5 جولائی تا 25 جولائی
23 جولائی 2018 2018-07-23

وطن عزیز کی تاریخ میں ایوب خان، یحییٰ خان کا قصہ تو پرانا ہوا البتہ ضیاء الحق، پرویز مشرف کے 5 جولائی اور 12 اکتوبر کے مارشل لاء تو یاد بھی رہیں گے اور سمجھ بھی آتے ہیں لیکن 25 جولائی 2018ء انتخابات کی صورت میں لگنے والے مارشل لاء کو مؤرخ کیا نام دے گا۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ 25 جولائی کے دن کی راہ ہموار کرنے کے لیے بی بی شہید کر دی گئیں۔ نوازشریف نا اہل کر دیئے گئے، حنیف عباسی تو ایک جنبش ابرو کی مار نہ نکلے۔ قانون کا طالب علم ہونے کے ناتے پریشان ہونا ایک لازمی امر ہے جس میں جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کے جوڈیشل ایکٹیوزم کے منفی اثرات سے ابھی عدلیہ نکل نہ پائی تھی کہ موجودہ چیف جسٹس صاحب کو پہلے شوکت اللہ پھر فیصل رضا عابدی اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس صدیقی صاحب نے لاڑکانہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے معاملے میں ریمارکس دے کر متنازع بنا دیا۔ ابھی سوشل میڈیا پر وہ بازگشت ختم نہ ہوئی تھی کہ جسٹس صدیقی صاحب نے ایک تقریر میں آئی ایس آئی کو عدالتی امور میں بھرپور مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ عدلیہ اور آئی ایس آئی کے متعلق یوں کھلے عام بات اور بات بھی ہائی کورٹ کا ایک دیانتدار جج کرے ایک امیدوار کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان ہسپتال کا دورہ کرے جو چیف جسٹس کے نام اپنی زندگی لگانے کی دعا بھی کرے اس شیخ رشید کے مخالف امیدوار شیخ رشید 7 سال پرانے مقدمے میں رات گئے عمر قید سزا سنا دی جائے اور عدالت کے احاطہ سے ہی گرفتار کر لیا جائے۔ عوامی سطح پر ان انتخابات کو دیکھا جائے تو یہ ملکی تاریخ کے پہلے انتخابات ہوں گے جن میں ووٹر باقاعدہ اپنے ووٹ کی قیمت لیں گے۔ اور یہ واحد انتخابات ہیں جن میں وطن عزیز کے غریب اور مزدور ، کسان اور ہاری کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عمران اور قادری کے دھرنوں سے لے کر نواز شریف، مریم نواز اور حنیف عباسی کی سزا اور گرفتاریاں، سزاؤں کو سنانے میں عجلتوں اور چھٹیوں کے بعد اپیلوں کی سماعتیں یہ سب ایسے سوال ہیں جو سوالات کم اور کڑیاں زیادہ ہیں جو 25 جولائی کے دن کے لیے جوڑی جائیں تو کسی خاص نوعیت کی حکمرانی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ پاک فوج وطن عزیز کا ادارہ ہے ۔ شاید اس سے متاثر ہو کر ہماری عدلیہ کے ججز بھی جرنیلوں کی طرح کام کر رہے ہیں اور عمران خان کا انداز سیاست بھی کسی جرنیل سے کم نہیں۔ ان انتخابات کو اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو کبھی نواز شریف کا مقابلہ پیپلزپارٹی اس لیے کرنے میں دقت محسوس کرتی تھی کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے پاس بہت پیسہ ہے۔ قدرت خدا کی آج نواز شریف کے امیدوار پی ٹی آئی کے امیدواروں سے خائف ہیں اس لیے کہ ان کے پاس بہت پیسہ تھا۔ 1977ء سے لے کر اب تک تبدیلی کا ہی موسم چل رہا ہے۔ مجھے یاد ہے 1977ء کے انتخابات کے نتیجے میں بھٹو مخالف قوتوں نے انتخابات کے نتائج کے خلاف تحریک چلائی اور نہ جانے کس طرح اس کو تحریک نظام مصطفی کی تحریک کا نام دے دیا گیا۔ اس تحریک میں کافی گرفتاریاں ہوئیں ۔ میرے والد صاحب اور اعظم بھائی کی جیل حکام، تھانہ کچہری اور دیگر سوشل سیکٹرز میں کافی پذیرائی اور تعلقات تھے گوجرانوالہ کے ایک مخصوص پہلوانوں کے محلے کی خاتون آئیں جن کے دو بیٹے جیل میں تھے ایک تو پاکٹ ماری میں جیل گیا تھا ارو دوسرا تحریک نظام مصطفی میں دھر لیا گیا۔ میرے ابا جی نے پوچھا بہن یہ بتاؤ کہ تم لوگ واقعی نظام مصطفی کا نفاذ چاہتے ہو تو وہ بہت تلملا کر بولی (بھروا اساں منڈے ٹنڈے کرانے نیں) بھائی جان ہم نے اپنے بیٹوں کے ہاتھ کٹوانے ہیں۔ یہ تو ہمیں قومی اتحاد والے کہتے ہیں گرفتاریاں دو ورنہ ہمارا اسلامی نظام سے کیا تعلق ہے بہرحال میرے والد صاحب نے اس کے بیٹے کو جیل میں سہولتیں دلوا دیں آج جب میں حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کی پذیرائی دیکھتا ہوں چشم تصور میں یقین سے کہتا ہوں کہ آج اگر جگا گجر، اصغر بٹ (فاروق گنج والا) ، ملاں مظفر، ماجو پہلوان گوجرانوالہ ، بلو گھنٹہ گھریا، بالا پیرے دا ، ججی شاہیے دا، ہمایوں گجر ، پھولا سنیارا، فیجا نجا، حنیفا بابا ، سانی جاری، چراغ بالی، محمد خان ڈاکو وغیرہ ہوتے تو پی ٹی آئی کو دل سے قبول کرتے ہوئے تبدیلی کا ساتھ دیتے۔ کیوں کہ کوئی ایک ایسا شخص جس میں سیاسی ، اخلاقی، سماجی کمزوری ہو اور اُس کو پی ٹی آئی میں پناہ نہ لینی پڑی ہو۔ وطن عزیز میں تبدیلی کی ایسی ہوا چلی ہے کہ معزز ادارے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
مریم نواز شریف کے جیل جانے پر پچھلے دنوں سلیم صافی صاحب کی تحریر زبردست دلپذیر تھی کہ ’’میری ماں کو کس نے رلایا‘‘ سلیم صافی صاحب نے اپنا سابقہ فکری تعلق بھی جماعت اسلامی سے بتایا ان کی متاثر کن تحریر پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا سلیم صافی اور ان کے ہم فکر لوگوں نے کبھی سوچا 4 اپریل 1979 ء اور 27 اکتوبر 2007ء سے مسلسل غریبوں، ہاریوں، مزدوروں، کسانوں ، محرومیوں اور ذلتوں کے مارے لوگوں کی ماؤں کو کون رلا رہا ہے۔ میرے دوست خواجہ عماد الدین نے فون کر کے کہا کہ آصف لگتا ہے آپ پرو نواز شریف ہو گئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے میں نوازشریف کے خلاف ہوں نہ حق میں، میں تو اس سسٹم کے خلاف ہوں جو نواز شریف پیدا کرتا ہے کبھی قومی اتحاد کی قیادت کو بھٹو صاحب کے خلاف اکٹھا کرتا ہے، پھر بے نظیر شہید کے سامنے نواز شریف پیدا کر دیتا ہے۔ جب نواز شریف نے حق حکمرانی کا قضیہ کھڑا کیا کہ حق حکمرانی ہے کس کا؟ منتخب پارلیمنٹ کا یا کسی ادارے کا؟ تو نوا زشریف کے سامنے عمران خان کو پروجیکٹ کر دیا ، نوا زشریف کا بیانیہ تو دراصل پیپلزپارٹی کا بیانیہ ہی تھا جس کو نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پاش پاش کیا اور قدرت نے نواز شریف کے سامنے مکافات عمل کے طور پر عمران خان کو پیش کیا ہے۔ نوا زشریف جو بی بی شہید کے ساتھ کرتے رہے چند بد زبانوں کو تو نوازا ہی اس لیے جاتا تھا کہ وہ بی بی کے خلاف بکنے میں مشہور تھے۔ آج میاں صاحب کے خلاف مگر مجھے دکھ سے کہنا پڑتا ہے مریم نواز بھی مخالفین کی طنز کا نشانہ بن رہی ہیں۔ دراصل وطن عزیز ایک عجیب و غریب صورت حال سے دو چار ہے جس میں مکافات عمل، اداروں کا انحطاط، شخصیات، روایات اور اخلاقیات کی توڑ پھوڑ اکٹھے چل رہے ہیں۔ یہ سب کچھ بوٹ ، بندوق نہیں انتخابات کے ذریعے ، نافذ کیے جانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا 5جولائی اور 25 جولائی میں مجھے عجیب سی مماثلت نظر آ رہی ہے۔ ویسے بھی وطن عزیز میں جونیجو، جمالی، شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت و دیگر وزیراعظم رہ چکے ہیں کوئی بھی آجائے کیا فرق پڑتا ہے۔


ای پیپر