25 جولائی کے بعد !
23 جولائی 2018 2018-07-23

شہنشاہ ایران کے دور میں ایر ان بہت ترقی یافتہ تھا اور یورپین ممالک کے ہم پلہ تھا۔ ایک دفعہ شاہ ایران یورپ کے دورے پر گئے تو یورپین صحافیوں نے انہیں گھیر لیا۔ شاہ ایران سے دیگر سوالات کے علاوہ یہ سوال بڑے شد ومد سے پوچھا گیا کہ آپ کے ملک کو دیکھ کر یوں لگتا جیسے یہ ایک یورپین ملک ہے، لیکن آپ کے ملک میں یورپین ممالک کی طرح جمہوریت نہیں ہے۔
شاہ نے کہا کہ میرے جواب دینے سے پہلے آپ میرے ایک سوال کا آپ جواب دیں ۔ شہنشاہ نے پوچھا کہ آپ کے ممالک میں لٹریسی ریٹ (Literacy rate ) کیا ہے! تقریباً سب نے کہا کہ سو فیصد۔ شاہ نے کہا کہ جس دن میرے ملک کا لٹریسی ریٹ پچاس فیصدبھی ہو گیا تو میں اسی دن اپنے ملک میں ’ جمہوریت ‘ کا نفاذ کر دونگا۔ یہ الگ بات ہے کہ شاہ ایران کو یہ موقع ہی نہ ملا۔ہمارے ملک میں لٹریسی ریٹ زوال پذیر ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان (2016-17 ) کے مطابق ہمارے لٹریسی ریٹ میں 2فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
قران شریف میں اللہ فرماتے ہیں ، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے میں کوئی فرق ہی نہیں ہے ۔اس لٹریسی ریٹ کے ساتھ ہم عوام سے توقع باندھے بیٹھے ہیں کہ وہ 25 جولائی کو صحیح چوائس کریں گے ۔ ایسے نمائندے چنیں گے جو ملکی مفاد کی خاطر اپنے ذاتی مفادات قربان کرنے کی مثالیں قائم کر دیں گے۔ میرٹ و قابلیت کی فرماں روائی ہر سو نظر آئیگی۔ اقرباء پروری و کرپشن کا نام و نشان مٹ جائیگا ۔ ملک ترقی کی منازل کچھ یوں طے کریگا کہ دنیا کے لیے مثال بن جائیگا۔ یہ توقعات کوئی فاترالعقل شخص ہی باندھ سکتا ہے۔25جولائی کے الیکشن کے سلسلے میں ایک رجائیت پسند ہونے کے ناطے اچھی بات ذہن میں یہ آتی ہے کہ اس ملک میں دو نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنا عرصہ حکمرانی پورا کر چکی ہیں اور اب تیسری جمہوری حکومت کے وقوع پذیر ہونے کے لیے یہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔گزرے دس سال میں اس ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جوہردکھا ئے۔ ان دونوں نے جواس ملک کے معاشی حالات کے ساتھ کیا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے ،کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ذی شعور کو واضح نظر آرہا ہے، شاید اپنی معصوم عوام کو ابھی بھی پتہ نہ چلا ہو، کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ غریب عوام غربت کے پاتال میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔ آج کی یہ بات یاد رکھ لیں کہ جو اس ملک کے غریب عوام کے ساتھ ہونے جا رہا ہے ، اللہ کی پناہ ۔ مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آ رہا ہے کہ لوگوں کی چیخیں آسمان سنے گا۔ اس ملک میں اب متوسط طبقہ تو ختم ہو کے رہ گیا ہے ،اب یہاں یا تو مشکلوں سے دن گزارنے والے غریب رہتے ہیں یا شہزادوں کی سی زندگی گزارنے والے ارب کھرب پتی۔بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اس ملک میں نئی روایات قائم کر دی ہیں اور وہ ہیں کہ اپنے خاندانوں کے ساتھ باہر کے ممالک میں رہنا،وہیں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا، اپنا اور اپنے خاندانوں کا علاج باہر کے ملکوں میں کرانا، باہر کے ملکوں میں ہی جائیدادیں بنانا ، باہر کے ملکوں میں کاروبار کرنا اور باہر کے ملکوں کے بنکوں میں اپنی دولت محفوظ کرنے کی۔ اگرچہ نفرت ایک منفی جذبہ ہے اور میں حتیٰ المقدور اس سے پرہیز کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن نہ چاہنے کے باوجود پرویز مشرف سے مجھے نفرت ہے ۔ اس خود غرض اور بزدل کمانڈو نے اپنی فوج اور اس قوم کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس کی تفصیل کسی اور موقع پر لکھوں گا ۔ اس کے باوجود اگر دیانتداری کا پلو اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے تو اس کا دور ان دونوں نام نہاد جمہوریتوں سے معاشی طور پر کہیں بہتر تھا۔ یقین کریں اس کی لوٹ کھسوٹ ان دو خاندانوں ( شریف اور زرداری خاندان) کی لوٹ کھسوٹ کا عشر عشیر بھی نہیں تھی۔ رائج الوقت terminology کی وجہ سے میں ان دونوں ادوار کو جمہوری لکھ رہا ہوں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ یہ ادوار اس ملک کے دو حکمران خاندانوں کی مطلق العنانی کے دور تھے۔ کیا یہ آپ کو روشن کو نہیں ہے۔ ایک زرداری خاندان جو زبردستی اور بے شرمی سے اپنے آپ کو بھٹو خاندان بھی کہلواتا ہے اور دوسرا شریف خاندان۔تیسری دنیا کی غریب ا ور جہالت کی ماری عوام پر حکمرانی کرنے کا بھی اپنا ایک نشہ ہے، ایفیڈرین سے بھی زیادہ ۔ جسے اس کی لت پڑ جائے وہ اپنی جان تو دے سکتا ہے اس حکمرانی کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔اب زرداری خاندان ہی کو دیکھ لیں۔ یہ خاندان سارا سال دبئی یا یورپ کے کسی ملک میں رہتا ہے لیکن الیکشن کے آتے ہی پورے خاندان نے پاکستان میں ڈیرے لگا لیے ہیں۔ پورا خاندان سوائے ایک بیٹی کے ان الیکشن میں حصہ لے رہا ہے۔ زرداری صاحب اس ملک کے دوسرے سب سے بڑے صوبہ کے بے تاج بادشاہ ہیں ۔انھوں نے اس ملک کی غریب عوام پر حکمرانی کے لیے اپنے انتیس سالہ بیٹے کو میدان میں اتار دیا ہے۔ شکر ہے اس کائنات میں بیٹے دولت سے نہیں بنوائے جاتے بلکہ اوپر بیٹھے کائنات کے مالک کی مرضی سے بنتے ہیں۔اس ملک کے مستقبل کے حکمران کو اپنے ملک کی قومی زبان بھی نہیں آتی۔ اس جتنی اردو تو ہمارے انگریز حکمرانوں کو بھی آتی تھی۔ شہر شہر اپنی لکھی ہوئی تقریروں اور ٹوٹی پھوٹی اردو سے جیالوں کے دل گرماتا پھرتا ہے۔اسی طرح دوسرے حکمران خاندا ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اپنی دخترارجمند کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے ہیں۔آجکل دونوں جیل میں ہیں۔میاں صاحب کی طاقت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ انھوں ایک دفعہ پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے لیکر آج تک جیل حکام نے کسی سزا یافتہ قیدی کے کمرے میں ایئر کنڈیشنڈ نہیں لگوایالیکن میاں صاحب کے کمرے میں ائیرکنڈیشنڈ لگوا دیا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر نے کئی سال اس ملک کی جیلوں میں گزار دئیے لیکن کسی نے ایسی سہولت مہیا نہ کی۔پوری قوم جانتی ہے کہ موجودہ دور میں ادارے بہت کمزور ہیں اور افراد طاقتور۔ میاں صاحب اس ملک کے طاقتور ترین سیاستدان ہیں ۔
اس ملک کے اداروں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ میاں صاحب کوزیادہ دیر جیل میں رکھ پائیں۔ میاں نواز شریف سے محبت کرنے والوں کو نوید ہو کہ میاں صاحب زیادہ عرصہ جیل میں نہیں رہیں گے اور جلد جاتی عمرہ میں بیٹھے اپنی جماعت کے اجلاس منعقد کررہے ہوں گے۔لیکن ایک بات جو ان دونوں خاندانوں کے لیے باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ عوام ان دونوں خاندانوں کے انداز حکمرانی کا بہت تجربہ کرچکے ہیں۔ اب ان میں ان حکمرانوں کے ساتھ چلنے کا وہ جذبہ و سکت باقی نہیں رہا۔ اب ہر سو یہی کہا جا رہا ہے کہ اس ملک کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سیاسی حالات کے باریک بینوں کو یہ سوجھ رہی ہے کہ اس دفعہ عمران خان سب سے آگے ہوں گے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ۔ انھوں نے حکومت بنا بھی لی تو بہت کمزور حکومت ہو گی۔ یہ دونوں خاندان اور دوسری سٹیٹس کو (status quo ) کی طاقتیں اس کے پاوں کسی صورت جمنے نہیں دیں گی۔موصوف چونکہ خود بھی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی سے کوسوں دور ہیں اس لیے وہ بھی اپنی حکومت کومضبوط کرنے میں کوئی خاص کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔یوں ملک میں سیاسی انتشار و ہیجان برپاہو جائیگا ،جس کے نتیجہ میں معاشی بد حالی میں شدید اضافہ ہو گا۔ قوم بجائے ترقی و خوشحالی کے ، مصیبتوں میں گھر جائیگی۔ یہی منشا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی ہے۔ بیرونی دشمن طاقتیں عرصہ سے یہی پلان کر رہی ہیں جن میں انڈیا، اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ پیش پیش میں ہیں۔ان کے پیش نظر ایک ہی منزل ہے کہ اس مسلمان ملک سے ایٹمی اثاثے چھین لیے جائیں جن کی وارث اس ملک کی افواج ہیں۔ ایسے میں آخری امید ملکی ادارے ہونگے جنھیں اس ملک کے حکمرانوں نے کمزور کر کے رکھ دیا ہے۔
اللہ اس ملک و قوم پر رحم فرمائے۔


ای پیپر