50شیڈز آف عمران ۔۔۔ووٹرز مینول گائیڈ
23 جولائی 2018 2018-07-23

اے اسیر خانہ زنجیر ۔ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے جانے سے پہلے ، پولنگ اسٹیشن کے اندر قدم رکھتے ہوئے ، اپنی ووٹ کی پرچی پر مہر لگانے سے پہلے صرف اتنا سوچئے کہ آپ نے کس بنیاد پر اپنا فیصلہ کسی نمائندے کے حق میں کیا ہے ؟ ۔وقت آیا چاہتا ہے جب آپ اس ملک کیلئے اپنا سب سے بڑا فریضہ سر انجام دیں گے ، بحیثیت پاکستانی قوم اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے ، یہ فیصلہ کریں گے کہ کون اس قابل ہے کہ آنے والے پانچ سالوں میں اس ملک کی باگ دوڑ سنبھال سکے ، آپ کے ووٹ کو عزت دے سکے۔ ایک فریق جیل میں بیٹھا آہ و زاری میں مشغول ہے ، ہمدردی کا ووٹ اس کی طرف جا رہا ہے لیکن آپ کو یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لینے کی ضرورت ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ چیئر مین تحریک انصاف عمران خان کو سمجھنے میں آپ سے کوئی غلطی ہو چکی ہے۔ آپ بھی لوگوں کی باتوں میں آ چکے ہیں۔ خبردار ! ایسا کرناملک کیلئے بالکل بھی درست نہیں ہے۔ اس لئے کیونکہ آپ ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں اور جسٹس شوکت صدیقی جیسی بہت سی آوازیں آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو آپ خدارا ایک لمحے کیلئے ان سب آوازوں کو بند کر دیں۔ ان سب بھونپوؤں پر میوٹ کا جادو چلا دیں۔ یہ بولتے رہیں مگر آپ نہ سنیں۔ ان کی چہرے دیکھیں اور حظ حاصل کریں۔ صرف اور صرف عمران خان صاحب کے افکار سمجھنے کی کوشش کریں۔ شاید آپ اس ملک کیلئے کوئی بہتر فیصلہ کر سکیں۔ سب سے پہلے آ پ کی نظر اصلی عمران خان کے خیالات و افکار پیش کرتے ہیں۔
لب خاموش ، قطار اندر قطار الفاظ تو جیسے صاحب ثروتوں کے غلام ، سچ میں جھوٹ کی آمیزش اس تیزی سے دھول اڑا رہی ہے کہ سچ کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ۔ چشم فلک ستر سالوں بعد پھر وہی نظارہ دیکھ رہا ہے ۔ تاریخ کے وہی کردار نئے چولے پہنے پھر آن موجود ہوئے ہیں۔آپ کو شاید ایسا لگے کہ یہ خطاب جسٹس شوکت صدیقی کا ہے۔ جی نہیں یہی تو غلط فہمی ہے جو عمران خان صاحب کے بارے میں ساری قوم میں پھیلی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب اسٹبلشمنٹ کے بنائے پتلوں کے مخالف رہے ہیں اور ہمارا قیاس ہے کہ وہ ان پتلوں کو آج بھی اچھا نہیں سمجھتے ہوں گے۔
ووٹ دینے سے پہلے آپ کو کچھ اور حقائق کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔جائزہ لیتے ہیں تحریک انصاف کے انتخابی نعروں کا۔ ایک دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ہے ، اضافی بجلی بنائی جا رہی ہے اور فی یونٹ 4روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔ اگر دہلی دور نہیں تو خیبر پختونخوا کون سا سات سمندر پار کوئی جزیرہ ہے۔ بجلی بلوں کے مطابق وہاں پر آج بھی بجلی فی یونٹ 8 روپے میں عوام کو فراہم کی جا رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے تحریک انصاف کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔
عمران خان صاحب نے ایک بار فرمایا تھا کہ ’’ شہباز شریف جنگلا بس سروس کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، عوام کو ابھی میٹرو بس کی ضرورت نہیں اور یہ کون سی میٹرو بس ہے جو اوپر بنائی جا رہی ہے ، اوپر ٹرین بنائی جاتی ہے ہم نے اگر پشاور میں کام کیا تو ہم اوپر سے ٹرین چلائیں گے۔ بس ہم نیچے چلائیں گے‘‘۔ یہاں بھی عوام نے ان کے افکار سمجھنے کی غلطی کی ۔ اصل میں عمران خان صاحب بس سیاسی بیانات کی حد تک شہباز شریف کیخلاف ہیں۔ اصل میں وہ ان کے بڑے فین ہیں۔ انہوں نے پشاور میں ریپڈ بس سروس کا آغاز کیا اور اس کا بڑا حصہ شہر کے اوپر بن رہا ہے۔ مگر وائے افسوس پاکستانی عوام نے خان صاحب کے خیالات نہیں سمجھے اسی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر خان صاحب سے وہ ایک ریپڈ بس بھی نہیں بن پائی ۔ بدقسمتی سے یہی ایک بڑا منصوبہ انہوں نے شروع کیا اور اسی منصوبے نے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ پشاور میں جگہ جگہ ریپڈ بس کی آخری نشانیاں موجود ہیں اور دوسری طرف آج عدالت فرما رہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک بلیک لسٹ کمپنی کو ریپڈ بس کا ٹھیکہ دیا اور کرپشن کی وجہ سے 49ارب سے بڑھ کر ریپڈ بس کی لاگت 67ارب تک پہنچ گئی اور مکمل پھر بھی نہ ہو سکی ۔
ذکر کرتے ہیں خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کا ۔پی ٹی آئی کے ٹی وی ایڈ میں ایک ہسپتال دکھا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کے میدان میں بہت کام ہوا ہے جس کا پول اگلے ہی روز کھل گیا کہ معلوم ہوا کہ یہ تو پنجاب کے کسی ہسپتال کا منظر ہے ۔ جس حکومت نے صحت میں اتنے کام کئے ہوں کیا ان کے پاس اپنے صوبے میں کسی ایک ہسپتال سے بھی ایسی منظر کشی نہیں کی جا سکتی تھی کہ معلوم ہو کہ بڑا شاندار انتظام والا ہسپتال ہے ۔ بلین ٹری پر بات کر کے وقت کیا ضائع کرنا چلیں وہاں پر پولیس کے نظام پر بات کر لیتے ہیں۔ اتنا شاندار نظام ہے عام انتخابات میں صرف ایک صوبے میں الیکشن کمپین پر دہشت گردوں کے حملے ہوئے اور وہ واحد صوبہ خیبر پختونخوا ہی ٹھہرا ۔
عمران خان صاحب کو سمجھنے کی کوشش کریں وہ رانجھا رانجھا کرتے خود رانجھا ہو چکے ہیں۔ پتلوں سے نفرت کرتے کرتے خودپتلا بن چکے ہیں مگر ووٹ کے حقدار صرف وہی ہیں۔ کیونکہ باقی سب کو موقع مل چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ان کی کارکردگی سب کے سامنے لیکن ان کے سجدوں ، چلوں اور پنکی نورانی محفلوں کی ہی کچھ لاج رکھ لینا۔
اے اسیر خانہ زنجیر
تم نے یاں غل مچا کہ کیا پایا ؟


ای پیپر