننا ممکن نہیں۔ اس میں بہر کیف کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے۔ اسی طرح ملک کی سلامتی اور دفاع کے ذمہ دار اور ملک کے انتہائی مضبوط اور منظم ادارے مسلح افواج بالخصوص بری فوج اور اُس سے متعلقہ خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے ’’خلائی مخلوق‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اُس کا مقابلہ مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ خلائی مخلوق سے بھی ہے کوئی ایسا ڈھکا چھپا الزام نہیں۔ اس ضمن میں مسلم لیگ ن کے بعض الیکٹ ایبل اُمیدواروں کے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شامل ہونے اور بعض ٹکٹ یافتہ اُمیدواروں کے آخری وقت میں مسلم لیگ ن کے انتخابی نشان کو چھوڑ کر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کو ترجیح دینے اور اپنے لیے

جیپ کا انتخابی نشان لینے وغیرہ کے معاملات کو بطورِ مثالیں پیش کیا جاتا ہے۔ یقیناًمسلم لیگ ن کے ان خدشات اور شبہات کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے ساتھ فوج کی الیکشن ڈیوٹی میں تعیناتی کے حوالے سے بھی مسلم لیگ ن سمیت بعض سیاسی حلقوں کے خدشات اور شبہات سامنے آئے ہیں۔ تین لاکھ اکہتر ہزار کی تعداد میں فوج سے تعلق رکھنے والے جوانوں اور افسروں کا الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کرنا بذاتِ خود بہت بڑا اقدام ہے اس کے ساتھ پولنگ سٹیشن پر متعین مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران کو سکیورٹی کے علاوہ کچھ دیگر فرائض تفویض کرنا بھی شکوک و شبہات کا باعث بنا ہے۔ اچھا ہوا الیکشن کمیشن سمیت مسلح افواج کی طرف سے اس بارے میں ضروری وضاحتیں سامنے آ چکی ہیں ورنہ اس سے فوج کے بارے میں خواہ مخواہ کے منفی جذبات کو ہوا مل رہی تھی۔ اگلے دن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں فوج کے الیکشن سپورٹ سنٹر کا دورہ کیا اور واضح لفظوں میں کہا کہ فوج دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر عوام کے لیے آزادانہ طور پر جمہوری حق استعمال کرنے کا ساز گار ماحول یقینی بنائے گی اور مینڈیٹ اور مقررہ حدود میں الیکشن کمیشن سے تعاون کیا جائے گا۔ اسی طرح فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کا الیکشن سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تین لاکھ اکہتر ہزار فوجی جوان ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز میں تعینات ہونگے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح نے سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ میں اپنی بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ پاک فوج اور سول سکیورٹی اداروں کے آٹھ لاکھ سکیورٹی اہلکار جبکہ الیکشن کمیشن کاسات لاکھ عملہ الیکشن کے دوران اپنے فرائض انجام دے گا۔ پولنگ سٹیشن پر متعین فوجی عملہ پریزائڈنگ آفیسر کے ماتحت کام کرے گا۔ فوج سکیورٹی اور پُر امن انتخابات میں معاونت کرے گی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس موقع پر مسلح افواج سے تعلق رکھنے والی ایجنسیوں کی الیکشن کے معاملات میں مداخلت اور فوجی افسران کے پریزائڈنگ آفیسرز کو لکھے گئے خط کے حوالے سے بتایا کہ ہم نے خط لکھنے کے معاملے کو فوج کے ساتھ اُٹھایا تھا اور واضح طور پر بتایا تھا کہ ایسا مناسب نہیں جس پر فوج کی طرف سے ہم سے معذرت کی گئی۔الیکشن کے حوالے سے بعض حلقوں کے تحفظات ، خدشات اور شکوک و شبہات ان وضاحتوں کے بعد بھی کم ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اداروں اور شخصیات کا عمل اُن کی وضاحتوں اور مقررہ مینڈیٹ کے حدود کے اندر سامنے آئے گا تو پھر اس طرح کے خدشات ، تحفظات اور شکوک و شبہات خود بخود کمزور ہو جائیں گے یا اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ یہاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے عزت مآب سینئیر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے تین چار دن قبل دئیے جانے والے ریمارکس کا حوالہ دینا بے جا نہ ہوگا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے لا پتہ افراد کے کیس کی سماعت کے دوران آرمی چیف سے اپیل کی کہ اپنے لوگوں کو روکیں، عدلیہ میں ججز کو اپروچ کیا جا رہا ہے ۔ جج کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔ اُن کی زندگیاں محفوظ نہیں اور (آرمی کے لوگ) اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں جناب شوکت عزیز صدیقی نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ حساس ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کو سمجھیں ۔ عدلیہ ، ایگزیکٹو اور دیگر اداروں میں مداخلت بند کی جائے ۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے۔ اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کے لیے تباہ کن ہو گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے تحریری فیصلے کے نکات ایسے نہیں ہیں جنہیں رد کیا جاسکے۔ اب کچھ اور عوامل کی طرف آتے ہیں جو الیکشن نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ پچھلے ایک آدھ ہفتے کی ملک کی سیاسی صورتحال ، انتخابی مہم کے خدو خال اور مختلف سیاسی جماعتوں اور اہم سیاسی رہنماؤں کی سر گرمیوں ، بیانات ، تقاریر اور عوامی ردِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کی احتساب عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں میں گرفتاری کے لیے لندن سے واپسی اور اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے طور پر موجود ہونے سے مسلم لیگ ن کو بھر پور تقویت ملی ہے اور اُس کا روایتی ووٹر ہی متحرک نہیں ہوا ہے بلکہ خاموش عوامی حلقوں میں بھی اُس کے لیے ہمدردی اور حمایت کے جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ حلقوں کی طرف سے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت بالخصوص میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے مابین اختلافات کی خبروں کو ہوا دینے اور اس ضمن میں 13 جولائی کو میاں محمد نواز شریف کی لاہور آمد کے موقع پر میاں شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگی کارکنوں کی ریلی کے لاہور ائیر پورٹ پر نہ پہنچ سکنے کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے لیکن اس سوچ کو عوام میں پذیرائی نہیں ملی ہے۔ اس کی بجائے مسلم لیگی حلقوں میں ہی نہیں غیر جانبدار عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر مضبوطی کے ساتھ اُبھرا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اپنی شخصیت ، اپنی صلاحیتوں ، اپنی سوچ، اپنی فکر ، اپنے ویژن اور طے شُدہ پارٹی پالیسی کے مطابق مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو بڑے مؤثر انداز میں لے کر چل رہے ہیں اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

