’’اور ۔۔۔ میرا فیوز اُڑ گیا‘‘
23 جولائی 2018 2018-07-23

’’مجھے تقریر کرنے کا بڑا شوق ہے‘‘ ۔۔۔ جس طرح میرے دوست طارق فاروق کو ٹیلی ویژن پر اینکر بننے کا شو ہے ۔۔۔؟

استاد کمر کمانی نے مجھے بار ہا ۔۔۔ ایسی ’’پنگے بازی‘‘ سے منع کیا ہے مگر لفظ ’’ڈھیٹ‘‘ شاید ہم جیسوں کے لیے ہی ایجاد ہوا ہے ۔۔۔ یہ کمپیوٹر کا زمانہ ہے میں نے گاڑی میں پندرہ سال پرانے گانوں کی CD لگا دی۔ اس دور کا سب سے بڑا گلوکار گا رہا تھا جو مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔ آپ کو یہ بھی پتہ ہے کہ میں گاڑی چلاتے ہوئے اکثر اوقات سو جاتا ہوں ۔۔۔ CD لگی ۔۔۔ گانا چلا ۔۔۔ اور مجھے نیند آ گئی ۔۔۔ گانا چلتا رہتا تو شاید میں جاگتا رہتا یا گانے میں مگن رہتا ۔۔۔ مگر بلا کی خاموشی چھا گئی ۔۔۔ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں ہڑ بڑا کے اُٹھ بیٹھا ۔۔۔

گاڑی میں اتنی خاموشی کیوں ۔۔۔ سب چپ ۔۔۔ میں نے CD نکالنا چاہی کہ بدل ڈالوں ۔۔۔

ارے یہ کیا ۔۔۔؟ ’’کوئی CD نہ تھی ۔۔۔‘‘ میں نے کچھ CD چھپا کر ’’ڈیش بورڈ‘‘ میں رکھی تھیں میں نے وہ چیک کرنا چاہیں ۔۔۔ تو احمدؔ آہستہ سے بولا ۔۔۔ ’’میں نے جب آپ سوتے ہوئے گاڑی چلا رہے تھے سب کی سب CDs گاڑی سے باہر پھینک دی تھیں مجھے یہ ’’وقیانوسی‘‘ گانے بالکل پسند نہیں ۔۔۔!

ہم نے سو کلو میٹر کا فاصلہ نہایت خاموشی سے طے کیا مجھے پھر نیند آنے لگی اور اُمید تھی کہ گاڑی کسی پہاڑی سے جا ٹکرائے گی یا کھائی میں گر جائے گی کہ احمدؔ نے اپنے موبائل سے ایک تار لگا کر گاڑی کے CD پلےئر میں لگا دی ۔۔۔ ’’یہ ہے دنیا کا سب سے بڑا گلو کار MNM‘‘ ۔۔۔احمدؔ بولا ۔۔۔ میں نے توجہ دی اور کافی دیر تک اُس گانے کے سارے بول سر سے گزر گئے ۔۔۔؟

وہ بولتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔ ایک منٹ میں سینکڑوں باتیں کرتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔ وہ گالیاں بھی بک رہا تھا ۔۔۔ ایک سکھ دسویں منزل پر کام کر رہا تھا کہ کسی نے آواز دی بلیر سنگھ ۔۔۔؟!

اس دوران سڑک کنارے کھڑی ریڑھی پر امرود دیکھ کر میں نے گاڑی سائیڈ پر روک دی ۔۔۔

اگر یہ گلو کار MNM ذرا آہستہ گاتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ موصوف کے گانوں کے اشعار ہمارے کچھ بگڑے سیاستدانوں سے ملتے جلتے ہیں جو منہ میں آئے کہہ دو، نہ بات کہنے سے پہلے سوچو نہ بعد میں ۔۔۔

سب دوست ہنس دئیے ۔۔۔ اس دوران بڑے سے اخبار کے ٹکڑے پر وہ ایک کلو امرود کاٹ کے لیمو نچوڑ کے لے آیا اور ہم نے کھانے شروع کر دئیے ۔۔۔ بھائی آپ امرود کاٹ کر لے آئے آپ ثابت امرود لے آتے ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ تو وہ اک دم بولا ۔۔۔ پھر آپ نے کہنا تھا کیڑے بڑے ہیں ان امرودوں میں(آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ۔۔۔)

