انتخابات میں فوج اور سازش!!
23 جولائی 2018 2018-07-23



ہلاکو خان سلطنت عباسیہ کو ختم کرنے کے در پے تھا اس نے عراق پر تین مرتبہ حملہ کیا مگر اس کی بغداد پر حملہ آور ہونے کی جرآت نہ ہوئی۔ ہلاکو کے اس ارادے کو بھانپتے ہوئے خلیفہ مستعصم بلا کے ایک وزیر خاص ابن اقلمی نے تاج اپنے سر پر سجانے کی سازش تیارکی۔ ابن اقلمی کو خلیفہ کے باقی وزیر چاپلوس اور دھوکے باز سمجھتے تھے مگر خلیفہ کو یہ وزیر سب سے زیادہ پسند تھا یہاں تک کہ ولی عہد بھی اسے ناپسندیدگی کی وجہ سے بھرے دربار میں کئی مرتبہ شدید تنقید کا نشانہ بنا چکا تھا مگر رونا یہ تھا کہ اس کی چرب زبانی اور خلیفہ کے لیے مزیدار کھانوں اور اس کے حرم میں نئے نویلے اضافوں کا بیڑا اسی وزیر نے اٹھایا ہوا تھا۔ خلیفہ کی خلوتوں میں جلوتوں کو جلا دینے والا یہ وزیر اسقدر چرب زبان اور خوش آمدی تھا کہ اس نے بادشاہ کو قائل کر لیا تھا کہ وہ اپنے آرام کے اوقات میں ایک حصہ اپنے خزانے میں موجود ہیرے جواہرات کو دیکھتے ہوئے گزارے اور یہ اس کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں ان ہیرے جواہرات کی تعریف کرتا جب ولی عہد نے اس پر خلیفہ کے سامنے آواز اٹھائی کہ خزانوں کی محبت میں گرفتار ہو کر امور سلطنت سے بے بحرہ ہونا ٹھیک نہیں تو خلیفہ نے ہر بار ولی عہد کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا کرتا کہ اس کے ہیرے جواہرات اس کی
آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ خلیفہ کے حرم میں آئے دن ایک نئی حسینہ کا اضافہ کیا جاتا اور اس کے لیے ابن اقلمی خاص اہتمام کرتا تھا باقاعدہ اس سلسلے میں دوڑدھوپ کے لیے اس نے لوگ مقرر کئے ہوئے تھے جو ہر وقت ریسرچ جاری رکھتے اور خدمات سرانجام دینے میں کوتاہی نہ کرتے۔ ابن اقلمی کو جب یقین ہوگیا کہ خلیفہ اس کی مٹھی میں ہے تو اس نے اپنے معتمد خاص میں سے ایک کو ہلاکو خان کے دربار میں بھیجا اور اس شرط پر کہ خلیفہ کے بعد اسے خلافت عطا کردی جائے گی وہ ہلاکو کی مدد کرنے کو تیار ہے ہلاکو کے یقین دلانے اور حکمت عملی وضع کرنے پر اس نے بغداد اور اہل بغداد کی کمزوریاں اور شہر پر چڑھائی کے کئی طریقے ہلاکو خان کو لکھ بھیجے، اس میں سے سب سے مناسب حکمت عملی پر اتفاق ہوا اور وہ یہ تھی کہ ابن اقلمی عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالے گا اور خود اپنی فوج کو نقصان پہنچائے گا۔ اس پر خلیفہ کے اور نزدیک ہونے کے لیے ہلاکو خان نے ابن اقلمی کی بیرونی امداد بھی شروع کر دی۔ ابن اقلمی نے خلیفہ کو فوج کے خلاف اسقدر بھڑکایا اور اس کے خزانوں کے خالی ہونے کا خوف کچھ اس انداز میں دلایا کہ خلیفہ ابن اقلمی کے کہنے پر اپنی ہی فوج کے دماغ ٹھکانے لگانے پر اتر آیا۔ یہاں تک کہ ابن اقلمی نے چن چن کر تمام قابل جرنیلوں کو شہر سے دور کسی نہ کسی چھوٹی مہم پرروانہ کردیا اور بلآخر فوج کا وظیفہ تک بند کردیا گیا۔ جب فوجیوں میں چند مہینوں میں غم اور غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا اور انھوں نے خلیفہ سے اس کی شکائیت کی تو ابن اقلمی نے عوام کو فوج کے خلاف کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنا خرچہ عوام سے خراج وصول کرکے پورا کریں خلیفہ اپنے خزانے سے فوج پر جبکہ ابھی ہم حالت امن میں ہیں ایک دھیلہ نہ دیں گے۔ الغرض فوج نے عوام میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا جس پر عوام اور فوج آمنے سامنے آ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سلطنت عباسیہ کی فوج اور عوام میں نفرت انگیزی کی آگ بھڑک اٹھی۔ خلیفہ کے دربار میں ہونے والی ایک ایک سازش اور اس کی کامیابی پر ابن اقلمی ہلاکو خان کو آگاہ کرتا اور اگلی حکمت عملی وضع کی جاتی۔ بالآخر جب فوج اور عوام میں شدید نفرت پھیل گئی اور ایک دن ولی عہد کے ساتھ تمام وزرا نے مل کر ابن اقلمی کی شکائیت کی تو اس پر خلیفہ مستعصم بلا نے ابن اقلمی سے ہی مشورہ کیا جس کو ابن اقلمی نے اپنی چرب زبانی کی کمال مہارت اور فوج پر کم خرچ کرنے کے خزانوں کو پہنچنے والے فوائد کی فہرست سامنے رکھ دی اور خلیفہ سوچ بچار کرنے کی بجائے ابن اقلمی کے رنگ رلیوں کے بنائے ہوئے بازار حسن و سرور میں گم ہوگیا۔ دوسری طرف ابن اقلمی نے اس غیر معمولی واقعے سے ہلاکو خان کو آگاہ کیا اور جلد از جلد حملہ آور ہونے کی خواہش لکھ بھجوائی۔ ہلاکو خان جو پہلے سے تیار تھا آن کی آن میں بغداد پر چڑھ دوڑا یہ انتیس جنوری 1258 کا دن تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب فوج تتر بتر تھی عوام کو فوج سے نفرت تھی خلیفہ اپنے اللے تللوں میں لگا ہوا تھا اور بغداد کے حکمت عملی تیار کرنے کے ماہر سوجھ بوجھ کیماہر دارلحکمہ کے فارغ البال اس قسم کے لایعنی بحث میں لگے ہوئے تھے کہ کوا کھانا حلال ہے یا حرام اور روٹی باجرہ کی کھانے کا ثواب زیادہ ہوگا یا گندم کی۔ جب بغداد کا گھیراو ہوا اور مسلمانوں کی اکثر فوج کو ہلاکو خان تہیہ تیخ کرچکا تو ابن اقلمی کی کہنے پر خلیفہ نے شہر سے باہر نکل کر ہلاکو خان سے گفتگو کر کرے کوئی راستہ نکالنے کی حکمت عملی اپنائی اس پر ہلاکو خان نے تمام شہر والوں کو شہر سے نکل کر باہر آنے اور ہتھیار پھنکنے کی شرط رکھی جب خلیفہ شہر والوں سمیت ہلاکو خان کے پاس پہنچا تو ہلاکو خان نے قتل عام کا حکم دیا اور ایک انگریز تاریخ دان ‘مارٹن سکر’ کے بقول ایک لاکھ جبکہ باقی تاریخ دانوں مثلا ایان فریزر (دی نیویارکر) وصاف وغیرہ کا دعویٰ ہے کے دولاکھ سے دس لاکھ تک مسلمانوں کے قتل عام کا زکر کیا ہے ایک طرف ہلاکو خان کے فوجی شہر کو آگ لگارہے تھے جس میں دارلحکمہ جو کہ دنیا کی سب سے بڑی لائبریری اور ریسرچ سنٹر تھا شامل تھا تودوسری طرف ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم بلا کو ہیرے جواہرات کھانے کو کہا اس کے انکار پرکہ وہ انھیں کیسے کھا سکتا ہے پوچھا گیا کہ تم اس خزانے سے تو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنا سکتے تھے تم نے ایسا کیوں نہ کیا تو خلیفہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا چناچہ خلیفہ کوہلاکوں خان نے ابن اقلمی کے حوالے کیا کہ اسے قتل کردو۔ ابن اقلمی نے خلیفہ کو قتل کروا دیا بعد میں ہلاکو خان نے ابن اقلمی کو اپنی قوم سے غداری کرنے پر خلیفہ بنانے کی بجائے انتہائی ازیت ناک موت دی اس کا ماننا تھا جس نے اپنی قوم سے اسقدر غداری کی اور اتنے لوگ مروا دیے وہ ہمارے ساتھ کیا وفا کرے گا اور مسلمانوں کے دورِ عروج اول اختتام پذیر ہوا
آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے یہ مسلمان ریاستوں کی پہلی قوت ہے جو ایٹمی اسلحہ سے لیس ہے ہمارے فوجی جوان آئے دن جام شہادت نوش کر رہے ہیں لیکن ملک کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہیں اس فوج کو طرح طرح کی بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا سامنا ہے دنیا جانتی ہے جو فوج دینا نا ممکن ہے اب دشمن کو کوئی ابن اقلمی چاہئے جو عوام کو یقین دلائے کہ فوج عوام کی خیر خواہ نہیں بلکہ ان کے اثاثوں پر قابض ہے دشمن کو ابن اقلمی ہزار مل جاتے ہیں کیونکہ لالچی لوگوں کی کوئی کمی نہیں۔ ابھی دیکھ لیجئے آپ کو بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر ایک برگیڈ ملے گی جو عوام میں فوج کے کارنامے گنوانے والوں اور عوام اور فوج کے درمیان خوش گوار تعلقات کے خواہش مند لوگوں کو بوٹ پالشیا یا پھر کیا کچھ القابات سے نوازرہے ہیں اور ملک دشمنی اور کسی ہلاکوخان سے انعام پانے کی خواہش میں یہ ابن اقلمی پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رکھے ہوئے ہیں ان سے ہمارا ایک سوال ہے کہ اگر انھیں پاک فوج نہیں چاہئے تو پھر کونسی فوج چاہتے ہو چونکہ تاریخ شاہد ہے جب ایک فوج کسی ملک کو ہارتی ہے تو کوئی اور فوج اس کی جگہ لیتی ہے۔ یاد رہے کہ فرقہ بازی، لسانی تعصب اور زبان ونسل میں بٹے ہوئے ملک میں خاص کر انتخابات کے دنوں میں ایسے ابن اقلمیوں کا حملہ شدید ہوتا ہے چونکہ ملک پہلے ہی مخلتلف سیاسی نظریات پر بٹا ہوتا ہے ایسے میں ہارنے والی جماعت فوج پر اپنے حریف کو جتوانے کا نعرہ لگا کر عوام کو فوج کیخلاف بھڑکا کر عوام میں ہار کی خفت مٹانے کی کوشش کرتی ہے اور ابن اقلمیوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی غداری دکھائیں اورکاری وار کریں۔ اپنے اردگرد ابن اقلمیوں کو پہچانیں !!


ای پیپر