جہاں تک ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کا تعلق ہے بلا شبہ پچھلے کچھ عرصے میں انتخابی جائزوں اور سرووں میں اسے مقبولیت میں آگے بڑھتے اور مسلم لیگ اور اس کی مقبولیت میں فرق کو کچھ کم ہوتے ہوئے دیکھایا جاتا رہا ہے۔ عام تاثر بھی یہی ہے کہ مئی 2013ء کے انتخابات کے مقابلے میں تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں اضافے کی کوششیں کسی حد تک کامیاب رہی ہیں لیکن اب جبکہ پولنگ ڈے میں 60 ،70 سے بھی کم گھنٹے رہ گئے ہیں تحریک انصاف مقبولیت کی اپنی انتہائی بلند ی (Peak ) پر پہنچنے کے بعد ڈھلان پر گامزن ہو چکی ہے۔ اس کے انتخابی جلسوں جن سے عمران خان نے خطاب کرنا ہوتا ہے پنڈال میں خالی کرسیاں ہی اس کی گواہی نہیں دیتی ہیں بلکہ جناب عمران خان کا تازہ ترین بیان کہ معلق پارلیمنٹ بد قسمتی ہوگی ۔اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دونگا چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ جناب عمران خان واقعی ڈھلان کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔


ای پیپر