احمد نے بتایا ۔۔۔

’’بھارت میں آٹھ ہزار پانچ سو یونیورسٹیاں ہیں جبکہ امریکہ میں پانچ ہزار پانچ سو یونیورسٹیاں ہیں جبکہ پوری اسلامی دنیا میں صرف آٹھ سو یونیورسٹیاں ہیں ۔۔۔ پاکستان میں شاید جعلی سندیں بانٹنے والی نکال کے اسی (80) یونیورسٹیاں بھی نہ ہوں ۔۔۔ اس وقت سیاستدان اپنی اپنی ہانک رہے ہیں اور عوام وطیرہ حیرت ہیں کہ ان سیاستدانوں نے اس قدر کام کئے ۔۔۔؟ چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ جانی پہچانی مجرم ایان علی کراچی یونیورسٹی میں نہ صرف لیکچر دے رہی تھی بلکہ (مرد و خواتین) کے ساتھ سلفیاں بھی بنوا رہی تھی اور ماحول کو فل انجوائے کر رہی تھی۔ (ایان علی نے میرے سمیت بہت سے گنہگاروں کے نظریات یکسر بدل کر رکھ دئیے ہیں ۔۔۔؟) جیسا کہ اس بار اس الیکشن میں بھی کچھ لوگ بدلے ہوئے نظریات کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں ۔۔۔؟!

ہم سب چپ کر گئے ۔۔۔ اور میں شرمندہ ہو گیا ۔۔۔ بات شروع ہوئی تھی میرے اس بیان سے ۔۔۔ کہ مجھے تقریر کرنے کا بڑا شوق ہے ۔۔۔ میں ہر بار نئی طاقت، توانائی اور ہمت سے اسٹیج پر چڑھتا ہوں اور مائیک ہاتھ میں پکڑ کر السلام علیکم کہتا ہوں ۔۔۔ اور ساتھ ہی ’’ میرا فیوز اُڑ جاتا ہے‘‘ ۔۔۔

اک الطاف حسین تھا دوسرے پرویز خٹک ہیں اور تیسرا MNM ہے ۔۔۔ جب دل چاہتا ہے تقریر جھاڑ دیتے ہیں ۔۔۔ جو دل چاہتا ہے کہہ دیتے ہیں ۔۔۔ جتنی دیر دل چاہتا ہے بولتے رہتے ہیں ۔۔۔ لوگ مجبور ہیں سنتے رہتے ہیں ۔۔۔ MNM کو کوئی نہیں پوچھتا ۔۔۔ کہ تم روانی میں گالیاں کیوں بک جاتے ہو ۔۔۔ جبکہ میں تو اپنے بیٹے کو کم از کم جواب دہ ہوں ۔۔۔ میں تو اپنی پسند کی سی۔ڈی بھی نہیں لگا سکتا۔۔۔ اپنی مرضی کا گانا نہیں سن سکتا کہ مجھے نئی نسل کو جواب دینا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں بڑے شوق سے اسٹیج پر آتا ہوں مائیک پکڑتا ہوں اور تقریر کرنے لگتا ہوں ۔۔۔

بڑا جوشیلہ خطاب کرنا چاہ رہا ہوتا ہوں ۔۔۔ بہت سے سچ اگلنے لگتا ہوں ۔۔۔ کچھ حقائق بیان کرنے لگتا ہوں مگر وہی سادہ باتیں شروع کر دیتا ہوں ۔۔۔ فضول، بے مقصد بد مزہ باتیں ۔۔۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے ۔۔۔ میں شاید حکومت، اداروں یا بزرگوں کو تو جواب دہ نہیں ہوں ۔۔۔ لیکن میں ’’احمد بیٹے‘‘ کے سامنے تو جواب دہ ہوں ۔۔۔ اور یہ سوچ کر میری اسٹیج پر کھڑے کھڑے ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں ۔۔۔ (میں Over smart بننے سے باز آ جاتا ہوں کہ الیکشن تو ہر پانچ سال بعد آتے رہیں گے ۔۔۔ تقریرں، دعویٰ اور اِک دوسرے کی تضحیک والی باتیں تو سدا یاد رہیں گی ۔۔۔؟)

’’ اور ۔۔۔ میرا فیوز اُڑ جاتا ہے ۔۔۔‘‘


ای پیپر