شہر ، ساون اور شام ....شہر ، ساون اور شام ....

23 جولائی 2018

اختر شمار

پنجاب کا دل اور زندہ دلان کا مسکن لاہور ، ان دنوں الیکشن کے فلیکس ،پارٹی پرچموں سے اَٹا ہوا ہے۔ ساون کے دنوں میں کبھی باغوں میں جھولے پڑتے تھے اب ساون سے لوگ پناہ مانگتے ہیں ۔ کہیں بارش کہیں دھوپ نے فضا ، شاعر کے دل کی طرح ، غیر یقینی بنا رکھی ہے۔ ادب و ثقافت کے مرکز ، لاہور شہر کی، پرانی روایات اور اقدار معدوم ہوتی جاتی ہیں ۔ ایک زمانے میں یہاں ایک سے بڑھ کے ایک ادبی اور ثقافتی شخصیت نظر آتی تھی۔ اب تو بیشتر ادبی ستارے نظروں سے بھی اوجھل ہو چکے ہیں۔ جو ”ٹانواں ،ٹانواں “ باقی ہیں انہوں نے بھی کمرشلزم کی ” سلیمانی ٹوپی“ پہن لی ہے۔ دکھائی دیں یا نہ دیں ۔ ادبی محفلوں میں بھی وہ پہلے سا دم خم نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، شہر کے سینے میں پاک ٹی ہاﺅس دھڑکتا تھا ۔اب یہاں بھی ”وبائی محلوق “ نے قبضہ کر رکھا ہے وہ زمانہ بھی تھا کہ یہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی تھی۔ ادیبوں شاعروں سے ہمیشہ چھلکتا ہوا پاک ٹی ہاﺅس مینارہ نور کی طرح تھا جو دور سے دکھائی دیتا تھا۔ اتوار اور جمعہ کو تو دور دراز سے اہل قلم تشریف لاتے تھے۔ شہر کی ادبی تقریبات اور پاک ٹی ہاﺅس میں اشفاق احمد ، انتظار حسین ، احمد ندیم قاسمی ، منیر نیازی، قتیل شفائی ، ظہیر کاشمیری، سیف الدین سیف ، احمد راہی ، شہزاد احمد ، اظہر جاوید ، یونس ادیب، جاوید شاہین ، خالد احمد اور کئی دیگر مشہور ہستیاں دیکھی جاتی تھیں۔ مگر اب وہ تاریخ ہو گئی ہیں۔ جو باقی ہیں بیشتر تقریبات سے گریزاں ہیں ، کوئی اے جی جوش جیسا بھی نہیں کہ ان بکھرے ستاروں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا بٹھا دے۔ اصل میں حالات بدل چکے ہیں یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ، شہر دور دور تک پھیل چکا ہے۔ آسودہ حال ادیب پوش علاقوں میں ہجرت کر گئے ہیں۔ اب سائیکلوں اور سکوٹروں کا دور بھی نہیں ہے، بیشتر اہل قلم ڈیفنس کو پیارے ہو گئے ہیں۔تاہم غنےمت ہے کہ ابھی چند خالصتاً تخلیقی ہستیاں آسمانِ لاہور پر جگمگا رہی ہیں ۔ مستنصر حسین تارڑ ، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، خورشید رضوی، امجد اسلام امجد ، اصغرندیم سید، یونس جاوید، ظفر اقبال بشریٰ رحمان ، سلمیٰ اعوان ، یاسمین حمید اور صحافیوں میں الطاف حسن قریشی، مجیب الرحمن شامی، عطاالحق قاسمی، ، اجمل نیازی، اور کئی دیگر تخلیق کار اپنے اپنے گوشوں میں تخلیقی چراغ جلائے نظر آتے ہیں ۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ماڈل ٹاﺅن میں تھے تو وہ گوشہ کس قدر آباد تھا۔ ان کی گفتگو میں صوفیانہ مہک ہوا کرتی تھی، جس تقریب میں آپ آتے اسے چار چاند لگ جایا کرتے ، باتوں باتوں میں لوگوں کی تربےت اور تہذےب سے کبھی غافل نہ رہتے ۔ آج تصوف کا چورن بیچنے والے دو چار لوگ ضرور موجود ہیں مگر یہ چورن نہایت بے ذائقہ ہے۔ اصل میں تصوف عمل کا نام ہے اور ہمارے براستہ کتب صوفی مشہور ہونے والے دانشو راپنی ”بکل “میں حرص اور ہاتھوں میں دنیا داری کا پرچم لئے ہوئے ہیں۔ بعض ادیب شاعر سیاست کی جھاڑیوں سے اپنی دستار الجھا بیٹھے ہیں اور کچھ ٹی وی چینلز پر ہر شام اپنا ” چھابہ “ لگا کر باتوں کا کھٹیا کھاتے ہیں ۔ راستہ دکھانے والے جب ”حبِ دنیا “سے آلودہ ہو جاتے ہیں تو ان کی بات میں تاثیر نہیں رہتی۔ یہ ساری باتیں مجھے ہمیشہ اس وقت یاد آتی ہیں جس وقت مجھے کسی ادبی تقریب میں مدعو کیا جاتا ہے۔ اب ان تقریبات میں بھی عجیب و غریب مخلوق دیکھنے کو ملتی ہے۔ مشاعروں میں سامعین نایاب ہو چکے ہیں۔ ہر شعری نشست میں لگ بھگ تیس چالیس افراد نشستوں پر نظر آتے ہیں۔ اور جوں جوں مشاعرہ آگے بڑھتا ہے، نشستےں خالی ہوتی جاتی ہیں اور لوگ اپنا کلام سنا کر نکل جاتے ہیں ،آخر میں صدرِ مجلس اور تنظیم کے چند عہدیدار باقی رہ جاتے ہیں ۔ شہر میں درجن درجن کی ” ادبی ٹکڑیاں “ بھی وجود میں آچکی ہیں ۔ ان میں سے بیشتر فیس بک پر اپنی تصاویر سے پہچان بنائے ہوئے ہیں ۔ بعض کا تخلیق سے دور کا واسطہ نہیں مگر وہ بطور تخلیق کار پہچانے جاتے ہیں ۔ یہ ”طفیلی“ خواتےن و حضرات ، سفید کاغذ پر اصلاح لیتے ہیں اور صاحب ِ دیوان بن جاتے ہیں ۔ ان کے پیچھے استاد نما بعض حریص شعراءدکھائی دیتے ہیں۔ دو چار شعراءتو خواتےن کو شاگرد بنانے کی دوڑ میں شریک ہیں اور اسے اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ بڑی عجیب سی فضا ہے ۔ اس تناظر میں اگر کہیں جینوین تخلیق کار ایک نشست میں اکٹھے ہو جائیں تو مسرّت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر طارق عزیز ان دنوں مقامی یونیورسٹی میں تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ان کی نگرانی میں کئی تحقیقی مقالے مکمل ہو چکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب انہوں نے خبر دی کہ کراچی کے ہمدم دیرینہ ڈاکٹر جاوید منظر کی شاعری کے حوالے سے مقالہ منظر عام پر آ چکا ہے۔ جس کی غیر رسمی تقریب ِ تقسیم منعقد ہوا چاہتی ہے تو میں انکار نہ کر سکا۔ ڈاکٹر جاوید منظر سے دیرینہ دوستی کا تقاضا بھی یہی تھا کہ میں وہاں پہنچتا۔ اس نشست میں اساتذہ اور ایم فل کے طلبا کی تعداد نمایاں تھی، تاہم ڈاکٹر عالم خان ، ڈاکٹر غافر شہزاد، ڈاکٹر ارشد اویسی، ڈاکٹر اظہار گلزار اور صدر نشست معروف مزاح نگار حسین احمد شیرازی کی موجودگی نے محفل میں جان ڈال دی۔ جاوید منظر سے دوستی نوّے کی دہائی میں شروع ہوئی جب ہم اکٹھے انڈیا کے مشاعروں میں مدعو کیے گئے۔ اس سفر سے مجھے جاوید منظر جیسا شاعر دوست میسر آیا۔ آپ کراچی کی نہایت متحرک ادبی شخصیت اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ خوشی اس بات کی بھی ہوئی کہ لاہور میں ان پر تحقیقی کام ہوا۔ خالد محمود نے ان کی شاعری کا فنی فکری جائزہ لیا اور یہ مقالہ کتابی صورت میں قارئین تک پہنچایا۔ اس موقع پر احباب نے جاوید منظر کی شاعری اور شخصیت پر گفتگو کی۔ غافر شہزاد نے کہا :” جاوید منظر ایک متحرک اور جینیوئن شاعر ہیں ان کیلئے ایسی نشست بڑی بڑی تقریبات سے زیادہ معتبر ہے کہ جس میں سنجیدہ ادبی موضوعات زیرِ بحث آئے“۔ عالم خان نے انہیں سچے جذبوں کا شاعر قرار دیا ۔سب سے خوبصورت گفتگو حسین احمد شیرازی کی تھی ، جنہوں نے اپنے چٹکلوں اور فکر انگیز جملوں سے سماں باندھ دیا۔ انہوں نے نام لیے بغیر ایک سرکردہ بیوروکریٹ کا واقعہ سنایا ،کہا : ”جب افسر نے اپنے صوبے کے اعلیٰ عہدیدار کو اپنا مجموعہ پیش کیا تو وہ حیران ہو کر بولے کہ آپ ان فضول سرگرمیوں کیلئے بھی وقت نکا ل لیتے ہیں اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو کسی اور محکمے میں پوسٹنگ کروا لیں“ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں تخلیق کاروں اور کتاب کی کیا اہمیت ہے۔ نشست میں جاوید منظر کو کتابیں اور پھول پیش کیے گئے۔ اور کلام ِ شاعر بزبانِ شاعر بھی سنا گیا ایک شعر چلتے چلتے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
بچھڑنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو
ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے

مزیدخبریں