وزیراعلیٰ سندھ اور تحریک انصاف کے اہم رہنما کے درمیان جھگڑے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
23 جنوری 2021 (17:16) 2021-01-23

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر علی زیدی کے درمیان ٹھن گئی جس پر دونوں نے وزیراعظم کو ایک دوسرے کی شکایت کر دی۔ 

علی زیدی نے رابطہ کمیٹی میٹنگ میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے سخت لہجے میں بات کی جس پر مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ علی زیدی نے میٹنگ میں پارلیمانی زبان اور رویے کو خاطر میں نہیں لائے ، علی زیدی نے میٹنگ میں سب کے سامنے وزیراعلیٰ سے نامناسب رویہ اختیار کیا اور وہ اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ سے نامناسب رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ 

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ رابطہ کمیٹی میٹنگ میں یہ رویہ روایات کے خلاف ہے اور میٹنگ میں علی زیدی انتہائی تکبر اور غرور سے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس خط کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہا ہوں لہذا آئندہ اجلاس میں علی زیدی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ 

ادھر وزیراعلیٰ سندھ کی شکایت کے بعد علی زیدی نے بھی اس معاملے پر وزیراعظم کو جوابی خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مراد علی شاہ نے شائستگی کی حدود پھلانگ کر وزیراعظم کو خط بجھوایا ہے اور ان کا خط ان کے دماغ میں سمائے بلاجواز تکبر اور بے وجہ غرور کا مظہر ہے۔ 

خط میں مزید کہا گیا کہ کراچی میں ترقیاتی سرگرمیوں کیلیے نگراں کمیٹی بنےچھ ماہ سے زائد ہو گئے لیکن کمیٹی میں صوبائی حکومت، اہم وفاقی و صوبائی اداروں کے ذمہ دار، 3 وفاقی وزرا بھی ہیں۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی منتقلی کا پوچھنے پرموصوف برہم ہوئے۔

خط میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ چھ ماہ سے ان اداروں کی نچلی سطح تک منتقلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کراچی کا کچرہ کیسے اٹھانا ہے اور نالے کیسے صاف کرنے ہیں اس پر کمیٹی کو کئی اجلاس کرنا پڑے۔ بنیادی شہری سہولیات پر کئی اجلاس مرادعلی شاہ کی نااہلی اور شرمناک نکمے پن کی علامت ہے لہٰذا مراد علی شاہ کو وفاقی حکومت اور قوم سے کیے وعدوں کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔

خط میں کہا گیا کہ کمیٹی رکن کے بطور منصوبوں پر پیشرفت اور تکمیل میں تاخیر پر سوال پوچھنا میرا بنیادی حق ہے۔ 

بشکریہ: نیو نیوز


ای پیپر