وادی میں بھارتی فوج کی درندگی
23 جولائی 2018 2018-07-23

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظا لم جاری ہیں۔ بھارتی قابض فوج نے ضلع کلگام میں سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔ فوج نے نوجوانوں کی شہادت کے بعد کشیدگی کے پیش نظر علاقے کا مکمل محاصرہ کرلیا اور علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی۔
شمالی کشمیر سرحدی ضلع کپوارہ کے باترگام علاقہ میں لاپتہ ہوئے 7بہنوں کے واحد بھائی کی جلی ہوئی نعش نزدیکی جنگل سے پراسرارحالت میں برآمد کی گئی جس کے ساتھ ہی علاقے میں کہرام بپا ہوا۔تیسری جماعت کا طالب علم 7سالہ عمر فاروق کچھ دن قبل علاقے سے لاپتہ ہوا تھا۔جس طرح معصوم طالب کے جسم کو جلایا اور مسخ کیا گیا ہے وہ انسان کے تصور سے باہر ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس’ع‘ کے چیرمین میرواعظ عمرفاروق نے حکمرانوں کی جانب سے مرکزی جامع مسجد پر بار بار کی قدغن ، نماز کی ادائیگی پر پابندی، شہر خاص کو مقفل کرنے ، بندشیں اور رکاوٹوں کے نفاذ کو ایک لاحاصل مشق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے حربوں سے حق و انصاف پر مبنی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔پولیس مظالم کا تو یہ حال ہے کہ شمالی کشمیر میں کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید کشمیری کی نعش واپس کرنے کیلئے خواتین احتجاج کر رہی تھیں کہ ان کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے مرچی گیس کا استعمال کیا۔ بھارتی فوج نے رواں ماہ کے آغاز پر تحریک آزادی کے رہنما برہان وانی کی دوسری برسی سے قبل ہی علاقے میں ناکہ بندیاں شروع کردی تھیں اور اس دوران مظالم کے دوران تین کشمیریوں کو بھی شہید کیا تھا۔
دو برس قبل بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ وانی کی شہادت کے فوراً بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں سو زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی آبادی 12 ملین کے قریب ہے جس میں 70 فیصد سے زائد مسلمان ہیں۔ اس خطے میںیوں تو آزادی کی تحریک 1947 سے ہی شروع ہو گئی تھی مگر 1989ء سے اس میں تیزی آگئی اور بھارتی فوج اور دیگر فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہزار ہا بے گناہ، نہتے کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ بھارت اور پاکستان 1947ء میں تقسیم ہندکے بعد سے اب تک اس علاقے کے تنازعے پر دو جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
بھارتی حکومت اپنی ناکامیوں اور نا اہلیوں کو چھپا کر پاکستان پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کی تربیت کر کے اور انہیں مسلح کر کے مقبوضہ کشمیر میں بھیجتا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جاتی ہے۔ عالمی طاقتیں ، اقوام متحدہ اور او آئی سی بھارتی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرے تاہم بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان کے خلاف اور زیادہ طاقت کا استعمال کرے گی کیونکہ یہ پاکستانی حمایت یافتہ عسکریت پسند ہیں۔ یوں بھارتی حکومت کے دعووں کے برعکس تقریباً تمام کشمیری علیحدگی پسندوں کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اس
خطے میں بھارتی اقتدار اور وہاں جاری فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج میں شریک ہوتے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشمیر کے حوالے سے حکمت عملی دو چیزوں پر مبنی ہے۔ ایک تو کشمیر کی تعمیر ترقی کے لیے مالی امداد اور ساتھ ساتھ علیحدگی پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال۔ گزشتہ چار سالوں میں یہ پالیسی کامیاب نہیں رہی کیونکہ اس سے ریاستی حکومت اور نئی دہلی حکومت کی مخالفت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال نہیں چل سکتا۔
آج کل مقبوضہ کشمیر ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ نئی دہلی کا الزام ہے کہ پاکستان اس علاقے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے جب کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مودی کی پالیسی ہے۔مودی کی یہ جارحانہ کشمیر پالیسی دراصل ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھارتی مسلمانوں کے بارے میں بحیثیت مجموعی خیالات کا نتیجہ ہے۔گورنر راج کے بعد مقامی حکومت نے سری نگر اور وادی کے کئی دیگر حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
کشمیر کے معاملات پر نظر رکھنے والے زیادہ تر مبصرین کے خیال میں مستقبل قریب میں کشمیر کے حالات میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کی بھارتی حکمت عملی کسی حد تک کام کر چکی ہے تاہم نئی دہلی کو جلد یا بدیر اس بحران کا کوئی سیاسی حل ہی تلاش کرنا ہو گا۔
بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کچلنے میں ناکامی کے بعد اب نیا آپریشن شروع کیا ہے جس کے تحت وادی میں این ایس جی (نیشنل سیکیورٹی گارڈز) کو تعینات کیا جائے گا جو بلیک کیٹس کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ این ایس جی کی ایک ٹیم کو مقبوضہ وادی میں تعینات کردیا گیا ہے جہاں ان کی ٹریننگ چل رہی ہے۔
کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک میں کشمیری نوجوان اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق کشمیر میں مردوں کی کْل آبادی کا 60 فیصد 30 برس سے کم عمر افراد پر مبنی ہے جبکہ 35 برس سے کم عمر مردوں کی تعداد 70 فیصد بنتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں بھارتی فوج اور پولیس کے مظالم اور غلامانہ سلوک کے بعد اب عام کشمیری بھی مجاہدین کے حامی بن رہے ہیں۔ وہ مجاہدین کو صرف پناہ ہی نہیں دیتے بلکہ ضرورت پڑنے پہ انہیں بھارتی فوجیوں سے بچاتے بھی ہیں۔ کچھ عرصہ سے یہ منظر بھی دیکھنے میںآئے ہیں کہ بھارتی فوج کسی جگہ مجاہد کو گرفتار کر نے جائے‘ تو وہاں مرد، عورتیں، بچے غرض پورا گاؤں انھیں دیکھ کر اکٹھا ہو جاتا ہے۔ گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے اور بھارتی فوجیوں پر بلا خوف و خطر زبردست سنگ باری کی جاتی ہے یہاں تک کہ فوجی بزدلوں کی طرح دم دبا کر بھاگنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے کہ کشمیری والدین کی اکثریت خصوصاً اپنے نوجوان بیٹوں کو مسلح جدوجہد آزادی کرنے سے روکتی تھی۔انہیں بھارتی مظالم سے بچاتی تھی۔ مگر آج کشمیری خاندان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے بہادر سپوت بے وسیلہ ہوتے ہوئے بھی طاقتور دشمن سے نبردآزما ہیں۔اب منظر یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مجاہد بھارتی غاصبوں سے دوبدو لڑتا شہید ہو‘ تو اس کے جنازے پر پورا علاقہ امڈ آتا ہے۔اس موقع پر ’’ہمیں آزادی چاہیے‘‘’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے اور پاک پرچم میں لپٹا شہید بھارتی حکمرانوں کا دل دہلا دیتے ہیں ۔ اب ہزار ہا خاندان آزادی کی خاطر ہر قسم کی مصیبت و پریشانی جھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تبدیلی ایسے ہی نہیں آئی اس کے پس منظر میں ہزاروں نوجوانوں کی قربانیاں ہیں ۔ دور حاضر میں اس تبدیلی کی بہترین مثال مظفر احمد وانی ہیں۔


ای پیپر